نجی سکول مالکان کا میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھوتھو کا رویہ

22 جولائی 2018

سپریم کورٹ سے نجی سکولوں کو چھٹیوں کی آدھی فیس کے علاوہ دیگر معاملات میں ریلیف کے ساتھ مقدمے کو ہائیکورٹ کو واپس بھجوانے کے بعد نجی سکولوں کی جانب سے چھٹیوں کی فیسوں کی پوری ادائیگی کے لئے والدین کو مراسلوں کے بعد پرائیویٹ سکولز اور ریگولیٹری اتھارٹی کو اس سلسلے میں اقدامات کی ضرورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدالت عالیہ کے جس حکمنامے پر عملدرآمد کیاجا چکااس کی معطلی کے بعد عملدرآمد پچھلی تاریخوں سے نہیں بلکہ اس تاریخ سے ہونا چاہئے اس صورت میں جو والدین فیس ادا کرکے رسیدیں حاصل کرچکے ہیں ان سے اضافی فیس لی جاسکے گی یا نہیں یہ معاملہ تشریح طلب ہے۔ علاوہ ازیں بہن بھائیوں کی فیسوں کی مکمل وصولی کرنے والے سکولوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی ۔ سپریم کورٹ کا محولہ حکم سر آنکھوں پر تو پھر عدالتوں کے ان احکامات پر بھی اسی طرح من و عن عملدرآمد ہونا چاہئے جس میں والدین اور طلبہ کو ریلیف دیاگیا ہو۔ نجی سکول مالکان کے مفاد کا معاملہ ہو تو عملدرآمد فوراً اور بزور اور اگر نہ ہو تو پھر احکامات کی پرواہ نہیں کی جاتی یہ رویہ نہیں ہونا چاہئے۔ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو چاہئے کہ وہ نجی سکولوں کی مانیٹرنگ اور سہولیات کی فراہمی اور خاص طور پر نجی سکولوں میں کم استعداد اور تجربہ رکھنے والے اساتذہ کی کم سے کم اجرت سے بھی کم مشاہرہ پر رکھنے جیسے دیگر کئی معاملات کا جائزہ لے کر والدین اور طالب علموں کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ سکول مالکان کے حق میں جو بھی فیصلہ آجائے اسے والدین کو اور جو دوسرے فریق کے مفاد کا معاملہ ہو ان دونوں کے حوالے سے یکساں طرز عمل اختیار کرنا ہی موزوں اور قانون کا احترام ہوگا۔

مزیدخبریں