Daily Mashriq


پاکستانیوں بارے سعودی حکومت کے امتیازی قوانین

پاکستانیوں بارے سعودی حکومت کے امتیازی قوانین

ایک رپورٹ کے مطابق سعودی آجر کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے دو سال بعد بھی پاکستان واپس آنے والے بہت سے ملازمین اب تک اپنے بقایاجات کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔پاکستان سمیت سات ملکوں کے لوگوں کو نکالا گیا تھا جن میں ترکی، مصر، لبنان، فلپائن اور انڈیا بھی شامل ہیں۔لیکن صرف پاکستانیوں کو ان کے بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ حکومتی نمائندوں نے سعودی عرب سے لوٹنے والے ملازمین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سعودی حکام سے بات چیت کا عمل جاری ہے جس سے ان کے بقایاجات دلانے میں مدد کی جائے گی لیکن اس یقین دہانی کے باوجود متاثرین 2016ء سے اب تک بقایاجات سے محروم ہیں اور مجبوراً انہوں نے کراچی پریس کلب اور اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانیوں کے ساتھ سعودی عرب کی حکومت کا رویہ صرف متاثرین کی حد تک ہی معاندانہ نہیں بلکہ اب تو حج و عمرہ جیسے فریضے کی ادائیگی کے خواہشمندوں کو دو دو قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ یہ سلوک دنیا بھر میں سوائے پاکستانیوں کے اور کسی کے ساتھ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی سعودی حکام میں اتنی سکت ہے کہ وہ دیگر ممالک کے شہریوں سے اس طرح کا سلوک کرسکیں کیونکہ وہاں کی حکومتیں اپنے شہریوں کی عزت نفس اور ان سے سلوک کا پورا نوٹس لیتی ہیں جبکہ پاکستانی حکمران اور قیادت سعودی حکمرانوں کی خوشنودی کو اپنے قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اس سے بڑھ کر پاکستانیوں سے سعودی حکومت کا معاندانہ سلوک کیا ہوگا کہ پاکستانیوں کو دوسری مرتبہ عمرہ کی ادائیگی پر دو ہزار ریال اضافی ادائیگی کرنی پڑتی ہے جبکہ سعودی شاہی خاندان کی شراکتی بھارتی کمپنی جاکر فنگر پرنٹ دینے کی شرط رکھی گئی ہے یہ دونوں لوازمات دنیا کے کسی ملک کے شہریوں کے لئے ضروری نہیں جس ملک کو ہم اپنی فوج دے کر محفوظ بنانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں اس ملک میں پاکستانیوں سے یہ سلوک سمجھ سے بالا تر ہے۔ اگر پاکستانیوں سے سعودیوں کی نفرت کا عالم یہ ہے تو پھر پاک فوج کے جوان بھی ہمارے ہی بیٹے ہیں حکومت پاکستان کو متاثرہ محنت کشوں کے بقایاجات دوسری مرتبہ حج و عمرہ پر جانے والوں پر دو ہزار ریال کا ٹیکس اور بلا وجہ فنگر پرنٹس کی پابندی کرانے کے امتیازی سلوک پر سنجیدگی سے بات کرلینی چاہئے اور ان کو ایسے معاملات سے گریز کا مشورہ دینا چاہئے جس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوریوں کا احساس پیدا ہو۔

فاٹا میں محفوظ اور کراچی میں غیر محفوظ قبائلی

اسے قبائلی عوام کی بدقسمتی اور ان پر ظلم سے ہی محمول کیا جائے گا کہ قبائلی علاقہ جات میں امن کا دور تو لوٹ آیا لیکن قبائلی نوجوان اپنے علاقوں میں تو محفوظ ہیں مگر ملک کے دیگر علاقوں خاص طور پر کراچی میں ان کی زندگیاں محفوظ نہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ کراچی پختونوں کا سب سے بڑا شہر بن چکا ہے جس کی طرف مراجعت سوائے روز گار اور حصول تعلیم کے اور کوئی وجہ نہیں مگر اب کراچی نہ تو کاروبار کے لئے محفوظ رہا اور نہ ہی طالب علموں کو تحفظ حاصل ہے۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد باجوڑ کے نوجوان طالب علم احمد شاہ کی ٹارگٹ کلنگ پر باجوڑ کے عوام کا احتجاج اور مظاہرہ فطری امر ہے لیکن جہاں ریاست و حکومت اپنے ہی ایک وردی پوش کے آگے بے بس ہو جائے اور عدالتیں مظلومین کو انصاف کی فراہمی میں تہی دست دکھائی دیں وہاں احتجاج کا صدا بصحرا ثابت ہونا فطری امر ٹھہرتا ہے۔ قبائلی نوجوانوں اور عوام کا مایوسی کے ان لمحات میں خدانخواستہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کے خطرے کو نظر انداز اس لئے نہیں کرنا چاہئے کہ جب ہر طرف سے راستے بند ہوں گے تو قبائلی عوام کے پاس انتہا پسندی پر اتر آنے کے اور کونسا راستہ باقی بچے گا؟وفاقی حکومت اور حکومت سندھ کو چاہئے کہ وہ سنگین ہوتے اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور دونوں واقعات میں ملوث ملزموں کی گرفتاری یقینی بنا کر سندھ میں مقیم پختونوں کو تحفظ و انصاف کا احساس دلائے اور قبائلی عوام میں پھیلی بے چینی کا خاتمہ کرے۔

قابل تقلید امر

مقامی رفاہی ادارے کی طرف سے گائوں عیسیٰ خیل توپچیان یونین کونسل پجگی میں نادار اور یتیم بچوں میں کپڑے اور خاص طور پر سکول بیگز کی تقسیم قابل تقلید کام ہے۔ دیہات اور مضافات میں غربت اور کم علمی کی بناء پر بچوں کی تعلیم پر من حیث المجموع توجہ نہیں دی جاتی خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کا تو رواج ہی نہیں۔ اس صورتحال کی تبدیلی کے لئے جہاں شعور اجاگر کرکے والدین کو بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے وہاں اگر رفاہی ادارے اور مخیر حضرات اگر بچوں کے لئے پوشاک اور یونیفارم اور بستے و کتابوں کا بندوبست کریں تو یہ بڑی قومی خدمت ہوگی۔

متعلقہ خبریں