بھارت اسرائیل پینگیں اور عالم اسلام

بھارت اسرائیل پینگیں اور عالم اسلام

چند ہفتے قبل جب اقوام متحدہ میں یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے قیام اور یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف ووٹنگ ہوئی تو بھارت نے بھی امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ استعمال کیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسرائیل بھارتی موقف پر بہت سخت ردعمل کا اظہار کرتا اور اپنے تعلقات پر نظر ثانی کا عندیہ دیتا یا اپنا سفیر واپس بلاتا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اس اہم واقعہ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھارت کا چھ روزہ تفصیلی دورہ کیا۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ کسی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کا دوسرا دورہ ہے اور ایک ایسے موقع پر ہوا کہ اسرائیل کو فطری طور پر بھارت سے ناراضگی کا اظہار کرنا چاہئے تھا کہ بھارت نے یو این میں اسرائیل کے خلاف ووٹ دیا۔ لیکن یہ بات اب بالکل صریح انداز میں ثابت ہوگئی ہے کہ دنیا بھر کے غیر مسلم حکمرانوں‘ الا ماشاء اللہ‘ کے درمیان اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اتحاد اور باہمی مفادات پر کبھی بھی اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔ بھارت اور اسرائیل تو جنم جنم کے فطری حلیف ہیں۔ ان دو ملکوں کے درمیان اس وقت بھی بہت گہرے تعلقات تھے جب بھارت نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ بھارت روایتی ہندو مکر و فریب اور کہہ مکرنیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں سے تجارت اور افرادی قوت کے شعبوں میں بھرپور انداز میں استفادہ کرنے کے لئے اسرائیل کو بظاہر تسلیم نہیں کر رہے تھے لیکن درون خانہ دفاعی اور تجارتی تعلقات سے ایک دوسرے کو خوب فائدہ پہنچا رہے تھے۔اندرا گاندھی کے دور میں اسی سبب سے یاسر عرفات کے ساتھ بھارت کے بہت گہرے تعلقات استوار تھے۔ اندرا گاندھی یا سر عرفات کو کشمیر کاز کے خلاف استعمال کرتی تھی۔ یاسر عرفات نے بہت عرصے تک کشمیر اور کشمیریوں کا کبھی ذکر بھی نہیں کیا تھا۔ لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے جادو کے سبب تھوڑی تبدیلی پیدا ہوئی ورنہ یاسر عرفات اور اس کے جانشین محمود عباس اب بھی پاکستان کی نسبت بھارت کے زیادہ قریب ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان عاشقانہ حد تک تعلقات کے کئی اسباب ہیں۔ ایک تو ان کے درمیان گائے کی محبت مشترک ہے۔ آخر سامری یہودی ہی نے سونے کا بچھڑا معبود بنوایا تھا اور یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر بھی گائے ذبح کرنے کو کس کس انداز میں ٹالنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ دونوں قوموں کے درمیان مکر و فریب اور سازشوں کی تاریخ میں بھی بڑا اشتراک پایا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد دونوں کے درمیان پاکستان دشمنی پر بھی ہر زمانے میں اتفاق رہا ہے اور آج تو ان دونوں کے درمیان دوستی کے دور عروج کا سبب ہی پاکستان دشمنی ہے۔ پچھلے دنوں جب نیتن یاہو دہلی کے ائیر پورٹ پر اترے تو پروٹوکول کے مطابق ایک وزیر نے اس کا استقبال کرنا تھا لیکن مودی سے صبر نہ ہوسکا اور خود ہی ٹارمک پر جا کر پروٹوکول کے سارے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے بغلگیر ہوئے کہ گویا دونوں لنگوٹیا یار ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عالمی تناظر میں عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے خلاف جو سازشیں اور امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کا ٹرائیکا جاری ہے اس کا تقاضا یہی ہوسکتا ہے کہ مودی اور یاہو ایسے ہی بغلگیر ہوں۔ ٹرمپ امریکہ میں بیٹھے ہوئے ان کی جھپی سے کتنے لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔ مودی اور یاہو کے درمیان بہت اہم اشتراک فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہے۔ جس طرح اسرائیل نے اپنی ریاست کے ناجائز وجود کے باوجود فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کیاہے اور اہل فلسطین پر گزشتہ ستر برسوں سے مظالم ڈھا رہا ہے۔ اسی طرح بھارت بھی اہل کشمیر پر گزشتہ ستر برسوں سے عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے۔ دونوں غاصبوں کو حریت پسندوں کی مزاحمت کا سامنا ہے اور ایک دن انشاء اللہ ان بے مثال قربانیوں کے خوشگوار نتائج سامنے آئیں گے۔ میں مانتا ہوں کہ کوئی بھی دو آدمیوں‘ قوموں اور ملکوں کو آپس میں مضبوط تعلقات استوار کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ لیکن دوستی اور تعلقات کسی تیسرے آدمی اور قوم و ملک کی دشمنی کی بنیاد پر بنانا یقینا انسانیت دشمنی ہے۔ اگرچہ دوست کا دشمن‘ دشمن اور دشمن کا دشمن دوست کہلاتا ہے لیکن آخر کچھ تو انسانی اصول بھی ہونے چاہئیں۔ پاکستان کو امریکہ نے کس نشتیابی کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سبب واچ لسٹ میں ڈال دیا ہے لیکن بھارت گزشتہ کئی عشروں سے گئو ذبیحہ کے نام پر اور کشمیریوں کو اپنے بنیادی حق خود ارادیت کے حصول سے روکنے پر بد ترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے لیکن امریکہ یا اقوام متحدہ بے خبر بن کر مذمت تو کجا الٹا ہلہ شیری دے رہا ہے۔ یہی حال اسرائیل کا ہے۔ ہمیں ان حالات کے پیش نظر اگر سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے تو اپنے حکمرانوں سے اور عالم اسلام کے حکمرانوں سے۔ کہ ان کی صفوں میں ملکی سطح پر اور آپس میں جو انتشار‘ نفرت اور عدم تعاون کی فضا چھائی ہوئی ہے یہ کہیں عالم اسلام کو مودی اور یاہو جیسے تنگ نظر‘ متعصب اور انسانیت کے دشمن کے ہاتھوں ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب نہ بن جائے۔

اداریہ