حلقہ بندیوں کا طریقہ کار اور عام انتخابات

حلقہ بندیوں کا طریقہ کار اور عام انتخابات

اگلے عام انتخابات کیلئے تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ہونیوالی حلقہ بندیوں کو انتہائی اہمیت حاصل ہوگی اور یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ نئی حلقہ بندیاں ملک کے اگلے وزیراعظم کا فیصلہ کریں گے۔ مذکورہ حلقہ بندیوں کے بعد قانونی طور پر اگلے دس سال تک حلقہ بندی نہیں کی جاسکے گی، یہی وجہ ہے کہ ان حلقہ بندیوں کے ملکی سیاست پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب، ان حلقہ بندیوں کو انتہائی قلیل وقت میں سرانجام دینے سے انتخابات کے وقت پر ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ رواں سال ہونیوالے انتخابات نہ صرف پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کیلئے انتہائی اہم ہیں بلکہ نئی مذہبی سیاسی جماعتوں اور فاٹا کیلئے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ کسی ایک حلقے میں کامیابی حاصل کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے اُمیدوار کیلئے بہت اہم ہوگا اور یہ کامیاب اُمیدوار مل کر وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کا فیصلہ کریں گے۔ اس تمام عمل میں حلقہ بندیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ نئی حلقہ بندیاں کسی ایک جماعت یا اُمیدوار کی جیت یا ہار میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ دوسری جانب حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری کے حتمی اعداد وشمار کا ہونا ضروری ہے لیکن ابھی تک مردم شماری کے حتمی نتائج شائع نہیں کئے جاسکے لیکن انتخابات کو مقررہ وقت پر کروانے کے دباؤ کی وجہ سے گزشتہ سال نومبر میں مردم شماری کے غیرحتمی نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرنے کی آئینی ترمیم کی منظوری دی گئی تھی۔ اس حوالے سے ایک اور اہم پہلو یہ دیکھنا بھی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان حلقہ بندیوںکا عمل کس طرح کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پرانے قوانین میں ضلعی الیکشن کمیشن آفس حلقہ بندیوں کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرتا تھا جسے صوبائی الیکشن کمیشن آفس کی جانب سے وفاقی سطح پر پیش کیا جاتا تھا لیکن اب نئے الیکشن ایکٹ کے مطابق وفاقی الیکشن کمیشن کو بے پناہ اختیارات دیئے گئے ہیں جس سے حلقہ بندیوں کے بارے میں مقامی علم رکھنے والے سرکاری اہلکاروں کی تجاویز شامل نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس حوالے سے اپیل یا مقامی سطح کی سفارشات کو شامل کیا جاسکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نگرانی کے کسی نظام کے بغیر تمام تر اختیارات صرف ایک ادارے کے سپرد کر دیئے گئے ہیں جس سے اس ادارے کا احتساب تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ کیا حلقہ بندیوں کے اس سارے عمل کو زیادہ شفاف اور انٹرایکٹیو نہیں ہونا چاہئے تھا؟ ویسے تو اس ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جانا چاہئے تھا لیکن دیگر سیاسی نوعیت کے مقدمات کے شور وغوغہ میں اس طرف کسی نے دھیان ہی نہیں دیا۔ اس حوالے سے تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ مردم شماری کے غیرحتمی نتائج کے تحت ہونیوالی حلقہ بندیوں میں پنجاب سے قومی اسمبلی کی سات نشستیں ختم ہو جائیں گی جبکہ اوسطاً ایک نشست کی آبادی720,000 سے 880,000 کے درمیان ہوتی ہے۔ اگر مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں تو حافظ آباد، جھنگ، لاہور اور گجرانوالا جیسے اضلاع میں ایسے حلقے بھی ہوں گے جن کی آبادی 900,000 سے زیادہ ہوگی۔ مردم شماری کے تحت پنجاب کے مرکز میں آبادی کم ہوئی ہے جبکہ دوسرے صوبوں میں آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ مردم شماری کے ان نتائج کی کیا وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں اور کس طرح ان نتائج کو درست سمجھا جاسکتا ہے؟ حلقہ بندیوں کے مجوزہ طریقہ کار کے مطابق حلقہ بندیاں آبادی اور انتظامی بنیادوں پر کی جائے گی۔ دوسری جانب قومی اسمبلی سے زیادہ مشکل صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کا عمل ہوگا اور صوبائی حلقہ بندیوں کے حوالے سے تجاویز اور شکایات بھی زیادہ تعداد میں ملنے کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونیوالا ایک سیاستدان اپنے نیچے صوبائی اسمبلی کی دو یا تین سیٹوں پر انحصار کر رہا ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی حلقہ بندیوں میں ہونیوالی کوئی بھی تبدیلی نہ صرف قومی اسمبلی کی نشست پر براہ راست اثرانداز ہوگی بلکہ صوبائی وزیراعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ بھی کرے گی۔ حلقہ بندیوں میں کون سے حلقوں کی باؤنڈری کا فیصلہ کرنا زیادہ مشکل ہوگا اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا لیکن حلقہ بندیوں کے سارے عمل کو شفاف بنایا جانا سب سے اہم ہے۔ اس سارے عمل میں شفافیت لائے بغیر نہ تو ملک میں شفاف انتخابات کی اُمید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی جمہوریت کی مضبوطی کا سوچا جاسکتا ہے۔ حلقہ بندیوں کے عمل میں شفافیت لانے کیلئے عدالت میں اپیل دائر کی گئی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس اپیل کا فیصلہ بروقت ہوگا تاکہ اس فیصلے کے اثرات عام انتخابات پر بھی پڑ سکیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیا اگلے عام انتخابات سے پہلے حلقہ بندیوں کے عمل میں پائے جانیوالے سقم دور کئے جائیں گے یا نہیں؟ کیا عدالت عظمیٰ اس سارے عمل میں پائے جانیوالی خامیوں کو ’’غلط‘‘ قرار دے کر ان خامیوں کو دور کرنے اور حلقہ بندیوں سمیت انتخابی عمل میں موجود دیگر خامیوں کو دور کرنے کا حکم جاری کرے گی؟ دوسرے جانب یہ بات بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان عدالت عظمیٰ کے سامنے حلقہ بندیوں کے عمل کا دفاع کس طرح کرے گا اور کیا عدالتی کاروائی الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے انداز پر اثرانداز نہیں ہوگی؟ یہ وہ سوالات ہیںجن کا جواب آنیوالا وقت ہی دے سکتا ہے۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون، ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ