بااثر عناصر کے احتساب کا خواب

بااثر عناصر کے احتساب کا خواب

نیب کی جانب سے سابق آمر جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں لاہور میں ریلوے کی انتہائی قیمتی ایک سو چالیس ایکڑ اراضی کی اونے پونے داموں فروخت میں تین سابق جرنیلوں سمیت صوبوں میں بد عنوانی کے اہم واقعات کی تحقیقات بشرط تکمیل کارروائی احسن قدام ہے جبکہ وفاقی وزارت صحت کے معاملات کی چھان بین اورایک خاتون وزیر مملکت کے خلاف تحقیقات کا عندیہ خوش آئند امر ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کئی سابق ڈائریکٹر جنرلز اور عملے کے خلاف تحقیقات حوصلہ افزا امور ہیں۔ وطن عزیز میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اوراختیارات کا ناجائز استعمال کوئی پوشیدہ حقیقت ہے نہ گھڑی ہوئی کہانیاں ہیں۔ یہ روز روشن کی طرح عیاں معاملات ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے معاملات کا نوٹس لینے اور اس طرح کے عناصر کو سزا دلوانے کا کوئی انتظام نہیں خاص طور پر ریٹائر ڈ جنرلز ‘ ججز‘ جرنلسٹس جیسے قبیلے کے لوگ تو کسی احتساب کے زمرے میں ہی شمار نہیں ہوتے حالانکہ اگر ان افراد میں سے دو چار کا بھی صحیح معنوں میں احتساب شروع ہو جائے تو ملک میں پورے نہیں تو کرپشن و بدعنوانی کے آدھے واقعات کی تو یقینا روک تھام ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں من حیث القوم اس امر کا تعین کرنا ہوگا کہ بد عنوان اور راشی جس مقتدر و محترم ادارے ‘ طبقے اور برادری سے تعلق رکھتا ہو اس کا فعل قابل دفاع نہیں بلکہ قابل مواخذہ ہے۔ کسی اہم عہدے پر متمکن شخص کو محض اس کے عہدے اور اس ادارے کے وقار کو ٹھیس پہنچنے کی خاطر سزا نہ دی جائے تو یہ پورے ادار ے کے وقار کو دائو پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ اس طرح سے ہی اداروں میں رشوت و بدعنوانی پروان چڑھتی ہے۔ ادارے کھوکھلے ہوتے ہیں اور خسارہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جن اداروں میں اندرونی آڈٹ اور سزا و جزاء کا نظام موجود ہے یہ ان اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاً بدعنوانی کا ارتکاب ہونے ہی نہ دیں اور ایسا خلا نہ چھوڑا جائے کہ بد عنوانی کی نوبت آئے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوسکا تو پھر اس امر کی ہر گز گنجائش نہ رکھی جائے کہ ادارہ جاتی کارروائی اتنی نرم ہو کہ ہڑپ مال کو ہڑپ ہی سمجھ کر ملازمت سے برطرفی جیسے نمائشی اقدام پر اکتفا کیا جائے۔ ملازمت سے برطرفی کی سزا اس کرپشن کی ہونی چاہئے جو محدود پیمانے پر ہوئی ہو۔ جہاں نسلوں تک کے لئے مال حرام کا ڈھیر لگا دیاگیا ہو وہاں محض ملازمت سے محرومی کی سزا کوئی سزا ہوتی ہی نہیں۔ بہر حال یہ تو حفظ ما تقدم ہی کی بحث تھی جب بدعنوانی کے مقدمات نیب میں آجائیں تو پھر نیب کو اتنا طاقتور اور با اختیار ہونا چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرسکے۔ اسے بد قسمتی ہی گردانا جائے گا کہ جن تین سابق جرنیلوں کا اب نام آیا ہے ان کے پہلے بھی احتساب کی کوشش ہوئی تھی لیکن نتیجہ معاملے کو دبانے پر منتج ہوا۔ اب ایک بار پھر اس معاملے کو اٹھایاگیا ہے تو اس امر کی توقع کی جانی چاہئے کہ ان افراد کو اپنے سابق با وقار ادارے کی اوٹ میں چھپنے دینے کی بجائے وہ ادارہ خود ان عناصر کو سزا دلوانے کے لئے متحرک ہو جائے تاکہ وطن عزیز میں اس درجے کے احتساب کی مثال قائم ہوجائے۔ علاوہ ازیں صحت کی وزیر مملکت سمیت پی ڈی اے کے سابق ڈی جیز کے خلاف جو الزامات ہیں ان کی تحقیقات میں بھی کوئی ایسی خامی اور کمی نہ رہنے دی جائے کہ ان کو بچ نکلنے کا موقع ملے۔ نیب جب کسی معاملے کا نوٹس لیتا ہے اور تحقیقات کا آغاز ہوتا ہے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ملزموں نے سب کچھ اس بھونڈے طریقے سے ہڑپ کئے تھے کہ ان کی سزا یقینی ہے مگر رفتہ رفتہ نیب کا شکنجہ اس طرح ڈھیلا پڑجاتا ہے یا ڈھیلا کردیا جاتا ہے کہ ملزمان صاف بچ نکلتے ہیں۔ گو کہ نیب کے موجودہ چیئر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال ایک اصول پسند اور سخت گیر شخص سمجھے جاتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ موصوف کس قدر ثابت قدمی سے بدعنوان عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں اور ملک میں احتساب کی مثال قائم کرتے ہیں۔ جن جن اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں اور افراد کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دی جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیب کے سربراہ اور متعلقہ افراد کو اس امر کا اطمینان ہوتا ہے کہ ان افراد نے بد عنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کاارتکاب کیا ہوتا ہے اور ان کیخلاف کافی ثبوت اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یقینا ایسا ہی ہوتا ہوگا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر رفتہ رفتہ ایسا کیا ہوتا ہے کہ نیب کوئی کیس ثابت نہیں کرپاتی اور کھیل ختم پیسہ ہضم والا معاملہ ہوتا ہے۔ نیب کے سربراہ اور اس کی قیادت جب تک اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پاتے اور صلاحیت کے حامل افراد کی تقرری کرکے دیانتداری کے ساتھ تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی اس قسم کے اجلاسوں کی حیثیت نشستند و گفتند و برخواستند سے زیادہ کی نہیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ نیب اپنی کمزوریوں پر قابو پائے گا اور خود کو ایک فعال ادارہ ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔

اداریہ