Daily Mashriq

فاٹا انضمام کی جمہوری عمل سے تکمیل

فاٹا انضمام کی جمہوری عمل سے تکمیل

میں ضم ہونے والے 7قبائلی اضلاع میں فوج اور پولیس کی نگرانی میں پرامن انتخابات کے انعقاد سے فاٹا کی خیبرپختونخوا میں انضمام کی تکمیل ہو گئی ہے‘ صوبائی اسمبلی کی 16نشستوں پر پولنگ کا عمل صبح 8بجے شروع ہوا جو شام 5بجے تک بغیر کسی تعطل کے جاری رہا‘ مجموعی طور پر اگرچہ ٹرن آؤٹ کم رہا لیکن مرد ووٹرز کے ساتھ ساتھ خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد نے بھی اپناحق رائے دہی استعمال کیا‘ پشاور اوراس سے ملحقہ اضلاع کے علاوہ ملک بھر میں مقیم ہزاروں قبائلی خاندانوں نے ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا رُخ کیا‘ قبائلی اضلاع کے لوگوں کاانتخابات میں بڑھ چڑھ کر شریک ہونا خوش آئند امر ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ قبائلی اضلاع کے لوگ جمہوری عمل پریقین رکھنے کے ساتھ ساتھ پرامید ہیں کہ انتخابات کے بعد ان کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔ تادم تحریرقبائلی اضلاع میں انتخابات کے نتائج کا سرکاری اعلان نہیں ہو سکا ہے غیر سرکاری اورغیر حتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں کا پلڑا بھاری رہا ہے ،7آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے جبکہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے 5امیدوار ،جمعیت علماء اسلام ف کے 2،جماعت اسلامی اوراے این پی کے ایک ایک امیدوار کو کامیابی حاصل ہوئی ہے،اگر انتخابی نتائج کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو قبائلی اضلاع کے عوام نے کسی ایک سیاسی جماعت پر بھی مکمل طورپر اعتماد کا اظہار نہیں کیا ہے یہ تمام سیاسی جماعتوں کی قبائلی اضلاع میں عوامی پذیرائی اورمقبولیت کا منہ بولتاثبوت ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ فاٹا کا صوبے میں انضمام ایک کٹھن مرحلہ تھا جو طویل بحث و تکرار کے بعد سر ہوا‘ ضم شدہ 7 قبائلی اضلاع میں انتخابات بھی آسان نہ تھے لیکن یہ مرحلہ بھی بحسن خوبی تکمیل کو پہنچا ‘ اب اگلا مرحلہ لوگوں کے مسائل کا حل اور قبائلی اضلاع کے عوام میں پایا جانے والا احساس محرومی کا خاتمہ ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ قبائلی اضلاع دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہو ئے ہیں‘ قبائلی عوام نے ملک کی حفاظت کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے انتہا مشکلات اور صعوبتوں کا سامنا کیا ہے‘ ہزاروں قبائلی اپنے گھر چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے جو کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر تھا۔ قبائلی اضلاع گو اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں اور 18ویں ترمیم کے بعد چونکہ صوبے خود مختار ہیں اس لیے اصل ذمہ داری تو صوبائی حکومت کی بنتی ہے کہ وہ قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے اور قبائلی اضلاع سے کامیاب ہونے والے عوامی نمائندوں کو بروقت فنڈزجاری کرے لیکن چونکہ قبائلی اضلاع کو مکمل انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جس پر خطیر لاگت آئے گی اس لیے وفاق کو قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی کے لیے فنڈز کا اجراء اور دلچسپی ظاہر کرنی ہو گی‘وزیر سیفران شہریار آفریدی کے مطابق قبائلی اضلاع کیلئے 95ارب روپے کے فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں قبائلی اضلاع کو وفاق کی مکمل سرپرستی کی ضرورت ہے جس طرح وفاق نے قبائلی اضلاع کو یکم جون 2018ء سے 30جون 2023ء تک تقریباً پانچ سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے‘ وفاق کی اس ٹیکس چھوٹ سے یقیناً قبائلی اضلاع کے لوگوں کو فائدہ ہو گا۔ اسی طرح قبائلی اضلاع کے 6ہزار نوجوانوں کو آرمی ملازمت دینے کا اعلان بھی خوش آئند ہے، اس اقدام سے قبائلی اضلاع کے نوجوان قومی دھارے میں آئیں گے اوران میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم ہوگا۔ تاہم 7قبائلی اضلاع کے 50لاکھ عوام وفاق سے اس سے زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں کیونکہ قبائلی اضلاع کی زیادہ تر آبادی قائم شدہ قصبوں یا دیہی علاقوں میں رہتی ہے جس کی مجموعی شرح خواندگی 30فیصد سے بھی کم ہے جب کہ ملک کے باقی علاقوں میں شرح خواندگی 56فیصد ہے ۔ قبائلی اضلاع کی زیادہ تر آبادی معمولی زراعت پر انحصار کرتی ہے ‘ اوسط فی کس آمدنی تقریباً 1ڈالر یومیہ ہے جو کہ قومی فی کس آمدنی کا نصف بنتا ہے۔ یہ صورتحال قبائلی اضلاع کے لوگوں کی موجودہ حالت زار کی عکاس ہے جنہیں بار بار دربدری کی وجہ سے ذہنی و جسمانی پریشانی اُٹھانی پڑی ہے۔ حکومت کے لیے سب سے مشکل کام ملک کے دیگر حصوں میں موجود انفراسٹرکچر کی ان علاقوں میں عدم موجودگی کے پیشِ نظر قبائلی عوام کو لاحق مسائل اور انہیں درپیش مشکلات کے حوالے سے ترجیحات کا تعین اور ان کے غیر تسلیم شدہ مطالبات کی تکمیل ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ قبائلی اضلاع مسائل اور مشکلات کا ایک بہت بڑا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں لیکن قبائلی اضلاع میں کئی مواقع اور وسائل بھی موجود ہیں جن پر اگر حکومت توجہ دے تو قبائلی اضلاع کے عوام کم از کم بنیادی ضروریات میں خود کفیل ہو سکتے ہیں۔ زراعت تمام قبائلی اضلاع میں ایک بنیادی وسیلہ تصور کیا جاتا ہے‘ اگر حکومت زراعت پر توجہ دے اور قبائلی اضلاع کے عوام کو وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو فصلوں کی پیداوار ‘ مویشی بانی ‘ پھلوں کے باغات بالخصوص سیبوں اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ کر کے عوام کی اکثریت کے بنیادی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ قبائلی اضلاع میں لاکھوں ایکڑ اراضی غیر آباد پڑی ہوئی ہے ‘ ان زمینوںکو آباد کر کے لاکھوں لوگوںکو روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کی طرز پر چھوٹے زمینداروںکو کم از کم اگلے دس سال تک آسان شرائط پر بلا سود قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے کیونکہ قبائلی اضلاع میں قدرتی اور نامیاتی غذائیں پیدا کر کے ایک بین الاقوامی منڈی بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے جس سے بہت ہی تھوڑے عرصے میں یہاں کی کسان برادری کی سماجی و معاشی صورتحال بدل سکتی ہے۔ قبائلی اضلاع کے انتخابات میں عوام نے جس گرم جوشی کا ثبوت دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طویل مشکلات اور قربانیوں کے بعد قبائلی اضلاع کے عوام جمہوری طریقے سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عوامی نمائندے قبائلی عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے انفراسٹرکچر ‘ سڑکوں ‘ ہسپتالوں ‘ سکولوں اور یونیورسٹیوں کی تعمیر میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں‘ عوامی نمائندوں کے پیشِ نظر یہ بات ہونی چاہیے کہ طویل جدوجہد کے بعد انہیں موقع ملا ہے کہ وہ اپنے علاقے اور لوگوں کے دیرینہ مسائل کو حل کر سکیں۔انتخابات میں آزاد امیدواروں کی برتری بھی اس بات کی عکاس ہے کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں نے کسی ایک سیاسی جماعت سے امیدیں وابستہ کرنے کی بجائے اپنے لوگوں سے امیدیں وابستہ کی ہیں، امید کی جانی چاہیے کہ جس طرح قبائلی اضلاع کے عوام نے اپنے نمائندوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ‘ عوامی نمائندے بھی انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

متعلقہ خبریں