Daily Mashriq


بتاقافلہ لٹا کیو ں ؟

بتاقافلہ لٹا کیو ں ؟

میں سی ٹی ڈی مقابلے میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے مقتولین کی دو کروڑ روپے قیمت لگائی گئی ہے ہمارا کہنا ہے کہ ہم سے حکومت پڑھائی کو پیالے لیکن ہمارے پیاروں کو ہمیں واپس دلادے ہمیں رقم نہیں چاہیے اور نہ ہی ہمارے پیاروں کی قیمت دو کروڑ یا اس سے زیادہ یا کم ہے ان کی زندگی زیادہ عزیز ہے اور زیادہ قیمتی ہے ہمارے لئے خلیل خلیل کے بھائی جلیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں انصاف کی امید نہیں ہے تحقیقات کے بغیر کسی کو دہشتگرد کیسے قرار دیا جاسکتا ہے یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب حکومت کو دینا چاہیے۔پنجاب کی انسداد دہشت گردی فورس نے گزشتہ روز ساہیوال میں ایک نام نہاد آپریشن کیا جس میں 13 سالہ بچی عجیبہ کو 6 گولیاں ماری گئیں اس کی والدہ نبیلہ کو چار والد خلیل کو تیرا گولیاں اور ڈرائیور ذیشان کو دس گولیاں ماریں انسداد دہشت گردی فورس کے اس نام نہاد آپریشن کے فوری بعد جو کہانی میڈیا کے ذریعہ پھیلائی گئی اس کے مطابق سی ٹی ڈی نے ایک کامیاب آپریشن کے بعد داعش سے تعلق رکھنے والے چار انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان کے قبضے سے 3 اغوا شدہ بچوں کو بازیاب کروا لیا گیا پنجاب کے انسداد دہشت گردی فورس کی اس ظالمانہ کارروائی کے بعد بہت سارے افسانے بھی گھڑے گئے جس میں سے ایک افسانہ یہ بھی پھیلایاگیاکہ انسداد دہشت گردی فورس پر موٹر سائیکل سوار نے فائرنگ کی اور پھر گاڑی سے بھی فائرنگ کی گئی اور گاڑی میں جاں بحق ہونے والے اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ یہ بے تکی منطق ہے پہلے یہ بتایا جائے کہ کیا ساتھیوں میں آپس میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کی وجہ سے وہ گولیوں کی زد میں آئے موٹرسائیکل سوار کو یا کسی پولیس اہلکار کو کوئی گولی نہیں لگی وہ گولیاں کہاں چلی گئیں حقائق خود بولا کرتے ہیں جب تیرہ سالہ بچی اریبا کو 6 گولیاں لگیں اور اس کی والدہ نبیلہ بی بی کو چاراور والد خلیل کو 13 اور ڈرائیور ذیشان کو دس گولیاں لگیں جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ان کو بہت ہی منصوبہ بندی کے ذریعے گولی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اتنی گولیاں ان پر برسائیں کہ ان کے بچنے کارتی بھر بھی کوئی امکان باقی نہ رہے تاکہ انسداد دہشت گردی فورس کی دہشتگردی کا کوئی ثبوت کسی طور پر بھی فراہم نہ ہو پائے۔ دلچسپ اور حیرت انگیز اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو بچے ان کی گولیوں کی زد میں آ کر زخمی ہوئے ان کے بارے میں یہ الزام دہرایا گیا کہ یہ مبینہ دہشتگرد تین بچوں کو اغوا کرکے لے جارہے تھے جن کو بازیاب کرلیا گیا جبکہ وہ خلیل کے بچے ہیں۔ اگر انسداد دہشت گردی فورس کے بار بار یوٹرن لینے والے موقف کو دیکھا جائے تو یہ بات بڑی واضح ہے کہ یہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے اور بے گناہ افراد کو قتل کیا گیا ہے جس کے لیے کسی بھی جے آئی ٹی کی ضرورت نہیں ہے اس کے لئے سیدھے سادے طریقے سے اور براہ راست کارروائی ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی کے ذریعے وقت مانگ کر حقائق کو چھپانے کے لئے موقع تلاش کیا جا رہا ہے حکومت کی چالاکی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں میں تحمل اور صبر پیدا کرنے کی غرض سے غمزدہ خاندان کے لیے دو کروڑ روپے کی امداد کا فوری ہی اعلان کر دیا گیا جس سے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ حکومت مقتولین کو بے گناہ اور معصوم جانتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی موٹر کار کے ڈرائیور ذیشان کے لیے کسی قسم کی امداد کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اسے داعش کا دہشتگرد قرار دیا گیا ہے جس کے لیے کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیے گئے جبکہ ذیشان خلیل کا ہمسایہ ہے اور وہ ٹیکسی چلایا کرتا ہے خلیل نے اپنے بھائی کی شادی میں جانے کے لئے اپنے ہمسائے سے ٹیکسی کا کہا تھا اور وہ سب شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے اس سانحہ میں صرف چار افراد ہلاک نہیں ہوئے ہیں بلکہ مقتول خلیل کی والدہ بھی صدمے سے جاں بحق ہو گئی اس طرح ایک منطقی لحاظ سے خلیل کی والدہ کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی انسداد دہشتگردی کے مبینہ دہشتگردوں پر عائد ہوتی ہے اور اس کا بھی ایک مقدمہ درج ہونا چاہئے کہ معصومین کے قتل کی وجہ سے خلیل کی والدہ بھی جاں بحق ہو گئی۔ وزیراعظم عمر ان خان نے قوم کے نا م ٹویٹ کیا ہے کہ اس سانحہ سے ان کو صدمہ ہو ا ہے اور وہ اب بھی صدمے میں ہیں اگر انہیں انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کی جانب سے اس ظلم پر صدمہ پہنچا ہے تو انہیں مالی امداد سے پہلے آئی جی پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے تھااور اس کے بعد ایک جے آئی ٹی تشکیل دی جاتی اب جو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے کیا اس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے پیٹی بند بھائی کے خلاف جرات مندانہ تحقیقات کرے گی غیرجانبدارانہ حیثیت کو برقرار رکھے گی اس کا جواب حکومت ہی دے سکتی ہے کیونکہ حکومت کے بار بار اس واقع پر یوٹرن آتے رہے ہیں جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ حکومت اور پولیس کے حکام انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کو جو اس سانحے میں ملوث ہیں بچانے کیلئے کاوشیں کر رہے ہیں۔اب تازہ اطلاع یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے واقعہ ساہیوال کی تحقیق کا آغاز کردیا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز جے آئی ٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا اور وہاں سے مختلف شواہد اکٹھے کئے مختلف کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کرلی ٹیم نے اردگرد سے بعض معلومات حاصل کیں لوگوں سے بھی معلومات اکٹھی کی ہیں َ جہا ں تک ذیشان کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ خلیل کے محلے میں رہتا تھا اور اس کا ذاتی مکان ہے اس کا بھائی پولیس اہلکار ہے اورذیشان نے اپنے بھائی کی ضمانت بھی محکمے کو دی تھی اگر وہ دہشت گرد ہوتا تو ایک سرکاری ادارے میں ضمانتی کیسے بنتا۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں