وسائل اور مسائل ، عوام کا برا حال

وسائل اور مسائل ، عوام کا برا حال

پاکستان کے قیام کے وقت صرف مغربی پاکستان کی آبادی تین کروڑ تیس لاکھ تھی ۔ آج صوبہ پنجاب کی آبادی اس وقت کی کل آبادی سے زیادہ ہے اور صرف کراچی کی آبادی تقریباً اُس وقت کے مغربی پاکستان کی کل آبادی کے قریب ہے ۔ پاکستان کے سب سے چھوٹے صوبے خیبر پختونخوا کی آبادی تین کروڑ پچپن لاکھ ہے وطن عزیز کے سارے بڑے شہروں ، کراچی ، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ ، ملتان ، فیصل آباد ، راولپنڈی وغیرہ سب کا ایک ہی حال ہے یعنی آبادی زیادہ اور وسائل کم او رگاڑیا ں بے ہنگم ، ان شہروں کے بازاروں میں صحیح معنوں میںہجوم رہتا ہے ۔ پائوں لگانا تو درکنار اب واقعی تل دھرنے کی جگہ مشکل سے میسر آتی ہے ۔ پاکستان کے بڑے بڑے مسائل میں بے ہنگم اور بڑھتی ہوئی آبادی بھی ٹاپ تھری میں جگہ پاتی ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ 1950اور 1958ء کے درمیان ہماری آبادی محدودوسائل کے سبب کچھ سمٹی سمٹی رہی لیکن شاید ایوب خان کے سبز انقلاب کے طفیل جب لوگوں کو روٹی میسرآئی تو بس پھر آبادی پر کوئی کنٹرول نہ رہا اور وقت گزر نے کے ساتھ جہاں ایک طرف سائنسی ترقی کے سبب زراعت اور صنعت وحرفت میں دن دگنی اور رات چو گنی ترقی ہونے لگی تو یار لوگوں نے اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آبادی میں ترقی کرنی شروع کی ۔ ویسے عجیب بات یہ ہے کہ یورپ اور مغرب میں سائنسی و صنعتی ترقی کے ساتھ آبادی میں اضافے پر قابو پالیا گیا اور اُن کی صحت اور عمر میں اضافہ ہونے لگا ۔ چین نے بھی سخت قانون سازی کے ذریعے اپنی آبادی کو جو انقلاب سے پہلے بڑھی تھی ، لیکن بعد کی حکومتوں نے ایک طرف آبادی کو کنٹرول کیا اور دوسری طرف وسائل کو ترقی دے کر اپنے ہاں غربت میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے معیار زندگی کو مغرب کے برابر لاکھڑ ا کیا ۔ پاکستان میں طر فہ تماشا یہ ہے کہ نہ تو کما حقہ ، سائنس و صنعت نے ترقی کی ، نہ آبادی میں ہوش ربا اضافے کو روکنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے اور نہ ہی دستیاب وسائل کو سماجی عدل و انصاف کے ساتھ عوام تک پہنچایا ۔ بلکہ جوں جو ں وقت گزرتا گیا ، وطن عزیز میں امرا ء کی تعداد اور وسائل میںاضافہ ہوتا گیا اور غربا کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور وسائل سے محرومی میں اضافہ ہونے لگا ۔ تقریباً نوے فیصد وسائل دس فیصد امراء کے پاس اور دس فیصد وسائل نوے فیصد آبادی میں جس کی لاٹھی اُ س کی بھینس کے مطابق تقسیم ہورہے ہیں ۔ اس کا نتیجہ اس صورت میں سامنے آیا ہے کہ غریب لوگوں نے گویا امراء وزراء سے انتقام لینے کے لئے آبادی میں اضافہ کر کے ایک ایسی صورت حال پیدا کر لی ہے کہ نہ بازاروں میں جگہ ملتی ہے اور نہ سکولوں اور ہسپتالوں میں ۔۔سڑکوں پر گاڑیوں کی کثیر تعداد کے باوجود عوام کو دفاتر ، سکولوں ، اور دیگر ضروری مقامات پر بروقت پہنچنے میں سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں آبادی میں ممکنہ اضافہ اور مردم شماری کے مطابق سائنسی و تیکنیکی بنیادوں پر منصوبہ بندی ہوتی ہے ۔ سڑکوں ، شاہراہوں ،ہسپتالوں ، جامعات ،سکولوں اور کالجوں کی تعمیر و توسیع کے لئے کم از کم آئندہ پچیس برسوں کا تخمینہلگا کر انتظامات و اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن وطن عزیز میں لاہور ،کراچی اور پشاور دنیا کے بے ہنگم شہروں میںشمار کئے جا سکتے ہیں ۔ لاہور میںتو جیسے تیسے بڑی باتوں اور اعتراضات و تنقید کے باوجود سڑکوں شاہراہوں انڈر پاسز ، میٹرو بس اور میٹرو ٹرین وغیر چلانے کے انتظامات کئے گئے تاکہ عوام کے لئے مواصلات کے ذرائع میں آسانی اور ارزانی فراہم ہو ۔اگرچہ اس کے فوائد اور نقصانات بارے مختلف آراء ہیں ۔ میٹرو ٹرین اور بسوں نے لاہور کے تاریخی و ثقافتی مقامات کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ، لیکن اب وہاں حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور لوگ میٹرو سے مستفید ہورہے ہیں ۔ لیکن اپنے پشاور میں تو گزشتہ دو تین مہینے سے اتنا بُرا حال ہے کہ پشاور کے مشرق سے مغرب حیات آباد تک گرد و غبار ، کیچڑ ، تنگ کچی سڑکوں کے سبب جہاں صبح و شام گاڑیوں کے حادثات اور اس کے نتیجے میں لوگ سڑکوں پرگتھم گتھا اور دست بہ گریباں ہوتے ہیں وہاں سرداڑھی کپڑوں اور گاڑیوں کا برا حال ہوتا ہے ۔ سڑکوں کے دونوں طرف دکانداروں اور اُن کے خریداروں کا حال ناقابل بیان ہے ۔ پشاور کی سڑکوں کے بیچوں بیچ کتنے درخت پودے اور پھول آربی ٹی کی نذر ہوئے ۔۔۔اور دیگر حوالوں سے کتنا نقصان ہوا یہ الگ داستان ہے ۔ اوریہ اس لئے ہوا کہ ہمارے ہاں کام دیرسے اور منصوبہ بندی کے بغیر ہوتے ہیں ۔ اگر سڑکوں کے درمیان اور اطراف میں کھدائی مرحلہ وار اس طرح سے ہوتی کہ سروس روڈ کو عوام کے لئے پہلے سے تارکول بچھا کر تیار کیا جاتا تو عوام کو اتنی زیادہ تکلیف و مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ لیکن اب جب پشاورادھڑ چکا ۔۔اس وقت اتنی سی درخواست اور تجویز کی جا سکتی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے اور ہماری دعا ہے کہ آئندہ انتخابات سے پہلے پہلے یہ مکمل ہوجائے ۔۔۔ورنہ اُس تصور سے دل بیٹھنے لگتا ہے کہ اے این پی دور کے بعض پل اور سڑکیں برسوں ادھڑی پڑی رہیں ۔۔۔یا کراچی میں ایک شاہراہ سولہ برس میں پا یۂ تکمیل کو پہنچی اور سُنا ہے کہ وہ اب بھی نا مکمل ہے صرف وزیراعظم کے ہاتھوں افتتاح کرایا گیا ہے ۔ اللہ پشاور پر رحم فرمائے ۔

اداریہ