Daily Mashriq

داغ، جگر کا نشان ہے

داغ، جگر کا نشان ہے

بلدیاتی نظام کو الیکشن 2018 تک معطل کردیا گیا۔ جس کی وجہ بتاتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ بلدیاتی اداروں کو چلانے والے منتخب بلدیاتی نمائندے الیکشن2018کی شفافیت کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کو معطل کرنے کا قدم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اٹھایا جس کی توثیق نگران صوبائی حکومت نے کی اور بتایا کہ بلدیاتی نظام کی معطلی کے دوران شہریوں کو میسر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بحال رکھنے کے لئے جملہ انتظامی سیکرٹریوں ڈویژنل کمشنر صاحبان ،اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ بلدیات کو مراسلہ جاری کردیا گیا ہے ۔ گویا بلدیاتی نظام و انصرام کو کما حقہ بحسن و خوبی چلانے کے لئے تمام تر ذمہ داریاں عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی بجائے اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے مجاز افسران ، بیورو کریٹس اور ان کے عملے کے افراد انجام دیں گے اور بفضل خدا چلتی کا نام گاڑی کے مصداق تادم تحریر انجام دے رہے ہیں ۔ کیونکہ ان کی سربراہی میں عوام کو بنیادی سہولیات پہنچانے کے لئے قائم مختلف شعبہ جات میں کام کرنے والے عملے، ٹیکنیکل سٹاف انجنئیروں ڈاکٹروں اور ماہرین کی کوئی کمی نہیں۔ یہ لوگ ہر دور میں نت نئے متعارف ہونے والے بلدیاتی نظام کے زیر اثر منتخب ہوکر آنے والے عوامی نمائندوں کی مرضی اور منشاء کے مطابق شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں اور جب بھی ملک اور قوم پر جمہوری قدروں کے جمود کا دور آیا ہماری بیوروکریسی نے اس نظام کو ہاتھ میں لیکر جس خوبی سے چلایا اس کے زیر اثر شہریوں کو اس بات کا علم ہی نہ ہوسکا کہ ان کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کو ان تک پہنچانے والے لوگ ، اگر ان کے ووٹوں سے منتخب ہوکر بلدیاتی اداروں میں نہیں آئے ، تو وہ کون ہیں جو ان کے بنیادی حقوق یا بنیادی سہولیات کو ان کی دہلیزوں تک پہنچارہے ہیں۔ بلدتی نظام کے یہی ماہرین اس دور میں بھی مصروف عمل رہتے ہیں جب ان کو شہریوں کی بنیادی سہولیات پہنچانے کا تمام تر نظام و انصرام شہریوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی مرضی و منشاء کے مطابق چلانا پڑتا ہے اور اس دور میں بھی انہیں اپنی کارکردگی کو خوب سے خوب تر بنانے میں کوشاں رہنا پڑتا ہے جب ان کے سروں پر عوام کے منتخب نمائندوں کی تلواریں لٹکتی دکھائی نہیں دیتیں۔ ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے کہ ڈکٹیٹر شپ یا مارشل لاء کے ادوار میں بھی بلدیاتی سسٹم جاری و ساری رہا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہد صدارت میںبلدیاتی نظام کو بنیادی جمہوریت کے نام سے یاد کیا جاتا رہا، اس دوران بی ڈی ممبرز منتخب چیئر مینوں کی قیادت میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کام سرانجام دیتے رہے ، جنرل ضیاء کے دور میں منتخب کونسلر ز اپنے مئیر اور ڈپٹی مئیر ز کی قیادت میں بلدیاتی خدمات انجام دیتے رہے ، پرویز مشرف کے دور اقتدار میں منتخب ہوکر آنے والے ناظم اور نائب ناظمین بلدیاتی اداروں کو چلتا کرتے رہے ، اصل میں ہر دور کی ڈکٹیٹر شپ بلدیا تی نظام کے ذریعے منتخب ہوکر آنے والوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنی مطلق العنانی پرجمہوریت کا تڑکہ لگا کر نیک نامی کمانے کی کوشش میں مگن رہے ، ہمارے مشاہدے میں یہ بات بھی آتی رہی کہ جمہوری عہد حکومت میں بلدیاتی اداروں میں منتخب ہوکر اقتدار میں آنے والے بلدیاتی نمائندے اور ان کا بلدیاتی نظام قومی اور صوبائی اسمبلیو ں کے اراکین اور ان کی قیادت کے دلوں میں کانٹا بن کر چبھنے لگا اور یوں بیشتر جمہوری حکومتیں بلدیاتی الیکشن کو التوا ء کا شکار بنانے کی کوشش میں مگن ر ہیں۔

اقبال تیرے عشق نے سب بل دئیے نکال

مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی

شاعر مشرق کے اس شعر میں ' بل دئیے، بل دینے یا بل دیا ' کا جو تاثر ملتا ہے ، بلدیہ کا لفظ اس سے لاکھ ملتا جلتا سہی لیکن مختلف ہے ، بلدیہ کا لفظ'بلد 'سے مشتق ہے جس کے معنی شہر ، دیہہ، قصبہ، یا مقام ہیں۔ اسی حوالہ سے بلدیاتی نظام کو مقامی حکومتوں کا نظام بھی کہا گیا ہے۔ اشرف المخلوقات کا رتبہ دیا ہے ، ہمارے دین متین نے حضرت انسان کو ، وہ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتا ہے ، ایک دوسرے کے کام آتا ہے وہ یہ سارے کام مل جل کر کرتا ہے ، ایسا کرنے کے لئے اسے اپنی ملت سے رابطے میں رہتا ہے ، اور اگر وہ رابطے میں نہ رہے تو بھرے پرے معاشرے میں تن تنہا رہ جاتا ہے اسی لئے دانائے راز نے اس بات کو ایک پیغام کی صورت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ

فرد قائم ربط ملت سے ہے ، تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

یہ جو جرگے ، معرکے، پنچائیتیں ، حجرے ، بیٹھکیں ، مساجد وغیرہ وجود میں آئیں ان کا مقصد ہی ایک دوسرے سے قائم ہونے والے رابطے کو بحال رکھنا تھا، ہم دین اسلام کے عہد آفرین میں اصحاب صفہ کی مثال دیتے ہوئے بڑی وثوق سے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے آگاہ رہنے کے علاوہ مقامی طورپر معاشرتی بہتری کے لئے تنظیم کا ری کرنے کے جذبے ہی کو بلدیاتی نظام کا نکتہ آغاز کہنا چاہئے ، ہر دور اور ہر معاشرے میں اس کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ، الیکشن 2018 کی شفافیت کو بلدیاتی اداروں کے وجود سے کوئی خطرہ ہوسکتا ہے یہ الگ موضوع بحث ہے لیکن ان کے وجود کو حرف غلط کی طرح نہ کبھی مٹایا جاسکا ہے ، نہ مٹایا جاسکے گا۔

ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا

کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے

متعلقہ خبریں