Daily Mashriq


پاک افغان سرحد کھولنے کا حکم

پاک افغان سرحد کھولنے کا حکم

افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد ایک ماہ سے زیادہ مدت کی طویل ترین بندش کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے حکم پر کھول دی گئی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔ دوسرے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرحد کی طویل بندش دونوںملکوں کی معیشت اور عوام کے مفادات کے منافی ہے۔ ایک طرف خیرسگالی کے جذبے کا اظہار کیاجارہا ہے دوسری طرف سے پاکستان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سرحد نہ کھول کر اس وعدے کی خلاف ورزی کی ہے جو اس نے لندن میں اس حوالے سے سہ فریقی مذاکرات میں گزشتہ ہفتے کیا۔ اور یہ دھمکی دی جا رہی ہے کہ کابل دوسرے ایسے آپشنز پر غورکرے گا جو پاکستان کے لیے خطرناک ہوں گے۔ پاکستان کے عوام یہ سوچنے پرمجبور ہوں گے کہ خیر سگالی کے جذبے کا اظہار کابل کی طرف سے خطرناک نتائج کی دھمکی کے زیر اثر کیا گیا ہے یا خطرناک کی دھمکی خیر سگالی کے جذبے کے پیچھے کارفرما خلوص اور دردمندی کے جذبے کو افغان عوام کے سامنے مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ بہرحال افغان خبر رساں ادارے پژواک کی اس رپورٹ سے افغانستان کی حکومت کا رویہ عیاں ہے۔ ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ لندن مذاکرات میں پاکستان کی طرف سے کیا وعدہ کیا گیا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری کا معاہدہ موجود ہے جس کے تحت خشکی سے گھرا ہوا ملک ہونے کی حیثیت سے افغانستان کو پاکستان کے راستے تجارتی راہداری حاصل ہے۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان کا سامانِ تجارت کراچی کی بندرگاہ تک بھی جاتا ہے اور لاہور کے نزدیک بھارت سے ملنے والی سرحد واہگہ تک بھی جاتا ہے۔ ایک ماہ پہلے سرحد کی بندش سے اس تجارتی انتظام میں خلل واقع ہوا ۔لیکن اقوام متحدہ کی سمندری تجارت سے متعلق کنونشن کے مطابق اگر راہداری فراہم کرنے والے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تویہ سہولت معطل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملنے والی سرحد اسی بنا پربند کی تھی۔ جب پاکستان میں یکایک دہشت گردی کی لہر ابھری تھی اور افغانستان میں مقیم دہشت گردوں کی تنظیموں نے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور دہشت گرد حملوں میں ملوث حملہ آوروں کے افغان ہونے اور افغانستان سے آنے کے متعلق تصدیق ہو گئی تھی جو ان کے گرفتار ہونے والے سہولت کاروں نے کی تھی۔ اس پس منظر میں لندن میں برطانیہ کے زیر اہتمام پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ سطحی وفود کے مذاکرات میں پاکستان نے ایسا کیا وعدہ کیا تھا جس کا ذکر پژواک کا اشاعیہ دے رہا ہے ۔ ان مذاکرات کے حوالے سے میڈیا میں محض یہ خبریں آئی تھیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کے لیے امکان روشن ہو رہے ہیں تاہم سرحدوں کے کھولنے پرکوئی رضامندی سامنے نہیں آئی تھی۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو جو لندن مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے یہ بتانا چاہیے کہ انہوں نے لندن مذاکرات کے دوران کیا وعدے کیے تھے۔ وزیراعظم ہاؤس کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ جس جذبہ خیر سگالی کے تحت سرحد کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے وہ لندن کے مذاکرات کے ماحصل پر مبنی اقدام ہے یا محض جذبۂ خیرسگالی ہے۔ اور حکومت افغانستان سے استفسار کیا جانا چاہیے کہ وہ کیا آپشنز ہیں جن پر غور کیا جا رہا ہے جو پاکستان کے لیے خطرناک ہوں گے اور پاکستان کے عوام خاص طور پرخیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام کو خبردار کیا جانا چاہیے کہ کابل کے حکمران پاکستان کے لیے خطرناک آپشنز محفوظ رکھے ہوئے ہیں جو اگر افغانستان کی مرضی نہ مانی گئی تو وہ استعمال کرسکتے ہیں۔ باقی اندازہ پاکستان کے عوام خود لگا لیں گے کہ افغانستان کے پاس خطرناک آپشنز کہاں سے آ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کے بیان میں جذبۂ خیر سگالی کے تحت سرحد کھولنے کے اعلان کے ساتھ حکومت افغانستان سے اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ان وجوہ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی جن کی بنا پر سرحد بند کی گئی تھی۔ سرحد کی بندش کی فوری وجہ جیسے کہ سطور بالا میں بیان کیا جا چکاہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی لہر تھی۔ پاکستان کے طول و عرض میں پانچ دن کے اندر آٹھ خود کش حملے ہوئے جن میں ایک سو سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے ۔ حملہ آوروں کے بارے میں معلوم ہوا کہ افغان تھے اور افغانستان سے آئے تھے۔ اس لیے فوری طور پر سرحد بند کی گئی اور افغانستان کو یہ باور کرایا گیا کہ اس کی سرحد کے اندر پاکستان سے فرار ہو کر جانے والے شدت پسندوں نے کمین گاہیں قائم کر رکھی ہیں اور پاکستان پر حملہ آوری کے لیے تربیتی کیمپ بنا رکھے ہیں۔ افغانستان کو ان کے ستر سے زیادہ چھوٹے بڑے لیڈروں کی فہرست بھی فراہم کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ انہیں پکڑ کر پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ افغانستان کی طرف سے جواب آیا کہ جس علاقے میں پاکستان کے مطلوب دہشت گرد مقیم ہیں اس پر افغانستان کی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ اگریہ دعویٰ صحیح ہے تو ان علاقوں کو جانے والے راستے جن علاقوں سے گزرتے ہیں ان پر تو افغانستان کاکنٹرول ہے۔ افغانستان کی حکومت اگر ان شدت پسندوں کی حامی و مددگار نہ ہوتی تو ان کے زیرِ کنٹرول علاقے کو جانے والے راستے تو بند کر سکتی تھی جن سے انہیں رسد اور اسلحہ جاتا ہے۔ ان کے مالی وسائل فراہم کرنے والے سہولت کاروں کے خلاف اقدام توکرسکتی تھی لیکن افغانستان نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔ افغان خبر رساں ادارے پژواک کے اشاعیہ میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ لندن مذاکرات کے دوران سرحدکی بندش کوکھولنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس وعدے کے بعد پاکستان کومطلوب دہشت گردوںکے خلاف افغان حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے تھی جو نہیں کی گئی۔ اس توقع کے برعکس لندن مذاکرات کے باوجود سرحد پار سے پاکستان کی چوکیوں پر حملے ہوئے اور ان حملوں میں پاک فوج کے افسر اور جوان شہید ہوئے۔ اس صورت حال کو نظر میں رکھتے ہوئے کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جذبۂ خیر سگالی کے طور پر سرحد کی بندش کھولنے کے بعد افغان حکومت ان وجوہ کو ختم کرنے کے لیے اقدام کرے گی جن کی بنا پر سرحد بندکی گئی تھی۔ یعنی افغان سرزمین سے پاکستان دشمن عناصر کو نکال باہر کرے گی یا گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کرے گی یا کم از کم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کابندوبست کرے گی۔ یا وزیر اعظم نواز شریف کی اس توقع کے باوجود یہ عذر پیش کرے گی کہ افغانستان کے جن علاقوں میں پاکستان دشمن شدت پسند مقیم ہیں ان پر حکومت افغانستان کا کنٹرول نہیں ۔ سرحد کھولنے سے متعلق وزیر اعظم ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد کی طویل بندش دونوں ملکوں کی معیشتوں اور عوام کے مفاد کے منافی ہے۔ اس جواز کے باعث پہلا سوال یہ ابھر کر سامنے آتا ہے کہ آیا معیشتوں کو نقصان سے بچانے کے لیے کسی قوم کی سلامتی اور اس کے عوام کی جان مال کے لیے خطرہ مول لیا جا سکتا ہے۔ حسبِ دستور سابق سرحد کھولنے سے یہ خطرہ لاحق ہو تا ہے۔ اس میںشک نہیں کہ صدیوں پر محیط مذہبی' ثقافتی اور لسانی رشتوںمیں مربوط دو ملکوں کے درمیان سرحد مستقل طور پر بند نہیں رکھی جا سکتی۔ لیکن سرحد کی حالیہ بندش سرحد کے انتظام کو باقاعدہ بنانے کی طرف پہلا قدم تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سرحد پار آنے جانے کو باقاعدہ انتظام کے تحت لایا جائے تاکہ جیسا کہ دو آزاد ملکوںکے درمیان سفر کا قاعدہ ہے لوگ ویزا یا سفری دستاویزات کے ساتھ سفر کریں اور واپس اپنے ملک جائیں۔ طے شدہ مقامات سے طے شدہ تعداد میں سرحد پار کریں اور غیرقانونی راستوں سے غیر قانونی طور پر سرحد پارنہ کریں۔ اس انتظام کے لیے بین الاقوامی ضابطے موجود ہیں جن پر عمل کیا جائے تاکہ سمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کو روکا جاسکے جو دونوں ملکوں کی معیشتوں کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان راہداری کی ٹریڈ کا معاہدہ موجود ہے اس پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردی ہوئی تو دوبارہ افغان سرحد بند کردی جائے گی۔ لیکن مستحسن یہ ہے کہ دہشت گردی نہ ہو اور سرحد باہمی احترام کے اصولوں پر کھلی رہے۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ سرحد کھولنے کے ساتھ وزیر اعظم نے افغانستان سے جن توقعات کی طرف اشارہ کیا ہے وہ پوری ہوں۔ اگر پژواک کے اشاعیہ کے مطابق لندن مذاکرات میں کوئی وعدہ کیا گیا ہے تو وہ ایسے میکنزم کی بنیاد پر کیا گیا ہو گا جولندن مذاکرات میں زیرِ غور آیا اور اس پر اتفاقِ رائے ہوا۔ یہ میکنزم سامنے آنا چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ افغان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے اور محض اس عذر پر اکتفا نہیں کر رہی کہ جن علاقوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی ہیں ان پر افغانستان کا کنٹرول نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے جذبۂ خیر سگالی کو دور نزدیک مستحسن سمجھا جائے گا۔ پاکستان میں بھی اس جذبہ کا احترام موجود ہے۔ اس جذبہ خیر سگالی کے احترام کا تقاضا ہے کہ سرحد کے انتظام سے متعلق وزارتوں کے ذمہ دار نمائندے سرحد کھولنے سے متعلق اٹھنے والے سوالوں پر غورکریں ۔ مثال کے طور پر کن وجوہ کی بنیاد پر کن شرائط کے تحت کتنی تعداد میں ویزے جاری کیے جانے چاہئیں ۔ سرحد پار کرنے والے اپنے ساتھ کتنا اور کس نوعیت کا سامان لا یا لے جا سکیں گے ۔ تجارتی سامان پر محصولات کی وصولی کا بندوبست کیا ہوگا۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کا حجم کیا ہوگا۔ افغانستان میں جو اشیاء بیرونی ممالک سے درآمد کی جائیں گی ، انہیں پاکستان میں سمگل کرنے سے روکنے کا بندوبست کیا ہوگا۔ ایسی سفارشات کے ساتھ افغانستان کے متعلقہ اہل کاروں سے مشاورت کے بعد کوئی متفقہ طریقہ کار طے کیا جانا چاہیے اور جلد کیا جانا چاہیے۔ کراسنگ پوائنٹس سے آمدورفت کے ضوابط طے کرنے کے بعد یہ ضروری ہوگا کہ غیر قانونی راستوں سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کے تدارک کے لیے دونوں ملکوں کی سیکورٹی فورسز مشترکہ نگرانی کا انتظام کریں۔

متعلقہ خبریں