Daily Mashriq

بہترین زمانہ میرا زمانہ۔۔۔

بہترین زمانہ میرا زمانہ۔۔۔

سچ فرمایا ہے صادق المصدق جناب خاتم النبیینؐ نے کہ بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے،پھر اُس کے بعد اور اُس کے بعد۔۔۔سیدھی سادی زندگی،صداقت اور امانت کی بنیاد پر سارے معاملات پر استوار تھے۔انسانیت کو اس کے معانی ومفہوم اسی سنہری زمانے میں ملے تھے۔ہر طرف احترام آدمیت وانسانیت،ہمدردی،غمگساری اور امن وسلامتی اور اخوت وبھائی چارے کا دور دورہ تھاانسان کو انسان سے کوئی غم،فکراورخطرہ لاحق نہ تھا، بلکہ ایک انسان دوسرے کی جان مال آبرو کا محافظ تھا۔بھلے آج کی طرح تہذیبی وسائنسی ترقی کا نام ونشان مادی لحاظ سے موجود نہ تھا۔۔نہ کھانے پینے کی آج کی طرح قسما قسم وافر اشیاء نہ سواری ومواصلات کے لئے آج کی طرح جدید ترین وتیز ترین ذرائع نہ صحت وتعلیم کے لئے ان گنت مواد وادارے،لیکن پھر بھی زمانہ اور افرادہر لحاظ سے آج سے بہترین حالت میں تھے۔

اور یہ سوال آج بھی قابل غور وفکر وبحث ہے کہ دنیا میں انسان کی آمد آیا سائنسی اور مادی ترقی ہی کے لئے ہوئی ہے یا اس کے ساتھ کچھ مقصد وہدف اور بھی ہے اس میں شک نہیں کہ قرآن کریم نے انسان کو اپنا مقصد تخلیق بتاتے ہوئے کہا کہ انسان کی تخلیق عبادت الٰہی ہے یہ بھی بتایا ہے کہ دنیا ومافیھا کی تسخیر بھی انسان کی علمی ومادی جولان گاہ ہونا چاہیئے۔ اگر انسان اپنے بنیادی مقصد تخلیق اور زندگی کی بنیادی ضروریات میں الٰہی رہنمائی کے مطابق اعتدال وتوازن قائم رکھتا تو آج حالات یوں بد تر نہ ہوتے کہ ایک طرف انسان چند، مریخ اور سمندروں کی گہرائیوں اور بلندیوں کو ناپ رہا ہے اور دوسری طرف اخلاقی گراوٹ کی اُس قعرمذلت میں گرا ہے کہ خاندان بنانے کے لئے بنیادی مقدس رشتوں اور بندھنوں کو ایک ایک کر کے توڑ چکا ہے ۔اس سلسلے میں مغرب کے اپنے پیمانے اور اقدار بن چکے ہیں اور مشرق کے اپنے ۔مشرق میں بھی ایک غیر مسلم پیمانے ہیں جہاں زیادہ تر مغرب ہی کی تقلید موجود ہے جبکہ مسلم مشرق میں عقائد وعبادات اور تہذیبی اقدار کے اختلاف کے باوجود بنیادی باتیں یہاں بھی پائمال ہورہی ہیںآج مغرب میں نری مادی ترقی جس عروج پر ہے شاید ہی اس سے پہلے اس کا کہیں تصور پایاہو لیکن اس کے ساتھ اس کی روحانی دنیا جس تشنگی کا شکار ہوئی ہے وہ بھی دیکھ کر یا للعجب! ہی کہا جاسکتا ہے ،لیکن دوسری طرف مشرق کی اسلامی دنیا جس کو کھلے پن کا شکار ہے اُس کا بھی کوئی اندازہ لگانا بہت مشکل ہو رہا ہے دین اسلام کی مضبوط،واضح اور یقینی تعلیمات واحکامات کے باوجود سیاسی معاشرتی اور معاشی واقتصادی بحرانوں میں جس قدر اسلامی دنیا پھنسی ہوئی ہے شاید ہی کوئی ملک وخطہ دوسر ایسا ہو۔ آج اسلامی دنیا جس اندرونی اور داخلی چپقلشوں،خانہ جنگیوں اور بربادیوں کی راہ پر پڑی ہوئی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے عقل واحساس رکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں اور بے اختیار پوچھنے لگتے ہیں کہ’’اے چارہ گر!کوئی چارہ اس کا بھی ہے کہ نہیں‘‘۔

آج بہترین افرادی قوت،وسائل اور بیش بہا نعمت خداوندی کے باوجود جب مسلمان ملکوں میں غربت کے ہاتھوں انسانی اقدار کا جنازہ نکلتے ہوئے دیکھا جاتا ہے تو انسان بے اختیارپکار اُٹھتا ہے کہ’’بے شک بہترین زمانہ آپؐ کا زمانہ تھا‘‘۔

ترقی دیکھ کر آسمانی فضائوں میں پرندوں کی طرح اُڑنا اور سمندر کیا پاتالوں میں تیرنا یقیناً بہت بڑی بات ہے اور یہ انسان کو اللہ کی طرف سے دی گئی صلاحیتوں کا کمال ہے لیکن اس کا سبق جس پاک ہستی کے طفیل انسانیت کو ملاتھا،وہ تو بغیر کسی مادی ترقی کی خلائوں کو پار کر کے عرش معلا کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے تھے۔۔

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

آج سائنس کی ترقی کے طفیل عام آدمی کو زندگی کی جو سہولتیں،بودوباش،موا صلات اور کھانے پینے کی صورت میںحاصل ہیں،وہ برصغیر کے اچھے اچھے بادشاہوں کو حاصل نہ تھیں۔لیکن کیا آج سے ساٹھ برس قبل پاکستان میں جو امن وسکون ،بھائی چارہ،سادگی اورایثار ومحبت اور تعاون وقربانی اور انسانی اقدار کا جو بول بالا تھا، اُس کی کوئی نشانی آج دیکھنے میں مل سکتی ہے،حاشا وکلا، مولانا سید ابولحسن علیؒ ندوی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر‘‘میں اس کہانی کو جس درد ناک انداز میں بیان کیا ہے وہ آج بھی اس کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلامی دنیا کے نصاب میں اس کو شامل کیا جائے اور غیر مسلم دنیا کو بھی اُن کی زبانوں میںنوجوان نسل کو پڑھائی جائے تاکہ انسانیت کو ایک دفعہ پھر اپنی ارضی جنت گم گشتہ دستیاب ہوجائے۔’’اور انسانیت کہہ اُٹھے کہ بے شک سرکارؐ کازمانہ بہترین زمانہ،لیکن اسوۂ حسنہ کی تقلید کر کے آج کے زمانے کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سنی نہ مصر وفلسطین میں وہ اذان میں نے

دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشہ سیماب

وہ سجدہ روح زمین جس سے کانپ جاتی تھی

اُس کو آج ترستے ہیں مبرومحراب

متعلقہ خبریں