Daily Mashriq


بھوک کا رزق بننے سے بچنے کی ضرورت

بھوک کا رزق بننے سے بچنے کی ضرورت

انتہائوں میں تقسیم سماج میں ہر شخص پسندیدہ فرد‘ ادارے‘ نسل‘ جماعت اور عقیدے کا وکیل‘ ترجمان اور محافظ ہے۔ اجتماعی ضمیر کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ انسانیت‘ دستور‘ مساوات خاصے کی چیزیں ہوئیں۔ جو چیز ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں کیا مجال اس پر دوسروں کا مساوی حق تسلیم کریں۔ آپ تصویر کا دوسرا رخ دکھائیے تو سہی پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ اس کج فہمی کے ساتھ کتنے چند زندہ رہا جاسکتا ہے؟ سسک سسک کر جینے اور اطاعت برانڈ بت پرستی کو اگر زندگی کہتے ہیں تو پھر تیسرے درجہ کی غلامی کا فائدہ اور ثواب؟۔ آقائے سید ابو الحسن امام علی ابن طالب کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشاد فرمایا ’’ کلام کرو تاکہ پہچانے جائو‘‘۔ آپ ہی کا ارشاد ہے ’’ آدمی اپنی زبان کے پیچھے پوشیدہ ہے‘‘ مرشدی سید بلھے شاہؒ یاد آگئے۔ فرماتے ہیں ’’ دوسروں کے عیبوں کو رزق بنانے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ اپنے عیبوں پر نگاہ ڈال لی جائے‘‘۔ یہاں مگر کس میں اتنا حوصلہ ہے‘ خود احتسابی سب سے مشکل کام ہے۔شاہ لطیف بھٹائیؒ فرماتے تھے ’’ جس نے احتساب ذات کی لذت نہیں چکھی وہ تعمیر ہونے سے رہ گیا‘‘۔ یہاں مگر تعمیر کی فکر کس کو ہے‘ جہاں تعمیر ذات کی اہمیت نہ ہو وہاں سماج و ادارے کون تعمیر کرتا ہے۔ ہماری اجتماعی بد قسمتی یہ ہے کہ کمرشل ازم نے دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ جہاں ہم کھڑے ہیں اسے مقام آرزو کون کہہ سکتا ہے۔ خواہشوں کے رقص کو زندگی سمجھنے والوں سے کوئی گلا کیا کریں۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے سب لذت دہن ہے اور کچھ نہیں۔ عبادات میں سودے بازی کرتا ہجوم بھلا طمع کے گھاٹ پر اترنے اور گم ہو جانے سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہی وہ المیہ ہے تواتر کے ساتھ جس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عرض کرتا رہتا ہوں ’’ ہم تو ظالم و مظلوم بھی اپنی اپنی پسند کا رکھتے ہیں ۔ فقیر راحموں نے ایک دن دوستوں کی مجلس میں کچھ یوں کہا تھا ’’ عزیزوں جو بھوک پر قابو نہیں پا سکتے وہ اسی کا رزق بنتے ہیں‘‘۔ ساعت بھر کے لئے خود پر نظر دوڑاتے ہوئے چار اور دیکھ لیجئے‘ بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ بسا اوقات یادوں کے اوراق الٹتے ہوئے حافظے میں محفوظ انگنت واقعات و مشاہدات تازہ ہو جاتے ہیں۔ د و عشرے ادھر سے کچھ اوپر قبلہ مولوی جی‘ حضرت سید امیر حسین گیلانیؒ کے حضور حاضر ہوا۔ ارشاد ہوا ’’ بخیلی‘ نفس پرستی اور کج بحثی سے محفوظ رہنا بہت ضروری ہے۔ بخل بے فیض ہوتا ہے‘ نفس پرست حق سے منہ موڑ لیتا ہے اور کج بحث انکار کو رزق بنائے جیتا ہے‘‘۔ پچھلے دو عشروں میں ہر قدم پر ان کے ارشاد کی روشنی میں جب بھی معاملات کو دیکھنے سمجھنے کی کوشش کی بے اختیار قبلہ مولوی جیؒ کے لئے دست دعا بلند ہوتے چلے گئے۔ کیا نسخہ کیمیا عطا فرماگئے۔ ہمارے عہد اور اس میں بسے لوگوں کی بڑی تعداد کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’’ ہم سب جانتے ہیں‘‘۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ بھی نہیں جانتے مطلب کی چند کتابیں‘ کچھ درسی اسباق اور ورثے میں ملے تعصبات بس انہیں اوڑھے ہم شاہراہ حیات پر سرپٹ بھاگتے چلے جا رہے ہیں۔ زعم یہ ہے کہ کوئی پسندیدہ مخلوق ہیں۔ پسندیدگی کے جو تقاضے ہیںو ہ کون پورے کرے گا۔ روایت ساز ہونے کے لئے روایت شکن ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس کے معیارات ہماری اقدار سے سوا ہیں۔ غور و فکر کی ضرورت ہے کہ 70برسوں میں ایک ایسا سماج اور نظام تشکیل کیوں نہیں پاسکے جو آدمیت کے لئے باعث فخر ہو۔ لیکن کیا ہم غور و فکر کی زحمت کرتے ہیں؟ ایک بار انہی سطور میں عرض کیا تھا’ ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ اگر 70برسوں میں انسان سازی کا ایک ادارہ نہیں بنا پائے تو ہم نے کیا کیا؟ مکرر عرض ہے انسان دوستی اور ایثار سے مثالی سماج کی تشکیل ممکن ہے ہم ہیں کہ دونوں سے آنکھیں چراتے اپنی اپنی ذات میں گم ہیں۔ آگے بڑھتے ہیں پر ان سموں حضرت حافظ شیرازیؒ کی یادوں نے دستک دی کہتے ہیں’’ عجیب نہیں لگتا کہ حاکم شہر کے خوف سے کسی چیز کو ترک کردیتے ہو مگر وہ نہیں کرتے جس سے آنے والے زمانوں میں مثال بن کر زندہ رہو۔‘‘ شیرازیؒ ہی فرماتے ہیں’’ خواہشوں کو فنا ہے ایثار تو روشنی ہے‘‘ لاریب ہمارے عہد کو ایثار کی روشنی کی ضرورت ہے۔ خدا لگتی کہوں بہت گھٹن ہے‘ نفس امارہ کے مارے ہوئوں نے عجیب سماں باندھ رکھا ہے۔ خواہشوں کے گھوڑوں پر سواری کے شوق میں مرے جا رہے ہیں۔ کبھی ساعت بھر کے لئے اس امر پر غور بہر طور کرنا پڑے گا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو یہی سب کچھ دے کر جائیں گے جس پر خود کڑھتے رہتے ہیں؟ تکرار پر معذرت لیکن کڑوا سچ یہی ہے کہ جب تعمیر ذات کی خواہش ہی نہ ہو تو تعمیر سماج میں حصہ کون ڈالتا ہے۔ ہمیں افراد عزیز ہیں اقدار نہیں۔ عجیب سی ٹوٹ پھوٹ جاری ہے مسلسل اور ہم سمجھنے کی شعوری کوشش نہیں کر رہے کہ علم دوستی اور انسانیت سے محبت کو فروغ دے کر ان تعصبات گھٹن اور کج روی سے صرف اپنے عصر کو نہیں بلکہ اگلی نسل کے مستقبل کو بھی بچا یا جا سکتا ہے ۔ انتہائوں میں تقسیم سماج کے باسیوں کو کل کی بجائے آج حقیقت پسندی کو شعار بنانا ہوگا۔ اپنی اپنی پسندیدہ شخصیت سے ہمیں محبت کاحق ہے۔ دیکھنا فقط یہ ہے کہ محبت اندھی تقلید میں تبدیل نہ ہو نے پائے تاکہ توازن جاتا رہے۔ قانون ادارے اور ریاست یہ سب انسان ہی بناتے ہیں لیکن بنا لینے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کے کردار اور حدود کا پاس رکھا جائے تاکہ چارہ گری ممکن ہو۔ سامت نے کہا تھا’’ جو اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کا حوصلہ نہیں کر پاتے ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے‘‘۔ چلیں آج کچھ وقت نکال کر فقط اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ ہم اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے کی جرأت سے محروم کیوں ہیں؟۔

متعلقہ خبریں