Daily Mashriq

انتخابات ' شکوک و شبہات کا تدارک کیا جائے

انتخابات ' شکوک و شبہات کا تدارک کیا جائے

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں انتخابات کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ کا وجود میں آنا ملک کے لیے بڑی بدقسمتی ہوگی۔ انتخابات کے نتیجے کے بعد مخلوط حکومت سازی سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت بنانے کے لیے مسلم لیگ(ن)اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے اتحاد کریں گے، کیونکہ ان کے رہنما کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اگر ان کے ساتھ حکومت بنانی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھیں۔مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ان کا مینڈیٹ چھینا گیا تو سخت رد عمل ہوگا۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن)کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھاندلی کرنے والے تمام نام عہدوں کے ساتھ بے نقاب کیے جائیں گے اور ردعمل ایسا ہوگا جس کو کوئی''فورس''روک نہیں سکے گی۔انتخابات میں دھاندلی کی کوششوں پر خبردار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی میں ملوث تمام نام عہدوں کے ساتھ بے نقاب کیے جائیں گے، چاہے وہ لوگ وزارت زراعت سے ہوں یا وزارت اطلاعات یا واپڈا کے لوگ ہوں۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ انتخابات کے نتائج خالی کرسیوں والوں کے حق اور بھرے جلسوں والوں کے خلاف آئے تو غصہ جیتنے والوں کے خلاف نہیں جتانے والوں کے خلاف ہوگا۔بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے بھی انتخابات سے متعلق خبریں نشر کی ہیں، نیویارک ٹائمز اور دیگر نشریاتی ادارے مسلم لیگ(ن)کے نہیں ہیں۔دریں اثناء برسلز میں جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو انتخابات کے دوران محفوظ اور صاف ماحول فراہم کیا جائے۔جاپانی وزیرخارجہ ٹارو کونو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جاپان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں انتخابات صاف، شفاف، پرامن ہوں اور دہشت گردوں کو جمہوری عمل میں مداخلت کا کوئی موقع فراہم نہ کیا جائے۔واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سیاسی امیدواروں اور ان کے کارکنان پر حملے بزدلانہ ہیں جو پاکستانی قوم کو جمہوری حقوق سے دور نہیں رکھ سکیں گے ۔یورپی یونین نے کہا تھا کہ وہ پاکستانی حکام سے امید کرتے ہیں کہ ملک بھر میں تمام انتخابی سرگرمیوں کے لیے سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔گوکہ تحریک انصاف کے قائد کو انتخابات میں دھاندلی اور انتخابی مہم چلانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہیں بلکہ ان کے لئے حالات ساز گار ہیں لیکن موافق سمت ہوا چلنے کے باوجود ان کو اس امر کا یقینن نہیں کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد بننے والی ان کی ممکنہ حکومت ان کی خواہشات اور مرضی کے مطابق بن سکے گی۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) سے نہ وہ اتحاد کے حامی ہیں اور نہ ہی محولہ جماعتیں ان سے اشتراک اقتدار کی سوچ رکھتی ہیں صرف ایم ایم اے کے قائد مولانا فضل الرحمن نے طوعاً و کرھاً عندیہ دیا ہے جبکہ اے این پی ' پشتونخوا' ملی عوامی پارٹی بھی تقریباً مخالفین کی صفوں میں ہیں جبکہ قومی وطن پارٹی کو ان کے ساتھ چلنے کا تلخ تجربہ ہے اور نہ ہی قومی وطن پارٹی مرکز میں قابل ذکر نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ اسی منظر نامے سے ہٹ کر جو دوسرا منظر نامہ ہے اس میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو بالخصوص اور باقی جماعتوں کو بالعموم انتخابات کے شفاف نہ ہونے اور دھاندلی کا یقین ہے اس لئے وہ بار بار اسی منظر نامے کے مطابق اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری جس میں احتجاج اور انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا عندیہ ملتا ہے خاص طور پر مسلم لیگ(ن) شاکی ہے کہ پنجاب میں ان کا مینڈیٹ کہیں چرایا نہ جائے۔ جہاں تک ملکی انتخابات میں دھاندلی اور نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا تعلق ہے اسے ایک معمول ضرور تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ شکوک و شبہات کے بادل گہرے اور تیور بتا رہے ہیں کہ ممکنہ صورتحال بھانپ کر اور ملوث عناصر کا ادراک و تعین کرکے انتباہ جاری کر رہے ہیں۔ سیاسی صورتحال کا تبدیل ہونا اور نتائج کا توقعات کے برعکس آنا اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔ تحریک انصاف بھی شاید اپنے قائد کی خواہشات کے مطابق یکا و تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں مشکل ہی سے آسکے گی۔ محولہ دونوں قسم کی صورتحال تشویش کا باعث امر اس لئے ہے کہ بعد از انتخابات کی صورتحال ملک میں سیاسی استحکام کی بجائے خدانخواستہ عدم استحکام کا باعث بنے گی۔ عالمی رہنمائوں کے بیانات میں جو منظر نامہ دکھائی دیتا ہے اس میں بھی اعتماد پر عدم اعتماد اور شکوک و شبہات کا حاوی عنصر نمایاں ہے۔ اس ساری صورتحال کا ایک اور سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کی نا اہلی کے فیصلے سے تاایندم ملکی معیشت جس عدم استحکام سے دوچار چلی آرہی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ملکی تاریخ کے جس کم ترین سطح پر آچکا ہے یہ صورتحال ایک مضبوط حکومت اور ملک ایسے سیاسی استحکام کا متقاضی ہے جس میں حکومت اعتماد کے ساتھ فیصلے کرسکے اور ملک میں سیاسی استحکام بیرونی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کے لئے قابل قبول ہو۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہیں ہوتا تو ملک میں سیاسی انتشار کے اثرات سے ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ جانے کاخدشہ ہے۔ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عام انتخابات کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی جائے۔ سیاسی جماعتوں کے شکوک و شبہات دور کئے جائیں اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں عوام کا جو فیصلہ سامنے آجائے اسے قبول کیا جائے اور حکومت سازی کے وقت ضد اور انا پر مصلحت اور ملکی مفاد کو غالب رکھا جائے۔ ضررت اس امر کی ہے کہ ممکنہ منظر نامے میں جو شبیہہ دکھائی دے رہی ہے اس کو مکمل تصویر بننے نہ دیا جائے' ایسا اسی وقت ممکن ہوگا جب انتخابی عمل شکوک و شبہات سے پاک ہوگا اور کسی جماعت کو دھاندلی نا انصافی اور جابنداری کی شکایت نہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں