Daily Mashriq


ہماری سر زمین‘ پاک سرزمین

ہماری سر زمین‘ پاک سرزمین

یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عجائبات کا مظہر ہے کہ ہر شخص کے دل میں اپنے جنم بھومی کی محبت و عقیدت رکھی گئی ہے۔امریکہ اور یورپ و جاپان وغیرہ کو آج کل مادی و سائنسی ترقی کے کمالات اور انسانوں کو زندگی کی سہولیات کی فراوانی فراہمی کے سبب جنت ہائے ارضی کہا جاتا ہے۔ ان ممالک میں زندگی کے ہر شعبے میں آج وہاں کے باشندوں کو وہ سب کچھ میسر ہے جو کبھی تصورات اور طلسماتی داستانوں میں بیان ہوا تھا۔ان ممالک میں تعلیم‘ روز گار‘ صفائی ستھرائی‘ نظم و ضبط‘ قانون کی فرمان روائی‘ نظام حکومت اور ملاوٹ کے بغیر اشیاء ضرورت کی فراہمی بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیسری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا اور افریقہ سے لوگ جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے ان ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی حالت لا طینی امریکی ممالک بالخصوص میکسیکو وغیرہ کے لوگوں کی ہے جن کو روکنے کے لئے امریکہ نے سرحد پر باڑ لگوانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن ان ساری دلکشیوں اور روشن حال و مستقبل کی امیدوں کے باوجود جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان کے لوگ اپنے جنم بھومی کو بھولتے نہیں۔ اور ان کو جب بھی موقع ملتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وطن عزیز پاکستان میں آکر ہی دم لیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں ساری خوبصورتیوں‘ نظاروں‘ وسائل اور ترقی کے بھرپور امکانات و مواقع کے باوجود زندگی گزارنا آسان و مطمئن نہیں ہے۔ اور یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ قیام پاکستان کے ستر برس بعد بھی ہماری حکومتیں اتنا بھی نہ کرسکیں کہ غربت ختم کرنا تو ایک طرف کروڑوں عوام کو دو قت کا کھانا محنت مزدوری کرکے بھی فراہمی کا انتظام‘ بندوبست اور منصوبہ بندی نہ کرسکیں جس کی وجہ سے قیام پاکستان میں کھلے اور واضح الفاظ میں ذکر موجود ہے۔ پاکستان کے غم اتنے زیادہ ہیں کہ مولانا محمد امیر عرف بجلی گھر صاحب مرحوم پاکستان کے عوام کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اکثر فرماتے‘ تن ہمہ داغ داغ شد‘ پنبہ کجا کجا نہم‘‘ یعنی سارا جسم زخم زخم ہے‘ مرہم پٹی کہاں کہاں رکھوں۔ اگرچہ یہ بحث اپنی جگہ پر بہت طویل‘ پیچیدہ اور گزشتہ چھ عشروں سے جاری ہے کہ وطن عزیز کو موجودہ حالات تک پہنچانے میں آخر ہاتھ کس کا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما و سیاستدان‘ مارشل لا حکومتوں اور عوام و مارشل لا والے ان سیاستدانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ ان باتوں کو میڈیا اور اخبارات کے اداریوں‘ کالموں اور خبروں میں سنتے‘ پڑھتے تھک گئے ہیں اور حیران و ششدر ہونے کے ساتھ پریشان بھی ہیں کہ کروڑوں عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور لاکھوں لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ لیکن آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ہمیں ان حالات تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں۔ ہر آدمی دوسرے کو اس کا الزام دیتا ہے اور ہم سے بہت کم لوگ اپنے حصے کا چراغ جلاتے ہوئے اور اندھیرا کم کرنے کی کوشش بہت کم کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ ہم سب بحیثیت قوم اس کے ذمہ دار ہیں۔ عوام پر اس لحاظ سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہیں جب بھی اپنے ووٹ کے ذریعے نسبتاً اچھے‘ قابل اور دیانت دار لوگ پارلیمنٹ میں بھیجنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ پیسے کی چمک‘ چپڑاسی بھرتی کرانے‘ برادری اور ذات کے سبب ان لوگوں کو منتخب کرلیتے ہیں جن کی پیشانیوں اور چہروں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ ذاتی کاروبار کو ترقی دینے اور ذاتی مفادات کے حصول کے لئے اس میدان میں اترے ہیں۔ سیاستدانوں کی ان ہی چھینا جھپٹیوں کے سبب جب مارشل لاء آتا ہے تو عوام سجدہ شکر اور نجات کے نوافل ادا کرتے ہیں۔ لیکن چند برسوں بعد سیاستدانوں کو جب جمہوریت کی یاد آتی ہے تو عوام پھر سے ان کے ساتھ جلسوں جلوسوں میں ’’ قدم بڑھائو‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں اور یوں پاکستانی قوم‘ یہودیوں کی طرح وادیٔ تیہہ میں سرگرداں پھر رہے ہیں۔ایسے میں جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان اشرافیہ کی ای سی ایل سے خوف کا ذکر کرتے ہوئے جب سر زمین پاکستان کی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہیں اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ آخر یہ اشرافیہ وطن عزیز پاکستان سے باہر جانے میں اتنی دلچسپی کا اظہار کیوں کرتے ہیں‘ جب اپنے وطن میں اس سے بڑھ کر سب کچھ موجود ہے جو بیرونی ممالک میں ہوتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ پاک سر زمین اس کائنات میں جنت ارضی سے اور اسی ملک میں چار موسموں کے علاوہ برف پوش چوٹیاں‘ صحرا‘ میدان‘ دریا اور سمندر موجود ہیں۔ شمالی علاقہ جات اور سندھ کا صحرائی حسن اہل دل اور اہل ذوق کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ اس حسن کے پیش نظر اور دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آنے کے سبب پاکستان کے شعرا اور ادبا نے نظم و نثر میں عشق و وجد میں ڈوب کر اس کے ترانے اور نغمے لکھے ہیں۔ اور حفیظ جالندھری نے ’’پاک سر زمین شاد باد‘‘ لکھ کر اس سر زمین کی مادی و معنوی حسن کو امر کردیا ہے۔ لیکن ہماری اشرافیہ کو اس کا حسن اس لئے نہیں بھاتا کہ انہوں نے اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بے ذوق اور کورے لوگ ہیں۔ ان کو صرف سیم و زر سے عشق ہے۔ دیگر جذبوں سے خدا نے ان کو محروم کیا ہے۔ عمران خان اندر سے ملنگ آدمی ہے اور تہہ دل سے اس مصیبت زدہ ملک کو مشکلات و آلام سے نکالنا چاہتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ کامیاب ہوں‘ لیکن ان کی ٹیم پر نظر دوڑاتے ہوئے کبھی کبھی دل ڈوبنے لگتا ہے اور ہماری نظروں میں بھی وطن کا حسن ماند پڑنے لگتا ہے۔

متعلقہ خبریں