Daily Mashriq


آئین بالاتر ہے

آئین بالاتر ہے

آئین پاکستان 1973ء میں متفقہ طور پر منظور ہو ا تھا۔ آئین ساز اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے ارکان نے مولانا مفتی محمود ‘ ولی خان ‘ پروفیسر غفور اور مولانا شاہ احمد نورانی سمیت اس پر دستخط کیے تھے۔ ماسوائے جہاں تک اس قلم کیش کو یاد ہے ،تین ارکان کے۔ اجمل خٹک جوچھپ کر افغانستان کی سرحد پار کر گئے تھے۔ عبدالحئی بلوچ جو روپوش ہو گئے تھے ۔ ان دونوں کا تعلق نیپ سے تھا اور تیسرے خود پیپلز پارٹی کے وزیر دفاع میر علی احمد تالپور کے دستخط نہیں ہیں جو پیر پگاڑا کے مرید تھے۔ کہنا مقصود ہے کہ 1973ء میں جو پاکستان کا آئین بنا اس پر اس وقت جن سیاسی جماعتوں کو آئین ساز اسمبلی میں نمائندگی حاصل تھی ان سب کے ارکان اور لیڈروں نے دستخط کیے تھے۔ ان میں سے چیدہ چیدہ پارٹیاں آج بھی پاکستان کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ آئین ساز اسمبلی آئین کی منظوری کے ساتھ ہی قانون ساز اسمبلی بن گئی۔یعنی آئین کی خالق اسمبلی اس آئین کی منظوری کے بعد خود ہی اس کی تابع بن گئی۔ آئین کی خالق اس اسمبلی کے ارکان نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ بھٹو صاحب مرحوم پر اسی آئین کے تحت قتل کا مقدمہ چلا ، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ عوام کے بھاری اکثریت سے منتخب وزیر اعظم ہیں اس لیے ان کا فیصلہ آئین کے تحت قائم ہونے والی عدالت کی بجائے آئین کے تحت قائم ہونے والی پارلیمنٹ کرے گی۔کل تک معزول وزیر اعظم اور ان کی جماعت کے چند وزراء یہ کہتے نظر آتے تھے کہ عوام نے میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول نہیں کیا ہے۔ آج وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی ان میں شامل ہو گئے ہیں جو کل تک کہتے تھے کہ ان کی جماعت جس کے ’’صدر‘‘ میاں نواز شریف ہیں اور وہ خود عدالت کا احترام کرتے ہیںوہ بھی انہی وزراء میں شامل ہو گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ عوام نے یہ فیصلہ قبول نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ عوام نے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول نہیں کیا۔ کیا نواز لیگ کے وزراء نے کوئی ریفرنڈم کروایا؟ کیا آئین پاکستان میں عدالتی فیصلوں پر ریفرنڈم کروانے کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ان کے اس دعوے کو تسلیم کرنے کی بنیاد کیا ہے کہ عوام نے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول نہیں کیا؟

کیا ان جلسوں میں لگائے گئے نعرے جنہیں ’’عوامی عدالت‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے؟ ’’عوامی عدالت‘‘ کا مطلب ہے ’’گروہی ردِعمل ‘‘۔ اس کی مثالیں ہمارے ملک میں برپا ہو چکی ہیں جب گروہوں نے کسی کو چوری ‘ ڈکیتی یا کسی اور الزام کے تحت پکڑکر مار مارکرمار ہی ڈالا۔ ’’عوامی عدالت‘‘ کے فیصلے کوآئین اور قانون کے تحت قائم ہونے والی عدالت پرفوقیت دینا آئین پاکستان کے خلاف بغاوت شمارکی جانی چاہیے۔یہ نظام عدل کو مسمار کرنے کی کوشش ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسمبلی کے ایوان میں جس تقریر میں یہ کہا کہ ججوں کے طرز عمل پر بحث ہونی چاہیے اسی تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرہ کار تک محدود رہنا چاہیے۔ یہ دائرہ کار آئین پاکستان میں طے شدہ ہے جس کے تحت پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے۔ ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آئین میں یہ طے شدہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوںکے طرز عمل کو زیربحث نہیں لایا جا سکتا۔ تو پھر وزیر اعظم عباسی اور پارلیمنٹ کو آئین میں طے کردہ دائرہ کار کے اندر رہنا چاہیے اور ججوں کے طرز عمل کو زیر بحث لانے ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ تاآنکہ وہ اس دائرہ کار سے تجاوز کرنے پر آمادہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے۔ یقینا ہے جبکہ آئین میں ترمیم کا بھی پارلیمنٹ کو حق ہے ۔ یہ حق اسے آئین نے دیا ہے۔ پارلیمنٹ قانون بنا سکتی ہے لیکن آئین کے اندر رہتے ہوئے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن آئین پاکستان اس سے بالاتر ہے ۔ اور یہ کہ پارلیمنٹ آئین پاکستان سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی۔ یعنی پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار وہاں تک ہے جہاں تک آئین اسے فراہم کرتا ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد ججوں کے کردار کو زیر بحث لانے اور ’’عوامی عدالت‘‘ کو آئین اور قانون کے تحت قائم ہونے والی عدالتوں کے برابر یا ان پر فوقیت کی حامل قرار دینے کی مغالطہ آرائی اب ختم ہوجانی چاہیے۔ آئین سارے پاکستان کا متفقہ آئین ہے ۔ پارلیمنٹ ‘ انتظامیہ اور عدلیہ اسی کے تحت وجود میں آتے ہیں۔ اور آئین کی تشریح اعلیٰ عدالتیں کرتی ہیں۔ عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے صادر کرتی ہیں کسی کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ عدالتوں کے فیصلوں کے بارے میں کہہ سکے کہ انہیں عوام نے مسترد کر دیا ہے۔اسی طرح کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرح عدالت کے فیصلے کو کمزور کہہ سکے۔ عدالتوں کے فیصلوں کو یا تو صرف تسلیم کیا جا سکتا ہے یا ان کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ عمران خان کو ایسے تبصرے کی بجائے خود عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم عباسی کے بیان کے بعد یہ بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کیاگیا تو وہ عوام کو سڑکوں پر لائیں گے۔ سپریم کورٹ آف ،پاکستان کی سپریم کورٹ ہے ، پارلیمنٹ کی بھی ، ارکان پارلیمنٹ کی بھی ،سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کی بھی اور تمام شہریوں کی بھی ۔ سپریم کورٹ کا احترام سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ آئین کے تحت قائم ہونے والا ادارہ ہے۔ اس کی بے توقیری آئین پاکستان سے بغاوت ہے۔ لیکن عمران خان کے بیان سے جھلکتا ہے کہ گویا سپریم کورٹ کو متنازع بنایا جا رہا ہے جس کے خلاف وہ نبرد آزما ہوں گے ،ایسا تاثرقائم نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ہر پاکستانی پر سپریم کورٹ کے احترام کی پاسداری لازم ہے کیونکہ یہ ہر اس شخص کے وقار کی علامت ہے جو پاکستان کا شہری ہے اور آئین پاکستان کا پاسدار۔

متعلقہ خبریں