Daily Mashriq

یہ خیال پہلے آتا تو زیادہ اچھا تھا

یہ خیال پہلے آتا تو زیادہ اچھا تھا

تقریباً تین عشروں سے زائد اقتدار کے آسمان پر چمکنے کے بعد قسمت کا ستارہ گردش میں آنے پر وزارت عظمیٰ سے محروم ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جیل میں غریب قیدیوں کے جرمانے کی ادائیگی' جیل میں پانی کا انتظام بہتر بنانے' سائبان بنانے اور قیدیوں کو سہولتوں کی فراہمی کے لئے انتظامات کا عندیہ بلا شبہ قابل تحسین اور باعث ثواب امور ہیں جن پر مخالفین کی جانب سے بھی تنقید کی گنجائش نہیں۔ اگر نواز شریف اور ان کی نازوں پلی صاحبزادی اگر قیدی بن کر اڈیالہ جیل نہ جاتے تو کیا ان سہولیات و ضروریات کی فراہمی ضروری نہ تھیں یقینا اس کی اشد ضرورت تھی مگر اس وقت ان ضروریات پر توجہ دینے کی فرصت کسے ہوتی۔ پنجاب کی نگران حکومت نے سابق و زیر اعلیٰ پنجاب کو جیل میں نواز شریف کو درپیش مشکلات بارے خط کے جواب میں ان انتظامات کی ضرورت کو اپنے دور اقتدار میں پورا کرنے کا جو جواب دیا ہے وہ مبنی بر حقیقت ہے۔ سیاسی و حکومتی معاملات سے قطع نظر دیکھا جائے تو ایک عام آدمی اور خدانخواستہ اگر اسے کسی جرم پر قید و بند کی سزا ملی ہے وہ ایسا محروم اور نا قابل توجہ فرد بن جاتا ہے جس کی فلاح و بہبود اور ضروریات پر حکومت' جیل حکام اور سوشل ویلفیئر کا محکمہ تو کجا خود ان کے انتہائی قریبی عزیزوں کے علاوہ کوئی پرسان حال تک نہیں ہوتا صرف قیدیوں پر کیا موقوف عوام کی حالت زار بدلنے کے دعوے انتخابی جلسوں ہی میں سنے جاتے ہیں اور اقتدار ملنے کے بعد بلا امتیاز جماعت کسی بھی دور میں عوام سے اخلاص کا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملتا اور نہ ہی ملنے کی توقع ہے۔ بہر حال اب جبکہ قدرت نے نواز شریف کو سوچنے اور قیدیوں کے مسائل و مشکلات سے آگاہی اور ان کو حل کرنے کا موقع دیا ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ احسن اقدام ہے۔ دیگر سیاستدانوں اور آنے والے حکمرانوں کو بھی اس سے سبق سیکھنا چاہئے اور اگر پنجاب یا مرکز یا جہاں بھی سابق وزیر اعظم کی جماعت کو حکومت اور اختیار ملے تو ان کو بھی وہ اس امر کی ہدایت کریں کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل کے حل میں پہلے کی طرح کے کردار و عمل کا مظاہرہ نہ کریں۔

متعلقہ خبریں