Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خدمت عالیہ میں ایک وفد حاضر ہوا ۔ وفد میں سے ایک نوجوان کھڑا ہوا تھا کہ بات کرے ۔ آپ نے فرمایا کوئی بڑا آدمی اٹھے ،نوجوان نے کہا اے امیرالمئومنین اگر بڑی عمر پر ہی انحصار ہوتا تو مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو آپ سے زیادہ عمر والے بھی ہیں ۔ حضرت عمر نے فرمایا : اچھا بات کرو۔

اس نوجوان نے کہا: ہم نہ ہی مانگنے والوں کا وفد ہیں اورنہ ہی پریشان یا خوفناک خبر سنانے والوں کا وفد ہیں ۔ مرغوب مال وغیرہ آپ کے احسانات کے باعث ہمیں مل گیا ۔ آپ کے عدل و انصاف نے ہمیں پریشان اور خطرے سے محفوظ کردیا ۔ الغرض ہم ہر لحاظ سے خوش وخرم ہیں ۔ البتہ ہم شکریہ اداکرنے والوں کا وفد ہیں ۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں تاکہ رب تعالیٰ کی عطا کر دہ زبان سے بھی آپ کا شکریہ ادا کریں اور چلے جائیں ۔

(مکاشفتہ القلوب ص، 363)

معن بن زائدہ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے ، اس نے ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔

ایک قیدی نے کہا: '' امیر! ہم آپ کے قیدی ہیں اور ہمیں اس وقت بھوک ستارہی ہے ، کیا آپ ہمیں بھوکا ہی ماردیں گے ؟ ''

معن نے کھانے کا حکم جاری کردیا ۔ چنانچہ دسترخوان بچھائے گئے اور کھانا لگا دیا گیا ، قیدی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ''کھانا ،کھانا شروع کردو''۔

معن انہیں غور سے دیکھ رہا تھا اور ان پر حیرت بھی کر رہا تھا ۔ جب وہ کھانا کھا کر فارغ ہوگئے تو ان کے ایک ساتھی نے ( جس میں کچھ دانائی اور عقل تھی ) معن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ''اے امیر!کچھ دیر پہلے ہم آپ کے قیدی تھے اور اب ہم آپ کے مہمان ہیں ۔ اب آپ غور کرلیں کہ مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟ ''

معن نے ان سب کو معاف کردیا اور انہیں باعزت طریقے سے رہائی دے دی ۔

بعض حاضرین نے معن سے کہا:''ہمیں یہ پتہ نہیں چل سکا کہ آپ کا بہترین دن کسے قرار دیا جائے ، آپ کے غلبے کے دن کو یا آپ کے معاف کرنے والے دن کو ؟ ''۔ خلیفہ سلیمان کے بعد عمر بن عبدالعزیز اور ان کے بعد یزید ابن عبدالملک تخت دمشق کا مالک ہوا۔ اس زمانے میں یعنی 719ء کو الحربن سلیمان خلیفہ کی طرف سے امیر اسپین تھا۔ لیکن وہ نہایت جابر و سخت گیر حاکم تھا۔ دشمن تو دشمن دوست بھی اس سے نالاں تھے۔ کیا عیسائی کیا مسلمان سب اس کے ہاتھوں تنگ تھے۔آخر اسپین کے چند لوگوں نے جان پر کھیل کر خلیفہ کے دربار میں ایک مراسلت بھیجی جس میں اس کے ظلم گنوائے اور اس کی ناانصافیوں کے واقعات لکھے۔ خلیفہ نے عرضی پڑھی اور فی الفور ایسے سخت گیر اور نا انصاف اور جابر حاکم کو جو تالیف قلوب کی پالیسی سے صریح ناواقف تھا' معزول کردیا۔ (تاریخ اسپین ص177:)

متعلقہ خبریں