Daily Mashriq

انسان بہت ظالم ہے

انسان بہت ظالم ہے

ایک خاموش شام تھی جب میں خنجراب پہنچی تھی۔ سفید برف سے ڈھکے پہاڑ‘ ان چھوٹے گلیشئر جو پہاڑوں کی چوٹیوں کو ہاتھ سے تھام کر اس سڑک تک بڑھ آئے تھے۔ صرف ہوا کی آواز تھی اس ہوا میں بھی وہ برف موجود جو ارد گرد پھیلی ہوئی تھی۔ آسمان پر سفید دودھیا بادل تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ اس دنیا سے بالکل الگ کوئی جگہ تھی جہاں میرے چاروں اور میرے رب کی موجودگی کااحساس تھا وہیں برفیلے پانی سے وضو کرکے میری ماں نے ایک چٹان پر دو رکعت نماز ادا کی تھی۔ وہ جگہ اس دنیا کا حصہ نہ تھی۔ وہ کچھ اور تھا‘ میرے رب کے بہت پاس‘ بہت خوبصورت‘ بہت شانت‘ میرے رب کی محبت سے بھرپور۔ میں کتنے سال اس شام کے سحر میں گم رہی۔ جب کبھی میں اس زندگی کے ہنگاموں سے اکتا جاتی‘ میرا دل مچل اٹھتا کہ میں اسی سرد برفیلی سڑک پر جاکھڑی ہوں۔ اس خاموشی میں‘ اس تنہائی میں اس خوبصورتی میں مجھے میرے رب کی موجودگی کا احساس اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ لگتا ہے ہاتھ بڑھائوں تو اپنے مالک کا دامن تھام لوں اور پھر روتی رہوں یہاں تک کہ دل کا ہر بوجھ ختم ہو جائے۔ زندگی میرے ارد گرد پھیلی برف کی طرح پاک ہوجائے۔ خنجراب پہنچنے کے بعد میں نے پہلی بار سمجھا کہ ہر مذہب کے لوگ‘ اپنے رب سے جڑ جانے کے لئے تنہائی کا انتخاب کیوں کرتے ہیں کیونکہ تنہائی میں انہیں اپنے اندر سے اپنے رب کی آواز صاف سنائی دیتی ہے اور جب یہ آواز آنے لگے تو اس دنیا کی آوازوں میں دلچسپی ختم ہونے لگتی ہے۔ خنجراب کے بعد یہ احساس مجھے ملائیشیاء میں ہوا۔ پینانگ کے پاس ‘ ایک پہاڑی کی جڑ میں ایک بہت بڑا مجسمہ ہے اس کے ساتھ سے سیڑھیاں اس پہاڑی کے اوپر تک جاتی ہیں۔ کئی سو سیڑھیاں چڑھ کر ایک غار کے دہانے پر پہنچتے ہیں‘ اس غار میں اندر آس پاس کئی مندر ہیں‘ ہندو پنڈت عبادت میں مصروف نظر آتے ہیں ‘ ان سے آگے گزر کر کچھ سیڑھیاں اور چڑھنی پڑتی ہیں اور وہاں سے غاروں کا یہ سلسلہ سر کے اوپر کھلا ہواہے۔ وہاں سے آسمان صاف دکھاتی دیتا ہے۔ ایسی خوبصورت پر سکون جگہ کہ رب ذوالجلال کے سامنے سر بسجود ہونے کے لئے دل بے اختیار ہونے لگتا ہے۔ جی چاہتا ہے سجدے سے سر کبھی نہ اٹھے۔ میرے مالک نے یہ دنیا ایسی بنائی ہے تو جنت کیسی ہوگی؟ تب مجھے معلوم ہوا کہ میرے رب کی محبت کیسی ہوش و فرد سے بیگانہ کردینے والی ہے۔ مدہوش کردینے والی‘ اس میں کیسا سرور ہے‘ کیسا سکون ہے اور اس کے لئے کسی مذہب‘ کسی زبان‘ کسی طریقہ کار کی کوئی قید نہیں۔ وہ مالک تو سب کا رب ہے۔ اس کی محبت میں ہر کوئی سرشار ہے۔

چند دن پہلے میں نے اپنے بچوں کو گلگت لے جانے کا قصد کیا۔ میں انہیںگلگت کی کہانیاں سناتی رہی۔ ہنزہ اور اس کے لوگوں کی خوبصورتی کے قصے بتاتی رہی۔ بتایا کہ کسی پر سکون جگہیں ہیں جہاں آج بھی کوئی خوف نہیں۔ پھل اتنے بہتات میں ہیں کہ بکریاں بھی نہیں کھاتیں۔ لوگ اتنے شفاف اور میٹھے ہیں کہ انہیں دیکھ کر پرستان کاخیال آتا ہے۔ کوئی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا۔ سادگی ان کی زندگیوں کا خاصہ ہے اور پھر خنجراب‘ جہاں پہنچ کر انسان کا واپس لوٹنے کو دل نہیں کرتا۔ ایسا سکون ایسی خوبصورتی کہ اس کے بیان کے لئے لفظ گونگے ہیں‘ معذور ہیں‘ بے بس ہیں۔ بچے بھی بہت خوش تھے ہنزہ کا استقبال ہمیشہ ہی بہت خوبصورت ہوتاہے۔ انجان لوگوں کا پاس سے گزرتے ہوئے سلام کہنا ہی دل موہ لیتا ہے۔ خوبصورت نظارے‘ بہترین رویے‘ خوبصورت ترین لوگ‘ کیا کمال ہے۔ بچے بہت ہی خوش تھے۔ پھر میں نے انہیں خنجراب کا مژدہ سنایا۔ صبح تیار ہوئے اور خنجراب کی جانب روانہ ہوئے۔ اب وہ تنہائی اور خاموشی نہیں۔ علاقے آباد ہو رہے ہیں۔ لوگوں میں ان علاقوں کی سیر کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے جو اس رجحان کی قیمت بھی یہ علاقے ادا کر رہے ہیں۔ جو س کے پیکٹ اور پلاسٹک کے لفافے جا بجادکھائی دیتے ہیں لیکن یہ پھر بھی دیووں اور پریوں کادیس ہے اور ہم اس میں گھومتے چیونٹیوں کی مانند محسوس ہوتے ہیں۔ ان پہاڑوں کے درمیان دریائے سندھ کا بچپن موجود ہے‘ کھلنڈرا‘ شرارتی اور ننھا سندھ جو پہاڑوں کے پیروں میں اٹھکیلیاں کرتا آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک خوبصورت سکوت ہے جو ان پہاڑوں پر طاری ہے‘ ان کی اپنی ایک زباں ہے‘ ان کے دامن میں لگے درختوں کی اپنی زباں ہے اور ننھے سندھ کی اپنی گفتگو ہے۔ اس سڑک پر گاڑیوں کی ‘ موٹر سائیکلوں والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ خاموشی بار بار ٹوٹتی ہے بکھرتی ہے‘ لیکن خنجراب کی کشش کھینچے چلی جا رہی تھی۔ میں بچوں کو بتاتی رہی‘ راستے میں یاک دکھائی دینگے جو گرمیوں میں چین کی سرحد عبور کرکے پاکستان کی جانب آجاتے ہیں۔ لاما (LAMA) دکھائی دینگے یہ اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ لیکن سارا راستہ ویران رہا اور پھر ہم خنجراب پہنچ گئے۔ میرا دل جو خنجراب کے نام سے ہمک رہا تھا‘ ویران ہوگیا‘ ایک ہجوم بیکراں تھا لوگوں کا‘ گاڑیوں کا‘ کہیں لوگ گانے بجا رہے تھے‘ کہیں ناچ رہے تھے‘ کہیں تصاویر بن رہی تھیں۔ گلیشئر اس ہنگامے سے گھبرا کر پہاڑوں کے اوپر سمٹ گئے تھے۔ چند بے بس یاک تماشا بنے ہوئے تھے۔ ان کی ناک میں نکیل تھی‘ لوگ سواری کر رہے تھے‘ تصاویر کھینچ رہے تھے‘ کوڑے کے ڈھیر تھے‘ تاسف تھا‘ ہنگامہ تھا۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں