بارے جوتوں کے کچھ بیاں ہوجائے

بارے جوتوں کے کچھ بیاں ہوجائے

لیجئے ایک بار پھر جوتوں کا تذکرہ سامنے آگیا ہے اور اب کی بار اس تذکرے نے ساری قوم کو شرمندگی سے دو چار کردیا ہے۔ خبر ہے کہ پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان سے ایک غیر ملکی سیاح کے جوتے چوری ہوگئے۔ سائبیریا سے تعلق رکھنے والا سیاح مسجد مہابت خان کی تصاویر بنوانے کے لئے آیا تھا۔ جب فارغ ہو کر واپس آیا تو جس جگہ جوتے اتار کر چلا گیا تھا جوتے وہاں سے کوئی چوری کرکے لے گیا تھا۔ غیر ملکی سیاح اس جگہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ غیر ملکی سیاح نے وہاں لوگوں سے معصومانہ انداز میں سوال کیا کہ کیا مسلمان مسجدوں سے جوتے بھی چوری کرتے ہیں؟ مہمان کے استفسار پر شرمندہ میزبانوں نے اس کا کارن ہیروئنچیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ نشہ پورا کرنے کے لئے جوتے چوری کرتے ہیں۔ تاہم سیاح بار بار ایک ہی سوال دہراتا رہا کہ آخر مسجد سے جوتے کیوں چوری کئے جاتے ہیں۔ سیاح کا سوال اپنی جگہ اہم اور درست سہی تاہم انہیں کون سمجھاتا کہ بھائی صرف مساجد ہی سے جوتے چوری نہیں کئے جاتے بلکہ ہمارے ہاں جوتے چرائی کی ایک باقاعدہ رسم بھی ہے جو شادی کے بعد دولہا میاں کے پہلی بار سسرال آنے پر اس کی سالیاں یہ فریضہ سر انجام دیتی ہیں تاکہ انہی جوتیوں کے عوض اچھی خاصی رقم اپنے بہنوئی سے وصول کرکے گلچھرے اڑا سکیں۔

اس لئے انہوں نے مسجد میں جوتے چوری ہونے کا گلہ کیا۔ کیونکہ اور تو کوئی ایسی جگہ ہے نہیں ہاں اگر یہ پرانا دور ہوتا تو ایک اور موقع بھی اسی نوعیت کا ضرور ملتا رہتا تھا مگر ان مواقع کے حصول کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ جیسا کہ ایک بذلہ سنج شخص نے شہر کے شعراء کرام کو اپنے ہاں مشاعرے کی دعوت دی۔ مقررہ دن اور وقت پر ایک بڑے ہال نما کمرے میں فرشی نشست کااہتمام کیاگیا کہ اس دور میں مشاعرے اسی طرح سے منعقد کئے جاتے تھے۔ اب تو بہت کچھ بدل چکا ہے اور کم کم ہی مشاعروں کی فرشی نشستیں ہوتی ہیں۔ بہر حال جب مشاعرہ کاآغاز ہوا تو میزبان کی پہلے سے دی ہوئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس کا گھریلو ملازم بازار کھانا لینے چلاگیا۔ مشاعرہ خاصی دیر تک چلتا رہا۔ اختتام پر انواع و اقسام کے کھانے دستر خوان پر چن دئیے گئے۔ مہمان کھانوں سے لطف اندوز ہوتے اور میزبان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔ تو وہ مسکراتے ہوئے بار بار یہی کہتا کہ حضور' یہ آپ کی جوتیوں کے طفیل ہے اور جب مہمان فارغ ہو کر باہر نکلے تو انہیں پتہ چلا کہ واقعی اتنا اچھا کھانا ان کی جوتیوں کو بازار میں بیچ کر منگوایا گیا تھا۔ چونکہ مساجد میں مشاعرے بھی منعقد نہیں ہو تے البتہ ہیروئنچیوں کے داخلے پر کوئی پابندی بھی نہیں اور یہ ہیروئنچی وضع قطع کے لحاظ سے خواجہ الطاف حسین حالی کے اس شعر والے بزرگ کی مانند بھی نہیں ہوتے جن کے بارے ان کا شعر بہت ہی مشہور ہے کہ
اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
اگرچہ بعد میں بعض محققین نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ شعر یوں نہیں بلکہ خواجہ الطاف حسین حالی نے اسے یوں لکھا کہ
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار
بات درست بھی ہے کیونکہ ایک تو جوتے عموماً مسجد کی دہلیز پر اتارے جاتے تھے اور انہیں چوری کرنے کے لئے مسجد کے اندر آنا ضروری نہیں تھا اور اب تو لوگ عموماً مساجد کیا بیت اللہ شریف اور مسجد نبویۖ میں بھی جوتے لے جا کر ان کے لئے مخصوص الماریوں میں رکھ کر ان ریکس کے نمبر نوٹ کرلیتے ہیں تاکہ واپس آتے ہوئے آسانی سے اٹھا کر پہن سکیں۔ اس حوالے سے تو سیاح کو شکر کرنا چاہئے کہ ان کی جیب بچ گئی صرف جوتوں پر ہی مصیبت نازل ہوگئی۔ ویسے وہاں پر کچھ افراد نے انہیں نئے جوتے لے کر دینے کی پیشکش ضرور کی لیکن سیاح نے یہ کہہ کر پیشکش قبول نہیں کی کہ ان کے جوتے بہت مہنگے تھے۔ اس ضمن میں خود میرے ساتھ قیام ملتان کے د وران ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب میں ریڈیو پاکستان ملتان میں پروگرام منیجر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ میں پشاور سے ساتھ لے جانے والے پشاوری چپل پہلی بار پہن کر ملتان پریس کلب میں ایک تقریب کی کوریج کے لئے گیا تھا' اذان ہوئی تو قریبی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے کئی لوگ چلے گئے تھے۔ میں بھی نماز پڑھنے کے لئے جوتے پشت کی دیوار کے ساتھ دوسرے لوگوں کی طرح رکھ کر آگے چلاگیا۔ نماز سے فارغ ہوا تو جوتے غائب تھے۔ اگلے روز میٹنگ میں ساتھیوں کو واقعے سے آگاہ کیا تو ایک بذلہ سنج ساتھی نے کہا' سائیں کس نے مشورہ دتا سی کہ جوتیاں پچھلی صف اچ رکھ گھنو۔ بہر حال یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ ایک غیر ملکی سیاح کے ساتھ کسی بدبخت ہیروئنچی کی وجہ سے پیش آنے والا واقعہ پوری قوم کو شرمندگی کا باعث بنا۔ حالانکہ اس نے جوتے کسی کے ہاتھ زیادہ سے زیادہ سو پچاس روپے ہی میں فروخت کئے ہوں گے اور اس سے ایک سگریٹ برابر ہیروئن لے کر وقتی طور پر حظ اٹھایا ہوگا جبکہ مہمان ساری زندگی یہ واقعہ جا بجا سنا سنا کر پاکستانیوں پر لعنت بھیجتا ہوگا۔ اور عین ممکن ہے کہ اگر اس نے اپنی یاد داشتیں قلمبند کرلیں تو یہ کہانی مستقل طور پر پاکستانیوں کی بدنامی کا باعث بنے گی۔ اس لئے کیا ہی اچھا ہوتا کہ محولہ سیاح کے ساتھ ڈیوٹی پر آنے والا اہلکار اس ضمن میں احتیاط کا دامن تھام کر سیاح کو پہلے سے ہی ہوشیار کردیتا اور اس کی جوتیوں کی حفاظت کا مناسب بندوبست کرلیا ہوتا۔

اداریہ