Daily Mashriq


کوئی منزل پہ پہنچ کے بھٹک جاتا ہے

کوئی منزل پہ پہنچ کے بھٹک جاتا ہے

نے ’لکھے موسیٰ اور پڑھے خدا ‘ کی ضرب المثل یا غلط العام محاورہ سنا ہوگا، یہ ایسی تحریر کے متعلق بولا جاتا ہے جو پڑھی نہ جاسکے ، اصل میںیہ ضرب المثل ’ لکھے مو سا اور پڑھے خود آ ‘ ہے ۔ جس کے معنی ہیں کہ لکھنے وا لے نے بال جیسا مہین لکھا ہے جسے وہ خود آکر ہی پڑھ سکتا ہے ، اپنی بند قبا کو بھول کر کسی کے گریبان میں جھانکنے والا ہر کس و ناکس لکھے موسیٰ اور پڑھے خدا کا جملہ کہہ کر ہر اس تحریر پر تنقید کرنے لگتا ہے جو پڑھی نہ جاسکے یا پڑھ کر سمجھی نہ جاسکے ۔اگر کوئی ’’ آجشبکو‘‘ کے لفظ کو آج شب کو کی بجائے ’ آ جش بکو ‘ پڑھے تو قصور کس کے سر تھوپا جائے اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے، اردو میں پمفلٹ کو کتابچہ کہتے ہیں ۔اگر کوئی کتابچہ کے لفظ کو دولخت کرکے’ کتا‘۔ ’بچہ‘ کہنے لگے تو اس میں لکھنے والے سے زیادہ پڑھنے والے کو قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے کیونکہ کتابچے یا کتابچہ کو وہی لوگ کتا، بچہ پڑھیں گے جو کتاب اور کتابچہ میں پائے جانے والے فرق کو نہیں جانتے اور لکھنے پڑھنے کے معاملے میں پیدل ہوتے ہیں یا الفاظ کی ادائیگی کے معاملے میں زبر زیر پیش یا اعراب کا خیال نہیں رکھتے۔ ایسی حرکات کا ارتکاب صرف ان پڑھ یا اعراب کی نزاکتوں کا احساس نہ رکھنے والوں سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بڑے بڑے دانشور’ سنس کرت‘ کو ’ سن سک رت‘ کہہ کر اپنی لیاقت کا بر ملا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ میرے آج کے کالم کے یہ تمہیدی جملے اردو لغت میں موجود ایک لفظ ’ورثہ ‘ پر بات کرنے کے لئے در آئے ہیں۔ اگر آپ لغت گردانی کرکے دیکھیں تو ورثہ کے اس لفظ کے ہجے وَ ۔ رَ ۔ ثہ ہیں۔ جب کہ اکثر لوگ وَرَثہ کے اس لفظ کو واؤ کے نیچے زیر لگا کر وِرثہ یا حرف را پر جزم لگا کر وَرثہ پڑھتے اور وِرثہ ہی لکھتے ہیں۔

زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو

جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو

کے مصداق ممکن ہے وہ لوگ ٹھیک ہی ہوں۔ کیونکہ پاکستان میں قومی لوک ورثہ کے ادارے والے بھی ورثہ کا یہ لفظ جب انگریزی زبان میں لکھتے ہیں تو اس کا ہجا ’وی آئی آر ایس اے‘ ہی کرتے ہیں۔ اگرقومی لوک ورثہ جیسا قد آور اور پڑھا لکھا ادارہ ایسا ستم ڈھا سکتا ہے تو بابو بہ یک نکتہ یابو کا ارتکاب کرنے والے مجھ جیسے سطحی علم کے لوگوں سے شکوہ یا شکایت کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔ کل ہی کی بات ہے ممتاز ادیب شاعر، نیوز کاسٹر اور انگریزی ادب کے استاد پروفیسر ملک ارشد حسین نے سب لائم تنظیم کی بانی مبانی اپنی قانون دان شریک حیات کے ہمراہ محکمہ سیاحت کے تعاون سے سرحد چیمبر آف کامرس پشاور کے محسن ہال میں مشترکہ ورثہ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی ، جس میںپشاور ٹاؤن ون کے ناظم زاہد ندیم اعوان اور ڈسٹرکٹ نائب ناظم کے علاوہ ٹورازم کارپوریشن کے جنرل منیجر اور مینجنگ ڈائریکٹر بطور خاص شامل تھے ، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ ائریکٹر جنرل اور تصوف کے موضوع پر گہری نظر رکھنے والے اقبال سکندر کے علاوہ اس تقریب میں موجود چیدہ چیدہ دانشوروں اور دانشمندوں نے اہالیان پشاور کے مشترکہ ورثہ کے مختلف پہلوئوں پر گفتگو کرتے ہوئے ثابت کیا کہ پشاور میں مختلف النوع ثقافتوں کی بوقلمونی نے اس خطہ کو تہذیب وتمدن کے گلدستے کا روپ دے دیا ہے، تقریب کا آغاز حسب روایت تلاوت کلام مجید فرقان حمید اور نعت رسول مقبول ﷺسے ہوا، جس کے بعد پشاور کی دیہاتی ثقافت کے نمایا ں عنصر حجرہ کے موضوع پر اس قدر طولانی اور سیر حاصل تقریر سننے کو ملی کہ محسوس ہونے لگا کہ آج کی تقریب کا موضوع ہی پختون کلچر کا عکاس حجرہ ہی ہے ۔ جس کے بعد پروجیکٹر کے ذریعہ پشاور کی تاریخی اور آرکائیو ویلیوز کی حامل تصاویر پر مبنی ویڈیوز دکھائی گئی جس میں پشاور کے قابل دید تاریخی مقامات کو پروجیکٹ کیا گیا۔ ہندکو اور پشتو کے سکالرز کے علاوہ خطہ پشاور میں پنپنے والے مختلف مذاہب کے نمائندوں نے آج کی محفل کو ملٹی لنگوئل کے علاوہ کثیر المذاہب کانفرنس کا روپ دے دیا اور اس پر طرہ یہ کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے پرائڈ آف پرفارمنس موسیقار اور ثقہ بند طبلہ نواز استاد سبز علی کو پشاوری کلاہ لنگی پہنا کر انہیں محکمہ سیاحت اور سب لائم تنظیم کی جانب سے پشاور ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔یہاں اس بات کو دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ خطہ پشاور گندھارا تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے ، یہ شہر آرزو صدیوں پہلے دنیا بھر میں پھیل جانے والے بدھ مت کا منبع و مبدا رہا ، مہاتما گوتم بدھ کو اس ہی شہر میں گیان حاصل ہوا اور یہیں سے اس کی راکھ دریافت ہوئی، شاہراہ ابریشم کے آخری نکڑ پر ہونے کی وجہ سے اسے ایشیاء کی بہت بڑی تجارتی منڈی کا درجہ حاصل رہا ۔ اسے برصغیر ہندو پاک کا صدر دروازہ بھی کہا گیا، یہاں مختلف النوع تہذیب و تمدن اور ثقافتوں کو پنپنے کا موقع ملا، یہاں ہندو سکھ عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے لوگ بھائی بھائی بن کر رہتے رہے اور اس شہر کو گوشہ عافیت سمجھتے رہے ، لیکن ایک دور ایسا بھی آیاکہ ملک اور ملت کے اندرونی او ر بیرونی دشمنوں نے اس شہر کا چہرہ مسخ کر رکھ دیا ۔ لگتا ہے کہ مشترکہ ورثہ کے عنوان سے سجائی جانے والی اس محفل کا مقصد نئی نسل کو اس شہر کی گم گشتہ ثقافت سے آشنا کرنا تھا جس کی کامیابی کی منزل نشستن گفتن و خوردن و برخاست کے آسمانوں سے بہت آگے ہے، اگروفاؤں کے تقاضے نبھانے کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو منزل ایک دن خود قدم بوسی کے لئے آن حاضر ہوگی ، یہ الگ بات کہ

کوئی منزل کے قریب آکے بھٹک جاتا ہے

کوئی منزل پہ پہنچ کے بھٹک جاتا ہے

متعلقہ خبریں