ہم کنٹینر ہمسفر بھی بن پائیں گے؟

ہم کنٹینر ہمسفر بھی بن پائیں گے؟

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے لاہور کے مال روڈ پر ہم کنٹینرہونے کا مظاہرہ تو کیا مگر یہ سوال باقی رہا کہ کیا یہ جماعتیں مشترکہ منزل کی راہ پر ہم سفربھی بن پائیں گی ؟مال روڈ پر ہونے والااحتجاج بنیادی طور پر علامہ طاہر القادری کی تحریک اور میزبانی میں منعقدہوا۔جس کا مقصد ماڈل ٹائون کے متاثرین کو انصاف دلانا تھا‘ درحقیقت یہ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لئے مختلف الخیال اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ مقصد کی لڑی میں پرونا تھا ۔پاکستان کے موجودہ منظر میں گرینڈ اپوزیشن کا مقصد حاصل کرنا کاردارد ہے ۔گرینڈ اپوزیشن کی راہ میں سب سے کٹھن مقام پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان شخصیات، سیاسی حکمت عملی اورآنے والے دنوں کے منظر اور مقصد کا اختلاف ہے ۔تحریک انصاف کی قیادت کا خیال ہے کہ انہوں نے بڑی مشکل سے پنجاب میں مسلم لیگ ن کا مقابلہ اور چیلنج کرنے کا مقام حاصل کیا ہے۔وہ کسی بھی ایسے اتحاد سے گریز کرے گی جس سے اسی کے کارکنوں میں اس کے خلاف بددلی پھیلے اور مخالفین کو تنقید کا موقع ہاتھ آئے۔پیپلزپارٹی کے پنجاب میں تحلیل ہونے کے بعدپیدا ہونے والے خلاء کو پہلے ق لیگ نے پُر کرنے کی کوشش کی تھی مگر ق لیگ بدلے ہوئے ماحول میں پانی کا بلبلہ ثابت ہوئی تھی اور اس کی جگہ پی ٹی آئی نے اس خلا کو پر کر لیا تھا ۔اب پنجاب میں مسلم لیگ ن کے بعد دوسری بڑی پارلیمانی اور عوامی جماعت پی ٹی آئی ہی معلوم ہورہی ہے ۔پیپلزپارٹی پرانے نعرے اور بلاول بھٹو زرداری کے نئے چہرے کے ساتھ پنجاب میں اپنے سیاسی احیاء اور بحالی کی خواہش دل میں بسائے ہوئے ہے ۔یہ تبھی ممکن ہے کہ جب پی ٹی آئی کمزور ہواور پیپلزپارٹی کے نامی گرامی گھرانے واپس اپنی پرانی جماعت کی طرف لوٹ آئیں۔پنجاب میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی سیاست کا یہ تضاد ایک کھلی حقیقت ہے ۔اسی طرح عمران خان نے میاںنوازشریف کی ذات اور جماعت کے بعد جس شخص کو اپنا ہدف بنائے رکھا ہے وہ سابق صدر آصف علی زرداری ہیں ۔عمران خا ن بار بار سندھ میں جا کر انہیں للکارتے رہے ہیں جس کا جواب ان کی طرف سے خیبر پختون خوا میں تقریروں کی صورت میں دیا جاتا ہے ۔عمران خان کے لئے ایک آصف زرداری کے خلاف سخت لائن چھوڑ کر اچانک ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر سامنے آنا آسان معاملہ نہیں ۔اس سے عوام میں پی ٹی آئی کی سیاست کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور مسلم لیگ ن کے پاس دونوں کو ایک ثابت کرنے کا موقع ہاتھ آسکتا ہے۔اس مشکل کو پاٹنے کا بیڑہ علامہ طاہر القادری نے اُٹھایا اورا نہوں نے دوانتہائوں پر کھڑی جماعتوں کو ہم کنٹینر ہونے کے لئے صرف کنٹینر ہی نہیں ماڈل ٹائون کے متاثرین کے ایجنڈے کا مشترکہ مقصد بھی فراہم کرنے کی کوشش کی ۔حقیقت یہ ہے کہ اس مشترکہ مظاہرے کا رنگ بہت پھیکا رہا اور اس سے گرینڈ اپوزیشن اور موجودہ حکومت کو گرانے کا خواب بکھر تا ہوا دکھائی دیا ۔عمران خان اور پیپلزپارٹی دونوں آنے والے دنوں کی سیاست اور منظر پر نظریں جمائے ہیں اور ان کے لئے گرینڈ اپوزیشن کی چنداں اہمیت نہیں ۔عمران خان جو منزل کو دوگام پر سمجھ رہے ہیں نواب زادہ نصراللہ خان کی طرح اب چھوٹی چھوٹی جماعتوں کا ’’ٹائٹینک ‘‘ سجا کر آگے بڑھنے سے گریزاں ہیں۔ انتخابی اتحاد بنانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے مگربہتر یہ ہے کہ اپوزیشن اب نئے تجربات پر وقت ضائع کرنے کی بجائے عام انتخابات پر توجہ مرکوز کرے اورسسٹم کا پہیہ رواں رہنے دیا جائے ۔سسٹم کا چلتے رہنا ہی سیاسی جماعتوں کی بقا ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں ایک مضبوط اتحادی کا ساتھ چاہئے اور عمران خان پنجاب کے خیمے میں پیپلزپارٹی کے سر داخل کرنے کے مضمرات سے آگاہ ہیں ۔سیاست کا گورکھ دھندہ گرینڈ اپوزیشن کے خواب کے شرمندہ ٔ تعبیر ہونے میں رکاوٹ ہے۔یہی وہ محرکات تھے کہ مال روڈ پر سجے کنٹینر پر عمران خان اور آصف زرداری کی آمد کا انداز جدارہا ۔اختلافات کا جام چھلک پڑنے کے اندیشے کے باعث جلسے کو دوسیشنز میں تقسیم کرنا پڑا ۔آصف زرداری آئے تو سٹیج پر عمران خان موجود نہیں تھے اور عمران خان آئے تو سٹیج آصف زرداری سے خالی ہو چکاتھا ۔یہ تو خیریت گزری کہ عمران خان اور آصف زرداری نے ایک دوسرے کے خلاف تقریرنہیں کی ۔اس انداز کو پی ٹی آئی کی سہولت اور اصرار کی خاطر اختیار کرنا پڑا اس لئے پیپلزپارٹی نے اس توہین آمیز رویے کو بھانپ لیا اور یہی وجہ ہے کہ مال روڈ کے جلسے کے آغاز سے تھوڑا پہلے بلاول بھٹو بدین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف اور عمران خان دونوں پر برس رہے تھے۔پی ٹی آئی اور عمران خان کی جلسے میں کیفیت ’’آئے نہیں لائے گئے ہیں ‘‘ سے چنداں مختلف نہیں تھی ۔پی ٹی آئی کا یہ اُکھڑا اُکھڑا انداز تھا کہ جلسہ بے کیف اور بے تاثر رہا ۔پی ٹی آئی نے اپنی تنظیمی قوت کو جلسے کی کامیابی کے لئے استعمال نہیں کیا۔علامہ طاہر القادری بھی پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی قوت پر بھروسہ کرکے بیٹھ گئے تھے۔یوں علامہ طاہر القادری اور شیخ رشید احمد پیپلزپارٹی کو ذرا مختلف اندازسے ہی سہی ہم کنٹینر بنانے میں کامیاب تو ہوئے مگر وہ انہیں اگلی منزلوں اور راستوں پر ہم سفر نہ بنا سکے ۔مستقبل قریب میں بھی اس معجزے کا کوئی امکان نہیں۔پیپلزپارٹی پارلیمانی قوت ہے اور سسٹم کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے اہم ہے اور تحریک انصاف پنجاب میں سٹریٹ پاور کے طور پر مسلم لیگ ن کو چیلنج کر سکتی ہے یوں دونوں جماعتیں زمینی حقیقتیں ہیں اور مشکل یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے بغیر پسندیدہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے مگر دونوں کو ایک چھتری تلے جمع کرنا اس سے بھی بڑی مشکل ہے ۔اپوزیشن خود آپس میں بھی اپوزیشن کا شکار ہے اور دونوں جماعتیں ایک سٹیج پر ہو کر بھی کافی فاصلے پر تھیں۔مال روڈ کے جلسے کا رنگ وآہنگ اسی مشکل کااظہار تھا ۔

اداریہ