Daily Mashriq

اہلِ سیاست' میڈیا اور عام آدمی

اہلِ سیاست' میڈیا اور عام آدمی

الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کا ایک فائدہ یہ ہے کہ گھر بیٹھے اہلِ سیاست کی خبر مل جاتی ہے لیکن کتنی یہ سوال ٹیڑھا ہے۔ جو اہل سیاست کہتے ہیں وہ نشر اور شائع کر دیا جاتا ہے ' جو وہ نہیں کہتے اس پر سوال کبھی کبھار ہی نظر آتا ہے۔ جوں جوں عام انتخابات قریب آ رہے ہیں بڑی پارٹیوں کے لیڈر جلسے پہ جلسہ کر رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے چند روز پہلے کہا کہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک کی معیشت کی حالت زار ہو گی۔ لیکن یہ انہوں نے نہیں بتایا کہ اگر ان کی حکومت بن گئی تو وہ اس حالت کو سدھارنے کے لیے کیا کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ اگر عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو ان کی پارٹی اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کرے گی۔ ان دو بیانات سے بین السطور یہ نظر آتا ہے کہ ایک کو فتح کی امید ہے اور دوسرے کو شکست کا اندیشہ لیکن کن وجوہ کی بنا پر یہ میڈیا والوں کا کام ہونا چاہیے ۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو اپنا منشور لے کر جگہ جگہ جلسے کر رہے ہیں ۔ یہ منشور عوام سے وعدے تو کر رہا ہے لیکن پارٹی کی خراب کارکردگی کا کوئی جواز پیش نہیں کر رہا ۔ اس منشور پر عمل درآمد کروانے کے لیے نئی پیپلز پارٹی کی ضرورت ہو گی شاید وہ اسی کی بنیاد تلاش کر رہے ہیں اور ان کی نظر 25جولائی کے انتخابات کی بجائے 2023کے انتخابات پر ہے۔ دیگر سیاسی پارٹیاں بھی حسب ِ توفیق وعدے اور دعوے کر رہی ہیں لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت یہ نہیں بتا رہی کہ ان کے وعدوں کی تکمیل کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے اور طریقۂ کار کیا اختیار کیا جائے گا اور عمال یعنی سرکاری اور سیاسی اہل کار کیسے ہوں گے۔ اس بارے میں سوال کرنا میڈیا کا فرض تھا ۔ میڈیا والوں نے لیڈروں کے انٹرویو نشر کیے لیکن ملک کو درپیش اہم چیلنجوں کے بارے میں ایسے سوال نہیں کیے جن کے جوابات سیر حاصل ہونے چاہئیے تھے۔ البتہ ٹاک شوز میں بہت سے مسائل ٹی وی مبصروں نے بیان کیے لیکن اس طرح نہیں کہ یہ مسائل عام آدمی کے سوال بن جاتے۔ بہت سے اہم مسائل ہیں جنہیں عام انتخابات کی آندھی میں شتر مرغ کی طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی ادارے اور پاکستان کے اپنے ماہرین واویلا کر رہے ہیں کہ آئندہ دس بارہ سال میں ملک قحط سالی کا شکار ہونے والا ہے۔ لیکن میڈیا والوں نے اہلِ سیاست کو اس طرف اگر متوجہ کیا ہے تو محض واجبی انداز میں' اس طرح نہیں کہ اہلِ سیاست اس چیلنج سے پوری طرح واقف ہونے کو مجبوری سمجھتے اور اس چیلنج کے جواب کے بارے میں سوچتے۔ شاید میڈیا والوں کے پاس بھی اس بارے میں کوئی خاطر خواہ تحقیق نہیں تھی جس سے یہ اندازہ ہوتا کہ 2025ء میں پاکستان کی زراعت اور تمدن کس حال میں ہوگا۔ یہ تو دس بارہ سال بعد کا منظر نامہ ہو سکتا ہے۔ لیکن آج کے حوالے سے بھی میڈیا میں یہ بات ہوتی ہے کہ ملک میں صرف بیس فیصد ایسا پانی ہے جو پینے کے لائق ہے ' باقی اسی فیصد پانی گدلا' میلا اور صحت کے لیے مضر ہے۔اس بنیاد پر یہ سوال اہلِ سیاست سے یعنی عوام کا دکھ درد دور کرنے کے دعویداروں سے کیے جا سکتے تھے کہ ان کے پاس عوام کو صاف پانی مہیا کرنے کا ملک گیر سطح پر کیا پروگرام ہے۔ اس کا جواب یہ نہیں کہ ہم نے اتنے فلٹریشن پلانٹ لگا دیے ہیں یا اتنے پلانٹ لگائے جائیں گے۔ مسئلہ چند شہری علاقوں کا نہیں سارے ملک کا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ عام انتخابات میں بننے والی حکومت کو لامحالہ آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے مدد مانگنی ہو گی۔ جب سابقہ حکومت برسراقتدار آئی تھی تو دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہم کشکول توڑ دیں گے۔ آئی ایم ایف سے مدد مانگنے کا نتیجہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں ۔ ٹیکسوں میں اضافہ' مہنگائی میں اضافہ اور خارجہ پالیسی کی مجبوریاں ۔ لیکن میڈیا کے ان پروگراموں سے عام آدمی پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح قرضوں میں جکڑی ہوئی معیشت اور آئی ایم ایف سے مدد مانگنے سے متاثر ہو گا تاکہ عام آدمی ووٹ مانگنے والوں سے ان مسائل کے بارے میں جواب حاصل کر سکے۔

کسی سیاسی جماعت کے پاس ایسی ٹیمیں نظر نہیں آتیں جو عوام کو ان قومی مسائل کے حوالے سے باخبر کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے پروگرام کی وضاحت کر سکیں کہ وہ ان مسائل کے عوام پر مرتب ہونے والے اثرات کا کس طرح مداوا کر سکیں گی۔ کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ 2005ء کے وفاقی ذمہ داری اور قرضے کی حد کے قانون کی خلاف ورزی پر کیا کارروائی کی گئی حتیٰ کہ نگران حکومت بھی نہیں۔ سیاسی پارٹیاں گروہوں کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں جن کا تعارف ان کے سرخیل ہیں نہ کہ ان کے پروگرام۔ یہ میڈیا والوں کی ذمہ داری تھی کہ ان سیاسی پارٹیوں کے پروگرام عوام پر واضح کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے۔لیکن انہوں نے چند روز سے ایک نیا وتیرہ اختیار کر لیا ہے۔ مائیک پکڑتے ہیں ' کیمرہ مین ساتھ لیتے ہیں اور گلیوں بازاروں میں نکل جاتے ہیں۔ مختلف لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کس کو ووٹ دیں گے ۔ ان لوگوں کا انتخاب میڈیا والے کس بنیاد پر کرتے ہیں یہ کسی کو معلوم نہیں شاید اس طرح کہ جو سامنے آ جائے۔ کوئی کہتا ہے شیر کو ، کوئی کہتا ہے بلے کو ، کوئی کہتا ہے کتاب کو۔ وجہ بالعموم ذاتی پسند و ناپسند بیان کی جاتی ہے۔ جنہیں سوچا سمجھا جواب کہا جاتا ہے ان میں کہا جاتا ہے کہ ہماری گلیاں پکی ہو گئی ہیں ، سڑکیں بن گئی ہیں، کوئی کہتا ہے ہمارے لیڈر کی پارٹی برسراقتدار آئے گی تو ہمارے مسائل حل کرے گی۔ ہسپتال بنوائے گی ' سکولوں کی حالت بہتر کرے گی ۔ لیکن یہ تو بلدیاتی اداروں کے کرنے کے کام ہیں۔ اور اگر یہ کام کیے گئے ہیں تو کون سا لیڈروں نے اپنے پلے سے کرائے ' عوام کا پیسہ تھا جو خرچ کیا گیا۔ یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اہلِ سیاست اور میڈیا والے عوام کو قومی مسائل پر کس حد تک متوجہ کرسکے ہیں اور کس حد تک انہیں ان کے جمہوری حقوق سے باخبر کر سکے ہیں۔

متعلقہ خبریں