Daily Mashriq

رسم ورواج کا شکنجہ

رسم ورواج کا شکنجہ

مہنگائی روز بروز بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اب روٹی بھی بہت سوچ سمجھ کر منگوانی پڑتی ہے سوئی گیس اور بجلی کے بلوں نے سفید پوش آدمی کو پریشان کر رکھا ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہمیں رسم ورواج نے اپنے بے رحم شکنجے میں بری طرح جکڑا ہوا ہے اگر آپ بڑے شادی ہال کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو کسی چھوٹے سے شادی ہال میں بھی آپ کا ولیمہ ہوسکتا ہے اور اگر آپ کی جیب اس کی اجازت بھی نہیں دیتی تو پھر پڑوس کے کسی بڑے گھر میں مختصر سے ولیمے کا بندوبست کیا جاسکتا ہے جس میں آپ کے قریبی رشتہ دار اور چند دوست شامل ہوں یقین کیجیے اگر آپ نے ایسا کیا تو کسی نے آپ کو شہر بدر نہیں کرنا شادی کے بعد بھی آپ کی زندگی پہلے کی طرح گزرتی رہے گی اور اگر آپ نے قرض لے کر کسی بہت بڑے شادی ہال میں زبردست قسم کے ولیمے کی دعوت دے بھی ڈالی تو آپ کے حالات کو دیکھتے ہوئے آپ پر تنقید ہوتی رہے گی جن لوگوں کے لیے آپ نے اپنے آپ کو مقروض کیا وہی آپ کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ اتنی فضول خرچی کی کیا ضرورت تھی سادہ سا ولیمہ بھی دیا جاسکتا تھا !یہ ذہن میں رہے کہ لوگ کسی حال میں بھی نہیں چھوڑتے اور ان لوگوں کو تو بالکل نہیں چھوڑتے جن کی مالی حالت کمزور ہوتی ہے کہتے ہیں کہ دولت ہر عیب چھپا دیتی ہے ہمارے معاشرے میں امیر آدمی کی فضول خرچی کو کوئی فضول خرچی نہیں کہتا بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے دولت کے ساتھ ساتھ دل بھی ہونا چاہیے ایسی دولت کا کیا فائدہ جسے خرچ کرتے ہوئے آدمی کی جان نکلنے لگے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ اس نے ایک شادی پر جتنا خرچ کیا ہے اس سے تو دس یتیم بچیوں کے ہاتھ پیلے کئے جاسکتے تھے !باتیں صرف وہ لوگ سنتے ہیں جن کی مالی حالت کمزور ہوتی ہے ان فضول قسم کے رسم ورواج کی وجہ سے ہمارے یہاں انسان کی حیثیت کچھ بھی ہو لیکن اس پر شاندار قسم کا ولیمہ فرض کردیا گیا ہے چاہے اس کے لیے اسے مقروض ہی کیوں نہ ہونا پڑے شادی پر لیا ہوا قرض اتارتے اتارتے اس کی بیٹی جوان ہوجاتی ہے اب اس کے جہیز کی فکر شروع ہوجاتی ہے لیکن اب اس کاکیا علاج کہ جناب شادی تو بندہ زندگی میں ایک ہی بار کرتا ہے تو دھوم دھام سے کیوں نہ کی جائے یہ اور اس طرح کے بہت سے گمراہ کن جملے ہم نے اپنے دل کو بہلانے کے لیے ایجاد کر رکھے ہیں جو ہمارے لیے مسلسل دکھوں اور پریشانیوں کا سبب ہیں۔ہمارے ایک مہربان کا کہنا ہے کہ جناب ولیمہ زبردست قسم کا ہونا چاہیے اس ایک ولیمے کے ساتھ بہت سے لوگوں کا رزق وابستہ ہے باورچی، کراکری کا سامان،چاول، مرغیاں،گوشت ،قیمہ، پیپسی کولا، سیون اپ، چھوٹے چھوٹے رنگین بلب لڑیوں کی صورت اور اسی طرح دوسری بہت سی چیزیں!یہ تو قدرت کے سلسلے ہیں چلتے رہتے ہیں دنیا کے کام بھی کبھی رکے ہیں زیادہ سوچنا بھی مناسب نہیں ہوتا بندے کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے یہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے دلائل دیے جاتے ہیں۔ہمیں یہ سب باتیں تسلیم ہیں لیکن اس کالم میں ان لوگوں کے حوالے سے بات ہورہی ہے جن کے گھر دو وقت کا چولہا بھی مشکل سے جلتا ہے جو زندگی کے ضروری امور کو بڑی مشکل سے نبھا رہے ہیں !دھوم دھام سے شادی رچاناجن لوگوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ ہمارے موضوع کا حصہ ہی نہیں ہیںوہ تو بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں انہیں تو ہر چیز میں کثرت کا شوق ہوتا ہے !چند برس پہلے ہمیں ایک دیرینہ دوست کے ولیمے پر جانے کا اتفا ق ہوادوست ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھاہم بھی پشاوری روایات کے مطابق روپوں کا ایک خوبصورت ہار ساتھ لے گئے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حیرانی ہوئی کہ شور شرابہ نہ ہجوم کی وجہ سے ہلڑ بازی، دولہا بھائی ایک صوفے پر براجمان تھے تیس چالیس مہمان تھے جنہیں مجمع کہتے ہوئے بھی شرمندگی ہوتی ہے دولہا بھائی کے گلے میں کوئی ہار نہیں تھا ہمیں اس وقت اپنے یار غار اقبال کا ولیمہ یاد آگیا ہار پر ہار پہنائے جارہے ہیںگردن پر زور بڑھتا ہے تو اس کے پیچھے دیوار پر لگی ہوئی کیل پر ہار لٹکا دیئے جاتے ہیں دل میں ایک ہوک سی اٹھی اس میں بھی کتنی اپنائیت ہے ہمیں اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہار ایک بوجھ محسوس ہوا روایتی انداز سے اخبار میں لپٹے ہوئے ہار کو بڑی احتیاط سے باہر نکالا اور جلدی سے آگے بڑھ کر دولہا بھائی کے گلے میں ڈال دیا۔دوست کو گرمجوشی کے ساتھ شادی کی مبارکباد دینے کے بعدکہا: یار ساری عمر تم لوگوں کے ولیمے اڑاتے رہے ہو اور آج تمھارے ولیمے پر تیس چالیس لوگ ہیں یہ کیا بد ذوقی ہے؟اس نے مسکراتے ہوئے کہا یار دراصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں اکٹھا کرنا بہت بڑی پریشانی ہے اور پھر دو چار لاکھ کا خرچہ الگ!سادہ سے ولیمے میں بڑی عافیت ہے اور پھر یہی رقم کل اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کی جاسکتی ہے خرچ کرنے کی جگہیں تو بہت ہیں اور انسان ساری زندگی ان اخراجات سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا بس اتنا خیال کرنا چاہیے کہ اگر خرچہ ہی کرنا ہے تو مناسب جگہ پر کیوں نہ کیا جائے؟اور پھر ہمارے ارد گرد ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یہ بھاری بھرکم اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ہماری حد سے بڑھی ہوئی فضول خرچی ان لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے! اسے تو کچھ نہیں کہا لیکن دل میں سوچ رہے تھے ظالم یہ بات ہمارے بے ہنگم قسم کے ولیمے سے پہلے ہمیںکیوں نہیں بتائی؟ ۔ 

متعلقہ خبریں