Daily Mashriq

تعلیم کو ووٹ

تعلیم کو ووٹ

میڈیا اور سوشل میڈیا پردیکھتے ہیں کہ '' تعلیم کوووٹ دو''تعلیم توالیکشن لڑہی نہیں رہی۔ پھر میں کیسے تعلیم کوووٹ دوں۔کیونکہ الیکشن تو سیاسی پارٹیوں کے درمیان لڑاجارہاہے۔ تعلیم تو ہمارے ہاں ایک ایسی موصوفہ ہے کہ ووٹ کیا اسے تو بھیک بھی نہ ملے۔تعلیم تو ہمارے ہاں بس ایک نعرہ ہی ہے جوہرالیکشن ہر سیاسی جلسے اور ہرسیاسی تقریب میں گلا پھاڑ پھاڑ کرلگایاجاتاہے ۔''ہم تعلیم کو ترقی دیں گے''۔ دینی اگرچہ کسی نے نہیں ہے۔ تعلیم آگئی تو پھر عوام کوبے وقوف کیسے بنایاجائے گا۔ہمیں فرقوں ، مسلکوں جیسے جھگڑوں میں کیسے کوئی الجھاکرلڑواسکے گااور جب لڑوانہیں سکے گا تو ہماراموجودہ سیاسی نظام کیسے چلے گا۔ہمارے ہاں تعلیم آگئی تودلیل پر بات چیت ہوگی ،بحث کے دروازے کھلیں گے ،اور جب بحث کے دروازے کھلیں گے تومسائل بحث کی چھلنی سے گزرکراپنی حقیقی روح تک پہنچیں گے اورنتائج کے طور پرمسائل ہوجایاکریں گے۔مگر کون چاہے گا کہ اس کی چلی چلائی ہٹی بند ہوجائے ۔

تعلیم ماضی میں حکومتی ترجیحات میں سب سے آخر میں رہی ہے جبکہ جن قوموں نے ترقی کی ہے ان کی پہلی ترجیح تعلیم ہی رہی ہے۔ حکومتوں کی ترجیحات کچھ اور رہی ہیں۔ صوا بدیدی فنڈز کے متوالوں کا مطمح نظر تعلیم کم از کم کبھی نہیں رہا۔ہمارے ملک میں اقتدار ہمیشہ سے ایک لگژری ہی رہاہے۔ ایوان اقتدارتک پہنچنے کے بعد زندگی کا ایک نیاکینوس سامنے آجاتا ہے ۔ عوام کویوں تو کتابوںمیں قوت کاسرچشمہ قرار دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں طاقت کا سرچشمہ سیاست اور سیاست میں کامیابی میں مضمر ہے۔نالیاں ،سڑکیں ،پل سیاست دان بنائے گا۔نوکری سیاست دان دے گا۔ تعیناتی ٹرانسفر کے لیے بھی سیاست دان کا پروانہ لازمی ہے۔ایسے سسٹم میں عوام سیاست دان کے پیچھے نہ بھاگے تو کیاکرے۔عوام جو مچھر مارنے کی دوائی سے لے کر دودھ کے ڈبے تک پر سیلز ٹیکس ،ودہولڈنگ ٹیکس اور نہ جانے کون کون سے ٹیکس دیتا ہے لیکن گلی کوپختہ کرنے کی تختی پر ''عزت مآب''اور بدست مبارک میں سیاست دان کا نام لکھا ہوتاہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی پولیس والا،یا استاد یاکوئی بھی دکاندار اپنے اپنے کام پر جائے اور کام کرے تو کچھ لوگ اس کے کام کرنے پر تالیاں بجائیں ۔ہماری قوم بھی تالیاں پیٹنے کے لیے پیدا ہوئی ہے ۔روزاول سے زندہ باد ،آوے ہی آوے کے نعرے ہمارا مقدر ہیں۔ہمیںتوشروع سے جمہورت کی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ پہلے انہیں ووٹ دے کرجتواؤپھر اپنی چھوٹی ضرورتوں اور تقاضوں کے لیے ان کے دفتروں اور حجروں میں ان کے پیچھے بھاگو۔مگر انسان انسان کو کیا دے گا۔ حکومت کا کام بس مختلف حیلوں بہانوں سے ٹیکس لینا ہے اور اس کی ٹیکس کی رقم پر حکومت کرنی ہے ۔دکھانے کے لیے چند ٹوٹے پھوٹے ہسپتال ،کچھ بدرونق سکول اور دو چار تھانے موجود ہیں کہ جس سے دعویٰ کیا جاسکے کہ جناب حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کررہی ہے ۔ باقی اللہ اللہ خیر سلا ۔2013کے الیکشن میں بھی اور اس الیکشن میں بھی تعلیم کوووٹ دو کی بات کی جارہی ہے ۔سوال یہ ہے کہ تعلیم تو کسی نہ کسی طور دکھائی دے رہی ہے پھر تعلیم کوووٹ دینے کا کیا مطلب ۔تو میری ذہن میں جو بات آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم بھی طبقاتی نظام کی طرح ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔

مدرسہ ، اردو اور انگلش میڈیم ہمارے ہاں تعلیم کے تین ایسے دھارے ہیں جو کسی بھی طور قومی سمندر میں ایک ساتھ نہیں بہہ پاتے ۔ تینوں نظام ہائے تعلیم سے تین الگ الگ ذہنیت کے لوگ سامنے آتے ہیں کہ جن کی سوچ سے لے کر نصب العین تک میں دوریاں پائی جاتی ہیں ۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ ایک ہی قوم کے بچوں کو ایک ہی طرز کی تعلیم دی جائے ، مدرسہ ہوکہ اردو یا انگلش میڈیم ان سب میں ایسی تعلیم دی جائے کہ تینوں نظاموں سے نکلنے والے بچے ایک ہی سوچ اور ایک ہی نصب العین کی طرف بڑھ سکیں ۔ تعلیم ہر کسی پر لازم کردی جائے اور تعلیم نہ دلوانا قابل گرفت بنادیا جائے ۔ تعلیم کا بجٹ بڑھا کرغریب طبقے کو بھی مفت تعلیم دی جائے ۔ پاکستان ان ممالک میں سے ہے کہ جہاں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اس وقت بھی پاکستان میں یوتھ کی تعداد کل آبادی کے ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے ۔ جبکہ 28فیصد یوتھ ناخواندہ اور بے ہنر ہے ۔ افسوس کہ ہم اپنا پانی بھی مفید نہ بناسکے اور نہ ہی ہم اپنی نوجوان نسل کو کارآمد بناسکے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار یوتھ کا ہوتا ہے اور یہی یوتھ اپنے جذبے ، ہنر اور تعلیم سے ملک کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ۔ہم اپنے نوجوانوں کو بس بے روزگاری ہی دے پائے ہیں ۔ہم نے ایک ایسا تعلیمی نظام دینا ہے کہ جو ہماری آئندہ نسلوں کو پاکستانی سوچ دے سکے ۔ ان کو ہنر سکھاسکے ۔ انہیں عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق تیار کرسکے ۔

دنیا میں ہیومن ریسورس کی ہر وقت طلب رہتی ہے ہم نے پاکستانی نوجوان کو اسی تعلیمی نظام سے تیار کرنا ہیجو معیشت میں اپنا حصہ ادا کرسکے ۔ میری نظرمیں اس الیکشن میں بھی کسی بھی سیاسی پارٹی کا تعلیم پر کوئی روڈ میپ دکھائی نہیں دیتا ۔ ہاں سب نے یہی لکھا ہے کہ تعلیم کو فروغ دیں گے ۔سوال یہ ہے کہ کس تعلیم کو اور کیسے فروغ دیا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں