جمہوریت کی اصلی شکل

جمہوریت کی اصلی شکل

سیاست کے چہرے کی تحریر یں پڑھتے پڑھتے ایک عمر گزر گئی نہ یہ لوگ بدلے نہ انکے چہروں کے خدوخال ، نہ ان کی باتیں بدلیں نہ ہی ضروریات ۔ یہ وقت اس لحاظ سے بڑا ہی بے معنی لگتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں اور ان سالوں کے درمیان اصل وقت تو مالک وقت نے لپیٹ کر طاق پر رکھ دیا اور یہ سب کچھ جو کئی سال پہلے تھا ، آج بھی ایک شکن کی تبدیلی کے بغیر اسی طرح ہے ۔ ان کی مفادات کی دوڑ بھی ویسی ہی ہے ۔ اور ان مفادات کے دانت نکوستے وحشی جانور بھی نہیں بدلے ۔ ان لوگوں کی خواہش کے الفاظ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ۔لوٹ لینے اور خون پینے کے طریقے بھی وہی ہیں ۔ اور کبھی تاریخ سے مقابلہ کروں تو کئی بار دوسرے ملکوں سے آنے والے حملہ آور ، آج کے جمہوری حکمرانوں سے بہتر محسوس ہوتے ہیں ۔ کم از کم باہر سے آنے والے فاتحین اورجابرین کے بارے میں کوئی ابہام تو نہ ہوتا تھا ۔ لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ یہ انہیں فتح کرنے انہیں لوٹنے کے لیے آئے ہیں ۔ اس فاتح کا محکومین سے کیا سلوک رہتا ، معاملات وہاں مختلف ہو جا یا کرتے تھے ۔لیکن اسکے علاوہ کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہوا کرتی تھی ۔جمہوریت نے سب سے پہلے اس معاملے کویقین وبین کی کیفیت میں تبدیل کیا ۔ ابتداً نسل انسانی کا خیال یہی تھا کہ اس نے اپنے ارتقا ء کے ساتھ ہی بہتری کا بہت عمدہ طریقہ دریافت کر لیا ہے ۔ بہت سارے لوگ جہاں مل کر اکٹھے رہ رہے ہونگے ، جغرافیہ انہیں ایک قومیت میں باندھ دے گا ۔ اس قومیت کے ساتھ ہی کئی مشترکہ مفادات بھی جنم لیں گے اور ساتھ کے ساتھ مسائل بھی سر اٹھائینگے ۔ بادشاہت میں کسی ایک شخص کی اچھائی یا برائی ان لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا کرتی تھی ۔انسان نے جمہوریت کو تشکیل دے کر اس فیصلے کو اوراپنے بارے میں ہر فیصلے کو بہت سے لوگوں میں بانٹ دیا ۔ ایک مشترکہ فہم (Collective wisdom)کو اپنا نے میں یہ خطرہ کم تھا کہ ایک شخص کی غلطی تمام لوگوں کی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے ۔

اس مشترکہ فہم کے اپنائے جانے میں یقینا یہ خیال بھی رہا ہوگا کہ لوگ مل جل کر فیصلہ کرینگے ، اگر ایک غلط فیصلہ کرنے لگے گا تو دوسرے اسے مشورہ دینگے اور اکثریت مل کر اپنے اور باقیوں کے مفاد میں درست فیصلہ کرلے گی ۔ لیکن جب نظام ان حدود و قیود سے نکل جائیں جو مذہب نے اس نظام کے لیے مقرر کردیئے ، نمائندوں کومنتخب کرنے کے لیے جو شرائط مقرر کردیں ، جب انسان نے ان دائروں کو توڑنا شروع کیا ، وہیں سے مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے ، تب انسان نے ایک بار پھر فتوحات کا سلسلہ شروع کیا ۔اب کی بار یہ فتوحات جمہوریت کے لبادے میں چھپی ہوئی تھیں ۔ ایک ملک دوسرے ملک پر قبضہ کرنے کی خواہش پیدا کرتا تو دوسرے کمزور ملک کی جمہوریت کوہائی جیک کرنے کی کوشش کرتا ۔ پوری جمہوریت ہائی جیک نہ ہو سکی تو کبھی کسی طور ، کبھی کسی طریقے سے اسکے نمائندوں سے اپنی بات منواتا یا ان کے ارد گرد اپنے جال بچھا تا اور سب سے بڑی کامیابی تو ان ملکوں کی یہ رہی کہ جس طرح ہم آج کل عام زبان میں کہتے ہیں کہ مقدمے میں فیصلہ اپنی مرضی کا کروانا ہوتو وکیل کرنے کے بجائے جج کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔
دوسرے بڑے ملکوں نے بھی چھوٹے ملکوں کے لیے یہی فیصلہ کرلیا ۔ وہ وکیل کے بجائے اب جج کیا کرتے ہیں ۔ صرف حاکم اعلیٰ ہی ان کے حکم کا تابع نہیں ہوتا وہ ان ملکوں کی معیشت بھی اپنے اختیار میں کرلیتے ہیں ۔ حاکم اعلیٰ یا وزیر اعظم اور اسکی ٹیم بظاہر تو ایک آزاد ملک کی پالیساں ترتیب دیتے ہیں لیکن یہ ملک اپنے مالی معاملات میں یوں ان امیر بڑے ملکوں کے چنگل میں اُلجھ کر رہ گئے ہوتے ہیں کہ پھر یہ ملک صرف کا غذ پر ہی آزاد رہ جاتے ہیں ۔ وہ نہ اپنے حال کے فیصلے خود اور اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مستقبل کا کوئی خواب اپنی مرضی سے دیکھ سکتے ہیں ۔پاکستان کی مثال تو ہمارے سامنے ہے ۔ ہم سب یہ سوچ کہ کبھی میاں نواز شریف کو ، کبھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا کرتے ہیں کہ یہ ہمارے مفادات کے فیصلے کرینگے اور انکے لیے ہر حال میں اس ملک کے لوگوں کا مفاد ہی مقدم ہوگا لیکن یہ سب کرتے ہوئے ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمارے کسی بھی فیصلے سے بہت پہلے ، امریکہ جیسا کوئی ملک جج کر چکا ہے ۔ یہ جج اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اپنی سب سے اونچی بولی پر بہت آرام و سکون سے بک جاتے ہیں ۔ یہ آزادی ، تئیس مارچ کے پریڈ یہ ہمارا لہراتا سبز ہلالی پرچم اس ملک کے بچوں کے ذہنوں میں اس ملک کے حوالے سے ہم جو خواب بھرتے ہیں ، سب کے سب ہمارے حکمران اعلیٰ نے کب سے ان تجوریوں میں گروی رکھے ہیں جو ان حکمران اعلیٰ کے خریدار ہیں ۔ یہ بھی عجب سودا ہے کہ بولی حکمرانوں کی لگتی ہے قیمت بھی انہیں ادا کی جاتی ہے اور اس سودے کے نتیجے میں میں اور آپ بک جاتے ہیں ۔ ایک عرصہ ہوا ہم کبھی ایک مالک کا صحن صاف کرتے ہیں ، کبھی دوسرے کا ۔ آج جب ہماری حکومت ، ہماری خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی کر رہی ہے کہ پاکستان کا جھکائو امریکہ سے ہٹ کر اس نئے بلاک کی جانب ہو رہا ہے جس میں چین ، ترکی اور روس آپس میں ہاتھ ملا کر امریکہ کا مقابلہ کرینگے ، اس میں پاکستان کی حیثیت تو ایک بار پھر ان بڑوں کے کھیل کے میدان جیسی ہونے والی ہے ۔ ان کے لیے پاکستان کی اہمیت وہی ہوگی جو امریکہ کے لیے پاکستان کی رہی ہے ۔ یہ فیصلہ تو آج پاکستان کو کرنا چاہیئے کہ اس نے اپنے آپ کو پھر ویسے ہی مٹی کے بھائو بیچ دینا ہے یا کم از کم بھائو بڑھانے کی ہی کوشش کرنی چاہیئے ۔ آزادی تو ممکن نہیں ذرا دام ہی اچھے لگ جائیں لیکن اس حوالے سے سوچ کون رہا ہے ۔ حکمران دولت سمیٹنے اور بچ جانے میں گم ہیں ۔ اور ہم ان کی پھیلائی ہوئی کسمپر سی میں زندگی وموت کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔

اداریہ