جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست

جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست

وطن سے محبت ہر محب وطن کا جزو ایمان ہونا چاہئے۔ وطن کو ہم کبھی اپنے چمن سے تشبیہہ دیتے ہیں اور کبھی گلشن کہہ کر پکارتے ہیں۔ یہ ہمارا گھر ہے۔ ہم یہاں پیدا ہوئے۔ اسکے باغوں کے پھل کھائے۔ اس کے کھیتوں سے اناج حاصل کیا۔اس کی نہروں، دریاؤں اور کنوؤں کا پانی پیا۔ اس کی ہواؤں میں سانس لیا اس کی فضاؤں میں پرورش پائی یہ ہمارا حوالہ بنا۔ اور ہم اس کے حوالے سے پاکستانی کہلائے۔ جب آزاد مملکت پاکستان معرض وجود میں نہ آیا تھا تو ہم 

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
جیسے گیت گا کر دنیا والوں پر باور کراتے نہیں تھکتے تھے کہ ’’ہر ملک ،ملک ماست کہ ملک خدائے ماست‘‘۔ لیکن جب مصور پاکستان شاعر مشرق کے خوابوں کی تعبیر پاک وطن کی صورت معرض وجود میں آگیا تو ہم پاکستان کے حوالہ سے صرف اور صرف پاکستانی کہلانے لگے۔ لاکھوں قربانیوں اور ان تھک جدو جہد کے بعد معرض وجود میں آنے والا پیارا وطن پاکستان شروع روز ہی سے مشرقی اور مغربی حصوں میں منقسم رہا۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے عوام لسانی اور علاقائی تعصبات کی وجہ سے آپس میں میل نہیں کھاتے تھے۔ اس وقت مضبوط مرکز کا نظریہ میلوں کی مسافت پر قائم ملک کے ان دو ٹکڑوں کو جوڑے رکھنے کا بہانہ تھا، لیکن مشرقی پاکستان والے اکثریت میں ہونے کے ناطے ملکی معاملات میں اپنی برتری ثابت کرتے رہتے ، اور یوں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات کے برعکس اردو کو ملک کی قومی زبان ماننے کی بجائے بنگلہ زبان کو بھی قومی زبان کے ہم پلہ رکھنا پاکستانی قیادت کی مجبوری بن گئی۔ اردو کے علاوہ بنگالی خبریں۔ پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر اردو اور انگریزی کے علاوہ بنگالی عبارتیں اور زندگی کے بہت سارے شعبوں میں بنگال والوں کی اکثریت ملک کی تعمیر اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن کر سامنے آنے لگی۔ حد تو اس وقت ہوگئی تھی جب لاکھ کوشش کے با وجود ملک کا آئین معرض وجود میں نہیں آسکتا تھا کہ آئین کی ہر شق میں بنگال والے اپنی اکثریت کا لوہا منوانے اٹھ کھڑے ہوتے اور یوں ملک کا آئین حتمی صورت اختیار کرنے کی بجائے دھرے کا دھرا رہ جاتا۔ آپس کی کھینچا تانی اور نام نہاد حقوق کی جنگ کے علاوہ جغرافیائی فاصلوں نے ملک اور قوم کے ازلی دشمن کو خنجر آزمائی کا ایسا موقع فراہم کیا کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاک وطن اپنے مشرقی بازوئے شمشیرزن سے محروم ہوگیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن کر دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا۔
ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندے ہیں اور جیسا کہ عرض کرچکے ہیں کہ حب الوطن پاکستانی کی حیثیت سے ہم اس ملک کو صحیح سلامت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم پاکستانی قوم کی دائمی خوشحالیوں کے متمنی ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہمیں اپنے چاروں اور اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ ہم اب تک جنرل ضیاء کی ڈکٹیٹر شپ سے اپنا آپ نہیں چھڑا سکے۔ ضیاء الحق کی گود سے نکل کر اقتدار پر قبضہ کرنے وا لوںنے نہ صرف عوامی دولت اور ملکی ذرائع میں لوٹ کھسوٹ کا طوفان بدتمیزی جاری رکھا بلکہ جمہوریت کے لبادے میں اپنی خاندانی شہنشاہیت کو ایسا رواج دیا کہ قوم کے افراد کو اس نام نہاد جمہوریت کے نام سے گھن آنے لگی۔ بقول شاعر مشرق
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
یہ لمبی لمبی کاروں کا غریبوں کے بچے کچلنے والا پروٹوکول، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کو خاطر میں نہ لانے کا مذموم رویہ، افواج پاکستان کی کردارکشی، ملک اور قوم کی دھن دولت لوٹ کر ملک سے باہر لے جا نے کی روش۔ اقتدار کو باپ کی جاگیر سمجھ کر بیوی بچوںاور خویش رشتہ داروں میں بانٹ دینا اور اس جیسے بہت سے جرائم کے باوجود اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہ کر معصوم عوام کے جم غفیر میں علی الاعلان جمہوریت کا راگ الاپتے رہنا جمہوریت کے پردے میں غیر از نوائے قیصری نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر پنجاب کے اشرافیہ قوم کی دھن دولت لوٹ کر منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر لے گئے تو باقی ماندہ سیاست دان کوئی فرشتے تھوڑے تھے ۔ عوام نے ان کو ووٹ ملک اور قوم کی قسمت بدلنے کیلئے دیئے تھے ۔ لیکن وہ ان کی قسمت سے کھیلنے لگے ۔ دھرنوں کی سیاست کرنے والے پارلیمنٹ پر لعنت بھیج رہے ہیں اور در جواب آں غزل قومی اسمبلی میں انکے خلاف قرار داد مذمت منظور کی جارہی ہے۔کیا آپس میں گتھم گتھا ہونے سے یہ ملک جنت نظیربن جائے گا ۔ حیرت تو اس بات کی ہے جب ملک کے وزیر اعظم کو اعلیٰ عدالتیں نااہل قرار دے چکی ہیں تو ان کی پارٹی والے کیوں اور کس طرح ملک کے 20کروڑ عوام پر حکومت کر رہے ہیں ۔ اپوزیشن والے حکومت گراؤ تحریک کا طرفہ تماشا کیوں رچائے بیٹھے ہیں ۔ بھارتیوں کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری ، اسرائیل ، بھارت گٹھ جوڑ اور ٹویٹر پر امریکہ کی چہکتی دھمکیاںاور ہمارے سیاست دانوں کا جمہوریت کے نام پرآپس میں گتھم گتھا ہوجانا کیا اسی کو جمہوریت یا جمہوری سیاست کہتے ہیں ۔ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو پھر مجھ جیسوں کو اسداللہ خان غالب کا ہم زبان ہوکر کہنے دیجئے کہ
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

اداریہ