Daily Mashriq


سی این جی بندش کے باوجود شہریوں کی بڑھتی شکایات

سی این جی بندش کے باوجود شہریوں کی بڑھتی شکایات

ہمارے نمائندے کے مطابق ایس این جی پی ایل کی جانب سے سی این جی سٹیشنز کی بندش کے باوجود گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے گیس کی ضرورت اور استعمال میں اضافہ تو فطری امر ہے جس کے باعث گیس پریشر میں کمی آسکتی ہے لیکن سی این جی سٹیشنز میں گیس پریشر میں کوئی کمی کیوں نہیں آئی جبکہ گھریلوصارفین کا تو چولہا بھی نہیں جلتا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں گیس کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہری لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی بھی نایاب اور مہنگی ہوگئی ہے۔ پشاور کے مختلف علاقوں میں گیس لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹوں سے بھی تجاوز کر گیا ہے جبکہ زیادہ تر گیس کے کم پریشر کی شکایات بھی شہریوں کو درپیش ہیں، سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، محکمہ سوئی گیس ہمیں احتجاج کرنے پر مجبور نہ کرے اور فی الفور شہر سے سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سی این جی سٹیشنز کی بندش کے اوقات میں شہریوں کو گیس کی سہولت میسر آنی چاہئے تھی لیکن ایسا کرنے کے باوجود شہریوں کی شکایات میں اضافہ کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ایس این جی پی ایل کے اقدام کے باوجود شہریوں کی شکایات میں کمی کیوں نہیں آئی۔ صوبائی حکومت کو بھی شہریوں کے احتجاج کی دھمکی کے پیش نظر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے مسائل میں کمی آئے اور وہ احتجاج جیسے انتہائی اقدام پر مجبور نہ ہوں۔

شہر بے اماں میں مقابر بھی محفوظ نہیں

صوبائی دارالحکومت پشاور کے قبرستانوں کیلئے وقف اراضی پر صرف قبضہ مافیا ہی قابض نہیں بلکہ بعض قبرستانوں پر قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکار بھی غیرقانونی طور پر قابض ہیں اس طرح کی صورتحال میں قدیم قبرستانوں کی حالت زار کی جو رپورٹ ہمارے نیوز رپورٹر نے تفصیلی طور پر دی ہے اس پر تعجب کی ضرورت نہیں لیکن ان کی رپورٹ چشم کشا ضرور ہے جس سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئے۔ باتصویر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پشاور شہرکے جنوب میں ہزارخوانی اور کوہاٹ روڈ کو ملانے والی سڑک سے ملحقہ قلعہ نما قبرستان میں شیخ حبیب کے مزار کے احاطے میں دفن افغان امراء کی قبریں مسمار کر کے قیمتی سنگ مر مر تک اکھاڑ کر لے جایا گیا ہے ۔ کتبے بھی غائب کر دئیے گئے ہیں جبکہ مزید قبضے کیلئے مزار کی دیواریں بھی توڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ پشاور میں تاریخی مقامات اور مزارات کو محفوظ بنانے کا کوئی انتظام موجود نہیں جس کی وجہ سے عام مقبروں اور عمارتوں کیساتھ ساتھ شخصیات کی قبریں اور تاریخی عمارتوں پر بھی قبضہ مافیا اور نشے کے عادی لوگ قبضہ جمائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے تاریخی ثقافت گم ہورہی ہے۔ ہزاروں سرکاری عمال کی موجودگی کے باوجود پشاور میں لوک ورثہ محفوظ نہیں، شہر کے متعدد قبرستانوں میں قبضوں کے بعد کھنڈرات بنی تاریخی عمارتوں اور خانقاہوں پر بھی قبضہ کیا جارہا ہے۔ شہری قبرستان بچاؤ تحریک شروع کر کے بساط بھر کوشش کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اس ضمن میں حکام کی بے حسی پر چنداں فرق نہ پڑا بہرحال جو ہو چکا اس کا مداوا شاید ہی ممکن ہو، کم ازکم باقی ماندہ قبرستانوں اور مقابر کے تحفظ ہی پر توجہ دی جائے تو غنیمت ہوگی۔

ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے پر مزید توجہ کی ضرورت

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ میں صفائی کی ابتر صورتحال اور ڈی ایم ایس سمیت ڈاکٹرز کی ڈیوٹی سے عدم موجودگی کی تحقیقات سینئر افسرکی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل احسن اقدام ہے۔ صوبے کے دیگر ہسپتالوں بارے شکایات کا بھی سختی سے نوٹس لیا جانا چاہئے تاکہ عوام کو طبی سہولتوں کے حصول میں درپیش مشکلات کا کسی حد تک تو ازالہ ہوسکے۔ صوبائی وزیر صحت کی جانب سے جس تواتر کیساتھ ہسپتالوں کے اچانک دوروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اس سے جہاں ایک طرف وزیر صحت کو مسائل ومشکلات اور صورتحال کا جائزہ بچشم خود اور موقع پر ملاحظہ کرنے کا موقع ملے گا وہاں اُن کے دوروں میں سامنے آنے والے معاملات کا سختی سے نوٹس لینے اور تادیبی کارروائی کے باعث ہسپتالوں کی انتظامیہ چوکنا ہو جائے گی جس کے نتیجے میں بہتری ممکن ہوسکتی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی وزیر صحت کیساتھ ساتھ دیگر محکموں کے وزراء اور مشیر حضرات بھی اپنے اپنے متعلقہ محکموں اور اداروں میں اصلاح احوال کیلئے اس قسم کے سنجیدہ اور برموقع اقدامات اُٹھائیں گے جس کے نتیجے میں جہاں عوام کو حکومتی اداروں سے مشکلات کی شکایات میں کمی واقع ہوگی وہاں عوام بھی حکام کی جانب سے ان سنجیدہ اقدامات سے بڑی حد تک مطمئن ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں