Daily Mashriq


گیس کی بے پناہ لوڈشیڈنگ،صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟

گیس کی بے پناہ لوڈشیڈنگ،صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟

صوبائی دارالحکومت میں بالخصوص اور گرد و نواح میں بالعموم گزشتہ کئی روز سے گیس کی شدید قلت نے جس گمبھیر صورتحال کو جنم دیا ہے اس سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ سات سے آٹھ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں بارہ سے پندرہ گھنٹے سے بھی زائد ہوچکا ہے۔ گزشتہ روز شہر کے بیشتر علاقوں میں رات ساڑھے آٹھ بجے سے گیس مکمل طور پر معطل کی گئی اور صبح نو بجے بہ مشکل ہی انتہائی کم پریشر میں بحال ہوئی۔ اس صورتحال نے تہجد گزاروں اور ازاں بعد فجر کے اوقات میں نمازیوں کو شدید عذاب میں مبتلا رکھا۔ اس صورتحال میں ایک جانب سوئی گیس حکام کے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بیانات پر اظہار افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کیو نکہ ان بیانات میں گیس لوڈشیڈنگ کے حوالے سے صریح غلط بیانی سے کام لئے جانے کا تاثر واضح ہوتا ہے جو طفل تسلیوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مگر اس سے بھی زیادہ صوبائی حکومت کے روئیے پر اظہار تاسف کیا جانا چاہئے کیونکہ خود تو ہمارے حکمران ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جنہیں عرف عام میں مراعات یافتہ علاقے کہا جاسکتا ہے جہاں نہ گرمی کے دنوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے نہ سردیوں میں گیس کی کمی کے مسائل رہتے ہیں۔اس لئے ان مراعات یافتہ طبقوں کو عوام کے مسائل سے کیا سرو کار ہوسکتا ہے حالانکہ انہی کالموں میں اس سے قبل آئین کی متعلقہ آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے ہم نے صوبائی حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب دلاتے ہوئے عوام کے مسئلے کے حل کے لئے درخواست کی تھی مگر تادم تحریر صوبائی حکومت کے ذمہ داروں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ کیا یہ بد قسمتی نہیں کہ ہر سال گرمی کے دنوں میں بجلی لوڈشیڈنگ اور سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کے حوالے سے عوام جھولیاں بھر بھر کر حکومتوں کو بد دعائیں دینے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ حکمران طبقات ان مسائل سے لاپرواہی برتنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ جہاں تک گیس کی کمی کا تعلق ہے تو خیبر پختونخوا پن بجلی کی طرح گیس میں بھی خود کفیل ہے بلکہ ضرورت سے کہیں زیادہ گیس ہمارے ہاں پیداہوتی ہے مگر عوام کو پھر بھی عذاب میں مبتلا رکھ کر نہ جانے متعلقہ حلقے کیوں خاموش ہیں۔ صوبائی حکومت اس ضمن میں اپنا کردار کب ادا کرکے عوام کو مشکل صورتحال سے نکالے گی؟۔

رشکئی اکنامک زون معاہدہ

حکومت خیبر پختونخوا اور عوامی جمہوریہ چین کی سرکاری کمپنی چائنا روڈ اینڈ بریج کا رپوریشن (سی آر بی سی ) کے مابین رشکئی سپیشل اکنا مک زون کی ترقی کیلئے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں ، منصوبے کے 2600ایکڑ رقبے میں کئی صنعتی یونٹ قائم کئے جائیں گے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں بیجنگ روڈ شو کے دوران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے تھے ، سی آر بی سی زون چینی سرمایہ کاروں کومارکیٹ کرے گی تاکہ اس میںچینی کارخانے لگائے جائیں ، رشکئی سپیشل اکنامک زون میں فارما سوٹیکل ، ٹکسٹائل ، فوڈ ، سٹیل اور انجینئر نگ سے متعلق صنعتوںسمیت مختلف نوعیت کی انڈسٹریز قائم کی جائیں گی ، وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اس معاہدے کو صوبائی حکومت کی طرف سے صنعتوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے صوبے میں خوشحالی آئے گی اور خطے میں روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے ۔ جہاں تک رشکئی سپیشل اکنامک زون کا تعلق ہے اس حوالے سے گزشتہ سال بیجنگ میںروڈ شو کے انعقاد کے موقع پر ہونے والے معاہدے کا صوبے میں نہ صرف صنعتی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اکنا مک زون میں صنعتوں کے قیام سے صوبے کے بے روزگار ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو روز گار بھی ملے گا ۔ بد قسمتی سے ہمارا صوبہ ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت پسماندہ ہے اور اوپر سے ہر سال تدریسی اداروں سے حصول علم کے بعد ہزاروں نوجوان بے روز گار ی کے مسائل سے دوچار رہتے ہیں ، بہت ہی کم لوگ استطاعت رکھنے کی وجہ سے خلیجی ممالک یا پھر بعض یورپی ملکوں میں حصول رزق کی تلاش کیلئے جانے میں کا میاب ہوتے ہیں جبکہ بے روزگاری کے عفریت سے لڑنے والے جو پیچھے رہ جاتے ہیں وہ نہ صرف معاشرے پر بوجھ بنتے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کیلئے مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں کیونکہ خاندانوں کی کم آمدنی ان افراد کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتی ۔ ان کو باعزت روز گار مہیاکرنے میں حکومتی ادارے اور محکمے زیادہ مدد گار نہیں ہو سکتے بلکہ جب تک نجی شعبے میں آسامیاں مہیا نہ ہوں بے روزگار ی پر قابو نہیں پایا جا سکتا ، اس حوالے سے رشکئی سپیشل اکنا مک زون کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، اور اس کی تکمیل سے صوبے کے بے روز گار نوجوانوں کو باعزت روزی کما نے میں مدد مل سکے گی ۔

متعلقہ خبریں