آئین و قانون کی حکمرانی لازمی ہے

آئین و قانون کی حکمرانی لازمی ہے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف آئین و قانون کی حکمرانی رہے گی۔ ہم خود سے، اپنی نسل اور قوم سے عہد کرتے ہیں کہ جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔ اس عہد سے پھریں تو قوم کا ہاتھ اور ہمارا گریبان ہوگا۔ عدلیہ مکمل آزاد اور فتنہ ختم کرنے والا ادارہ ہے۔ جج کو مرضی کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں‘ لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ شہریوں کے حقوق دبالئے جاتے ہیں‘ جج داد رسی نہیں کریںگے تو بے انصاف معاشرہ قائم نہیں رہ سکے گا۔ تنقید کی پروا نہیں‘ بنچ بار ایک جسم کے دو حصے ہیں‘ بنچ بار کی عزت کریں‘ وکلاء ‘ ججوں کو بیچنا اور توڑ پھوڑ کرنا چھوڑ دیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کسی زمانے میں ججوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جج خود نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے ہیں مگر اب حالات میں بہت بدلائو آچکا ہے اور اب جج صاحبان نہ صرف فیصلے صادر کرتے ہیں بلکہ ان فیصلو ں پر آنے والے تبصروں نے انہیں (بہ امر مجبوری ہی سہی) بھی بولنے پرمجبور کردیا ہے۔ ہمارے ملک میں مرحوم جسٹس کیانی کی تقاریر اگرچہ کسی جج کے بولنے کی دستاویزی ثبوت کے طورپر موجود ہیں تاہم ان کی تقاریر کو معروف معنوں میں ججوں کے بولنے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان تقریروں میں اہل فکر کے لئے فوڈ فارتھاٹ کے طور پر بہت کچھ موجود ہوتا تھا اور آج بھی ان تقاریر کو دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ جہاں تک موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کی گزشتہ روزکی تقریر کا تعلق ہے اس میں بھی نہ صرف وکلاء برادری‘ اہل علم بلکہ عوام کے لئے سوچنے اور سمجھنے کے واسطے بہت مواد موجود ہے۔ ملک میں صرف آئین اور قانون کی حکمرانی کے عزم کا اظہار کرکے فاضل چیف جسٹس نے ماضی کی عدلیہ کے ان غلط فیصلوں کو یکسر رد کردیا ہے جن کی وجہ سے یہ ملک مجموعی طور پر لگ بھگ تین دہائیوں سے زیادہ آمریت کے شکنجے میں سسکتا رہا اور دنیا کی آزاد قوموں کی صف میں ترقی کا سفر طے کرتے ہوئے بہت پیچھے رہ گیا۔ جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت سے لے کر ڈوگر کورٹ تک جب جب بھی آمریت کے حق میں فیصلے سامنے آئے ان کی وجہ سے یہاں جمہوریت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا بلکہ بد قسمتی کی انتہا تو یہ رہی کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے بن مانگے ہی آمروں کو آئین میں ترامیم کا اختیار دے کر قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ جمہوری ادوار میں تو آئین میں ترمیم کے لئے جس قدر پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اورجب تک دو تہائی اکثریت نہ ہو آئین میں ایک نقطہ تک کم یا زیادہ نہیں کیا جاسکتا۔ مگر آمروں کو من مرضی کی ترامیم کے لئے کسی مشکل کا سامنا کرنے کی زحمت ہی نہیں ہوتی تھی اور وہ اپنی قائم کی ہوئی اسمبلیوں کے سامنے ترامیم کا مسودہ رکھ کر ممبران سے بلا کسی حیل و حجت اس پر ’’انگوٹھے‘‘ لگوانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ تاہم اب جبکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ کر گزر چکا ہے ایک جانب میڈیا پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے‘ سوشل میڈیا بھی تقریباً ’’ بے لگام‘‘ ہو چکا ہے اور جو قوتیں جمہوریت کے خلاف سازشیں کرتی تھیں ( ان میں سیاسی قوتیں بھی شامل ہیں جن کی آشیر واد کے بغیر مارشل لائوں کو کبھی سند قبولیت نہ مل سکتی انہیں بھی یہ احساس ہو چکا ہے کہ اس ملک کی بقاء اور ترقی جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے تو بعض سیاسی حلقوں کی شدید خواہش کے باوجود دھرنوں کے موقع پر امپائر کی انگلی اٹھنے کی نوبت نہ آسکی۔ اس لئے کہ اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو بھی جاتی تو یقینا ہماری عدلیہ اب اس قدر طاقتور ہے کہ وہ اس قسم کی غیر معمولی صورتحال کو قبول کرنے سے صاف انکارکردیتی اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کے آگے بند باندھنے میں اپنا کردار ادا کرتی۔ فاضل چیف جسٹس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول زریں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بالکل درست کہا ہے کہ ظلم پر مبنی معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے مگر بے انصافی کا پروردہ معاشرہ کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جج انصاف نہیں کریں گے تو عوام کی داد رسی کون کرے گا۔ لوگوں پر ظلم ہو رہے ہوں اور شہریوں کے حقوق دبا لئے جاتے ہوں تو ایسے معاشرے قائم نہیں رہ سکتے۔ بنچ اور بار کے مابین تعلقات کے حوالے سے بھی چیف جسٹس نے بڑی اہم باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے وکلاء کو توڑ پھوڑ کرنے اور ججوں کو فروخت کرنے کی جانب جو اشارے کئے ہیں وہ نہایت ہی اہم ہیں۔ حالیہ چند مہینوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں بعض وکلاء کی جانب سے جس طرح عدالتوں میں توڑ پھوڑ کی خبریں آتی رہی ہیں وہ قابل افسوس ہیں۔ اس لئے کہ وکلاء برادری ملک کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے طبقوں میں شمار ہوتے ہیں اور اگر وہ اپنے رویوں سے کسی کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ طبقوں کی طرح اظہار کرتے دکھائی دیں تو ان سے عام لوگ کیا سبق لیں گے اور پھر دنیا بھر میں اس سے ہمارے معاشرے کے حوالے سے کیا پیغام جائے گا۔ اس لئے امید ہے کہ بنچ اور بار دونوں ایک دوسرے کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ایک با وقار معاشرے کے قیام میں مددگار بنیں گے۔

اداریہ