مشرقیات

مشرقیات

قاضی ابی علی المحسن التنوخی نے اپنی کتاب میں واقعہ لکھا ہے ، جو مال و دولت کی محبت میں پاگل ہو کر حق تعالیٰ کی نافرمانی میں تمام حدود کو پار کرنے والوں کیلئے درسِ عبرت ہے ۔ ایک تاجر سفر پر تھا ۔ اس کے پاس کافی رقم تھی۔ وہ ایک شہر میں رات گزارنے کیلئے پہنچا ۔ ایک آدمی سے اس کے گھر میں رات گزارنے کی درخواست کی ، جو اس گائوں والے نے اس مسافر کی مالداری اور اچھی حالت دیکھ کر قبول کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا ۔
باتوں باتوں میں اس میزبان نے اندازہ لگا لیا کہ اس مسافر کے پاس کافی رقم موجود ہے ، اس نے اس مسافر کو ٹھکانے اور رقم لوٹ لینے کا پروگرام بنالیا ، رات کو اس کے لیے میزبان نے بستر بچھا کر بتا دیا کہ تمہارا بستر ہے ، اس پر سو جانا اور اپنے بیٹے کو بھی مہمان کی وجہ سے اسی کمرے میں سونے کے لئے بھیج دیا ۔ جس کے لیے دوسرا بستر لگا دیا گیا تھا ۔ ہر ایک کو ان کا بستر بتا کر یہ میزبان چلا گیا ، اتفاق کہیے یا بد نیتی یا خیانت پر میزبان کو خداکی فوری سزا کہ مہمان اور میزبان کا بیٹا بیٹھے باتیں کرتے رہے کہ مہمان رفع حاجت کے لیے باہر نکلا ، واپسی میں کچھ دیر ہوگئی ، جب واپس کمرے میں آیا تو میزبان کا بیٹا جو مہمان کے بستر پر بیٹھے بیٹھے باتیں کر رہا تھا ، وہیں پر سو چکا تھا ۔ مہمان نے اسے نیند سے اٹھانا مناسب نہ سمجھا اور خود جا کر میزبان کے بیٹے کے بستر پر سو گیا ۔ جب تقریبا ًآدھی رات ہوچکی ، ہر طرف ہوکا عالم تھا ، میزبان آیا چپکے سے کمرے میں داخل ہوا اور سیدھا مہمان کی چارپائی پر لیٹے آدمی کے گلے میں رسی ڈال کر گلا گھونٹ دیا ۔ تھوڑی دیر تک تڑپنے کے بعد کمرے میں خاموشی چھاگئی ۔ اس تڑپنے اور لوٹنے پوٹنے سے مہمان بھی جاگ گیا ، میزبان کو اپنے بیٹے کے سینے پر چڑھے دیکھ کر گھبرا کر فوراً کمرے سے باہر نکل کر شور مچا نے لگ گیا ۔ ارد گرد کے سارے پڑوسی گھروں سے نکل آئے ۔ انہیں اس نے سارا قصہ بتایا ۔ سارے لوگ اس میزبان کے گھر گھس گئے ، جہاں اس کے بیٹے کی لاش پڑی تھی اور وہ خود حیران و پریشان کھڑا تھا ، تھوڑی ہی دیر بعد اسے گرفتار کرلیا گیا ،مہمان نے ا پنا مال لیا اور چلتا بنا ، مگر میزبان کو اس کی نیت کا بدلہ مل گیا ۔
بحوالہ :(الفرج بعد الشدة و الضیقةجلد نمبر 1)
حضرت شیخ رکن الدین متوفی 730ھ کا معمول تھا کہ وہ جب بھی سلطان قطب الدین خلجی کے پاس تشریف لے جاتے تو راستے میں اپنی سواری کو آہستہ آہستہ چلاتے ، تاکہ جو لوگ بادشاہ وقت سے اپنی کچھ درخواستیں منظور کروانا چاہیں تو وہ درخواستیں آپ ان سے لے لیں، شیخ جب واپس ہوتے تو وہ تمام درخواستیں واپس ان لوگوں تک پہنچا دیا کرتے تھے ، پھر شیخ فرماتے کہ مخلوق کی خدمت کرنے سے مجھے جو لطف آتا ہے ، وہ شاید کسی اور چیز سے نہ حاصل ہوسکے ۔
(سید العارفین بحوالہ بزم رفتہ کی سچی کہانیاں )

اداریہ