Daily Mashriq


ڈیجیٹل کرنسی

ڈیجیٹل کرنسی

یہ ایک مصنوعی کرنسی ہے۔جس کا عملی طور پر کوئی وجود نہیں ہے۔یہ سکے یا نوٹ کی شکل میں دستیاب نہیں ہے۔کئی ممالک میں اس میں لین دین کرنا غیر قانونی ہے۔حکومت پاکستان نے بھی اس کرنسی کے لین دین پر پابندی عائد کی ہے۔لیکن اس وقت تمام پابندیوں کے باوجود انٹرنیٹ کے ذریعے اس کی خرید و فروخت زورو شور سے جاری ہے۔لاکھوں کی تعداد میں اس میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔اس کے خریدار انٹرنیٹ کے ذـریعے یہ کرنسی خریدتے ہیں اور اسی طرح فروخت کرتے ہیں۔تقریباً 2008 ء میں اس کرنسی میں لین دین کی ابتداء ہوئی۔آج تک یہ کرنسی کسی ملک کا مرکزی بینک جاری نہیں کرتا ہے۔ بلکہ یہ ایک گروپ سے شروع ہوتا ہے اور خیالی قیمت مقرر کر کے آپس میں اس کا کاروبار شروع کرتے ہیں۔اس کرنسی کی قیمت مخفی ہوتی ہے۔اس مخفی قیمت میں اُتار چڑھاؤ سے لین دین کرنے والا یا سرمایہ کار نقصان یا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اس مخفی کرنسی کی قیمت کا تعین آپس میں لین دین سے کرتے ہیں۔لیکن روز کے حساب سے اس کی قیمت کا تعین مقرر ہوتا ہے۔قدیم زمانے سے سونا ایک نایاب دھات ہے۔جس کی ہمیشہ سے طلب رہی ہے۔رسد کی کمی کی وجہ سے اور طلب میں زیادتی نے سونے کو ایک مستحکم دھات بنایا ۔جس کی مناسبت سے اشیاء کی خرید و فروخت کیلئے سونے کے سکے کا اجراء ہوا۔برطانوی پائونڈ جب کرنسی کی شکل میں جاری کیا گیا تو اُس زمانے میں ایک پائونڈ کی قیمت بلحاظ وزن بھی ایک پائونڈ بنتی تھی اور مرکزی بینک جتنے سکے جاری کرتااُسی مناسبت سے بینک میں سونے کا ذخیرہ بھی موجود ہوتا تھا۔جس کو ’’ گولڈ اسٹینڈرڈ ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔1971 ء کے بعد فری مارکیٹ کا تصور پیش کیا گیا ۔جس میں غریب ممالک کی کرنسی مضبوط کرنسیوں کے مقابلے میں ہمیشہ بلحاظ قیمت گھٹتی رہی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری مضبوط کرنسیوں جیسے ڈالر اور پائونڈ میں شروع ہوگئی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں تبدیل نہ ہونے والی کرنسی جیسے پاکستانی روپیہ اپنی ساکھ کھوتا رہا۔آہستہ آہستہ چاندی اور سونے کے سکے کے بعد اکثر ممالک میں نوٹ جاری کئے گئے۔جس کی ضمانت ہر مرکزی بینک نے لی۔لیکن ان نوٹوں کے بدلے میں بینکوں میں اُتنا سونا ذخیرے کے طور پر نہیں رہا۔جب سے یہ نوٹوں کا سلسلہ شروع ہوا تو مرکزی بینک میں اُس حساب سے سونا رکھنا ختم ہوگیا۔دھڑ دھڑ نوٹ چھاپنے شروع ہو گئے۔ابھی یہ نوٹ چل رہے تھے کہ کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پلاسٹک کرنسی نے جنم لیا۔جدید بینکنگ نظام ATM سسٹم اور مشین کے ذریعے ادائیگیوں کے سلسلے نے پلاسٹک کرنسی کو مقبول بنایا۔سونے کے علاوہ دوسرے معدنی وسائل جیسے تیل ساری دُنیا کی ضرورت بن گیا تو سرمایہ کار سونے کے علاوہ تیل کی خرید و فروخت کی متوجہ ہوئے۔تاجروں اور سرمایہ کاروں نے تیل کی خرید وفروخت میں اہم کردار ادا کیا۔تاجر سرمایہ کار ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھتا ہے اور منافع کے لئے اشیاء کا استعما ل کرتا ہے۔سرمایہ کار اور تاجروں نے ہمیشہ مستحکم اور دیر پا اشیاء کو معیار بنا کر ذریعہ تجارت بنایا۔ان تین بنیادی اشیاء جیسے کرنسی ،سونا او رتیل کے علاوہ ایک اور کاروبار ’’ پراپرٹی ‘‘ نے پر پھیلائے۔جس میں بیرون ملک اور اندرون ملک اکثر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔تاجر اور سرمایہدار سرمایہ کاری کیلئے ہمیشہ نئے نئے طریقے اور میدان ڈھونڈتا ہے۔اسٹاک ایکس چینج بھی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

جب سونے ،ڈالر ،تیل ،پراپرٹی ،اسٹاک ایکس چینج میں لین دین سے جی بھر گیا تو لاٹریوں اور مصنوعی کرنسیوں نے جنم لیا۔جس کا نہ وجود ہے نہ کوئی گارنٹی ہے اور اس میں آج کل مشہور زمانہBit Coin ہے۔اس کرنسینے 2017 ء میں نہایت تیزی سے مقبولیت حاصل کرلی ہے۔جس تیز رفتاری سے یہ اُوپر کی طر ف جارہی ہے۔اکثر سرمایہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ یہ اُڑان جاری رہے گی۔ اسٹاک ایکس چینج شیئر اور غیر قانونی جوئے کی دیگر اقسام کے بعدBit Coin کے نام سے کاروبار کا آغاز ہوگیا ۔اس وقت ایک Bit Coin کی قیمت 1250640/- روپے ہے۔یعنی ایک Bit Coin بارہ لاکھ پچاس ہزار چھ سو چالیس پاکستانی روپوں کے برابر ہے۔پاکستان کے تمام شہروں میں انٹر نیٹ کے ذریعے Bit Coinکی ٹریڈنگ ہورہی ہے۔روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ،کروڑوں کا لین دین ہوتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے Bit Coinکو غیر قانونی قرار دیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیجیٹل کرنسیوں کو تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس قسم کی کرنسیوں کے استعمال کا کھوج لگا رہی ہے۔کیونکہ یہ کرنسی اکثر ٹیکسوں سے بچنے اور منی لانڈرنگ کے لئے استعمال ہوتی ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی کھلے عام انٹرنیٹ پر اس کے ریٹس اور خرید و فروخت جاری ہے۔ہے کوئی جو ہمیں اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں آگاہ کرے؟ ایسا نہ ہو کہ آئندہ کوئی نیا اسکینڈل منظر عام پر آجائے ۔جیسے اس سے قبل نان شیڈولڈ بینکوں کا اسکینڈ ل آیا۔ یا دیگر مفتیان نے لوگوں کے پیسے ہڑپ کئے ۔یا ڈبل شاہ نے لوگوں کو لالچ دے کر عوام کو جمع پونجی سے محروم کردیا ۔اس لئے بہتر ہے کہ حکومت پہلے سے اس کی پیش بندی کر کے عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کرے۔