Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مولانا اشرف علی تھانوی ؒ اپنی کتاب ’’اصلاح النساء ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے زمانے میں اربیل نامی ایک عورت تھی ، جو ایک بت پرست بادشاہ کی بیوی تھی ، یہ خود بھی بڑی ظالمہ و بے رحم تھی اور اس نے بہت سے پیغمبر وں کو شہید کر ڈالا تھا اور اس کے پڑوس میں ایک نیک بخت آدمی رہتاتھا ، اس کے پاس ایک باغ تھا ، چونکہ وہ باغ بہت اچھا اور سب آدمی اس کی تعریف کیا کرتے تھے ، اس لیے یہ عورت جلتی تھی اور اسی فکر میں رہا کرتی تھی کہ کوئی بہانہ نکال کر اس شخص کو قتل کر کے یہ باغ اس شخص سے چھیننا چاہیئے ۔ اتفاق سے اس کا شوہر تو کسی بڑے دور کے سفر پر چلا گیا اور جب وہ کہیں جاتا تھا ، اپنی بیوی کو امور سلطنت کے تمام کام سپرد کر جاتا تھا ۔ اس عورت نے یہ شرارت کی کہ کئی آدمیوں کو سکھلا یا کہ تم دربار میں یہ جھوٹی گواہی دینا کہ اس شخص نے بادشاہ کو گالیاں دی ہیں اس عورت نے اس نیک بخت آدمی کو گرفتار کر کے دربار میں بلایا اور کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تونے بادشاہ کو گالیاں دی ہیں ۔ اس نے انکار کیا ، اس نے انہی آدمیوں کو بلا کر گواہی دلوادی ۔ اس پر عورت نے اس بے چارے کو قتل کر ڈالا اور اس کا وہ باغ ضبط کر لیا ۔ جب بادشاہ سفر سے لوٹ کر آیا تو حق تعالیٰ نے حضرت الیاس ؑ پر وحی نازل فرمائی کہ اس بادشاہ سے کہہ دو کہ ایک بے گناہ مسلمان پر اس قدر ظلم کیا گیا کہ اس کو مار ڈالا اور اس کاباغ چھین لیا ، اگر دونوں میاں بیوی توبہ کرلیں اور اس کے وارثوں کو باغ لوٹا دیں تو بہتر ہے ، نہیں تو ان کو ہلا ک کردوں گا ۔ جب حضرت الیاس ؑ نے اس سے جاکر یہ بات کہی تو بڑا غصہ ہوا اور توبہ کے بجائے حضرت الیاس ؑ کا دشمن ہوگیا ، آخرحضرت الیا س ؑ بحکماللہ تعالیٰ وہاں سے اور کہیں چلے گئے اور تھوڑے دنوں میں اس بادشاہ کا ایک لڑکا بیمار ہو کر مر گیا ۔ یہ صدمہ ختم نہ ہوا تھا کہ ایک اور بادشاہ نے اس پر حملہ کردیا اور ملک چھین لیا ۔ اس کو اور اس کی ساری کافر قوم کو تلوار کا لقمہ بنایا ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کافرہ تھی اور بری باتوں میں کافروں کو مدد دیتی تھی ، جب حضرت لوط علیہ السلام کی امت کے کافروں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے کو ہوا تواللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب صبح کو اس بستی پر عذاب آنے والا ہے ، آپ ایمانداروں کواپنے ساتھ لے کر راتوں رات اس بستی سے باہر چلے جائیں اور کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے ، غرض حضرت لوط ؑ حکم الہٰی کے موافق بستی سے نکل کرباہر کو چلے ، اس وقت آپ ؑ کی بیوی بھی اپنی جان بچانے کو ساتھ ہولی ، جب بستی والوں پر عذاب کے پتھر بر سنا شروع ہوئے اور شوروغل مچنے لگا ، سب ایمان دار تو مارے خوف کے گردن جھکائے اپنی راہ چلے جارہے تھے اور کوئی اِدھر اُدھر نہ دیکھتا تھا ، مگر اس عورت کی ان کافروں میں رشتہ داری بھی تھی اس واسطے اس نے پیچھے پھر کر دیکھا کہ ان لوگوں پر کیا گزر رہی ہے ، بس پیچھے پھر کر دیکھنا تھا کہ ایک پتھر اس کے بھی آکر لگا اورکام تمام ہوا ۔

متعلقہ خبریں