Daily Mashriq


آخری فیصلہ

آخری فیصلہ

کسی اہم مسئلے پر ذمہ داروں کی جانب سے فیصلے پر تاخیر سے نہ صرف شکوک و شبہات کا اظہار ہونے لگتا ہے بلکہ ان کے بارے میں چہ مہ گوئیوں اور افواہوں کا پھیلنا بھی ایک فطری امر ہے۔ آج کل وائس چانسلرز سرچ کمیٹی کے فیصلے کی تاخیر پر بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یاد رہے دس بارہ روز پہلے اس کمیٹی نے صوبے کی نو جامعات کے سربراہوں کے انتخاب کے لئے انٹرویوز مکمل کئے اور فیصلہ محفوظ کرلیا' کیوں کیا؟ اس کا جواب تو کمیٹی کے اراکین ہی بہترطور پر دے سکتے ہیں۔ اس کے کیا اثرات سامنے آرہے ہیں ان پر بھی بات ہوگی۔ تمہید میں ہم بتاتے چلیں کہ ہم نے گزشتہ دنوں اپنی کچھ تحریروں میں جامعات کے سربراہوں کی تقرری پر اپنے کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا جس میں مبینہ طور پر میرٹ کی پامالی کے کچھ نکات ہم نے بیان کئے تھے۔ ہمیں خوشی اس بات پر ہوئی کہ ہم نے جو لکھا وہ نہ صرف ارباب اختیار کی نظروں سے گزرا بلکہ وائس چانسلرز کے انتخاب کے اس دوسرے رائونڈ میں ہماری جانب سے ظاہر کئے گئے خدشات کے ازالے کی بھی کوشش کی۔ یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ وائس چانسلرز کی نو آسامیوں کے لئے زیر غور امیدواروں کے مطابق جتنے امیدوار بھی شارٹ لسٹ کئے گئے تھے جن کی تعداد ساٹھ بتائی جاتی ہے ان کے تعلیمی کوائف کے بارے میں سیکرٹریٹ کے ذمہ داروں نے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا سے ٹیلی فون پر رابطے قائم کئے اور وہ سوالات پوچھے جو ہم نے اپنے کالمو ں میں اٹھائے تھے۔ تھرڈ ڈویژنر کی تقرری کا مسئلہ ان میں سر فہرست تھا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ اس بار اس مسئلے کو ا حسن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور سرچ کمیٹی دونوں کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب اخباری تحریروں اور اداریوں پر سرکاری محکموں کی جانب سے بھرپور توجہ دی جاتی تھی یہ روایت اب کم و بیش ختم ہو چکی ہے۔ یقین جانئے آج کل اداریوں اور کالموں میں قومی اہمیت کے اہم مسائل بھی نظر انداز کردئیے جاتے ہیں جسے ہم ایک المیہ ہی قرار دے سکتے ہیں۔ سرکار کی بے حسی قوم کے لئے تشویش کا سبب بنتی جا رہی ہے۔ لیکن ہم اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں کہ ریسرچ کمیٹی کی کارکردگی پر لکھے گئے کالم ذمہ داروں نے نہ صرف پڑھے بلکہ اس معاملے پر ہم کو با خبر بھی رکھا گیا۔ ہمارے کالم کی اشاعت کے فوراً بعد وائس چانسلرز سرچ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر عطاء الرحمن کا برقی مراسلہ ملا جس میں انہوں نے انتخابی عمل کی کچھ تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس مراسلے میں اپنی کمیٹی کے فیصلے کے دفاع کی بھی کوشش کی اور حکومت کی کوتاہیوں کا بھی ذکر کیا۔ ہم نے ان کے جواب میں اپنے تحفظات کی تائید میں کچھ دستاویزی ثبوت موصوف کی خدمت میں روانہ کردئیے جس کا انہوں نے بغور مطالعہ کیا اور جواب میں آئندہ کے لئے کمیٹی کے انتخابی عمل کی شفافیت کا یقین دلایا۔ خوشی اس بات پر بھی ہوئی کہ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے مجھے بالمشافہ ملاقات کی بھی دعوت دی جو میں بوجوہ قبول نہ کرسکا۔ میری البتہ یہ خواہش ضرور ہوگی کہ ہم قومی سطح کے اس ماہر تعلیم سے کسی مناسب وقت پر ملاقات میں سرچ کمیٹی کی کارکردگی پر معلومات حاصل کریں۔ ان کے متذکرہ برقی مراسلے میں کچھ ایسے نکات کی طرف اشارے موجود تھے جن سے ذمہ داروں کی غیر سنجیدگی نظر آتی تھی۔ فی الوقت ہم اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے کہ وائس چانسلرز کی گزشتہ تقرریوں میں اہلیت کو کس نے اور کیوں نظر انداز کیا۔ ہماری اطلاعات کے مطابق سرچ کمیٹی یا پھر سرکار کے فیصلوں پر امیدواروں نے داد رسی کے لئے اعلیٰ عدالت سے رجوع کر رکھا ہے اور اس ضمن میں کچھ مقدمات زیر سماعت ہیں۔ گزشتہ انتخابی عمل میں جو پالیسی بھی اختیار کی گئی ان سے صرف نظر کرتے ہوئے اب ہمیں مستقبل پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ شنید ہے کہ 9جامعات کے لئے وائس چانسلرز کی تقرریوں کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ ان میں اہلیت کے بنیادی تقاضے اگر بجا طور پر پورے کردئیے گئے تو اس سے نہ صرف پچھلی غلطیوں کا ایک حد تک ازالہ ہو جائے گا بلکہ جامعات جیسے اعلیٰ تعلیمی مراکز کا مستقبل بھی محفوظ ہونے کا یقین کیا جاسکتا ہے۔ سرچ کمیٹی نے ہماری اطلاعات کے مطابق اپنی سفارشات خیبر پختونخوا حکومت کے سپرد کردی ہیں اور اب حتمی فیصلہ انصاف اور میرٹ کے نعرے پر یقین رکھنے والی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ اس عبوری عرصہ میں امیدواروں کا سفارشی چھتریاں تھامے ان فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی شد و مد سے جاری ہوں گی اور یہ لوگ ذمہ داروں کے دفاتر کے سامنے اگر دھرنا نہ ماریں تو طواف سے باز نہیں آئیں گے۔ اس مسئلے کا ایک سیدھا سادہ اور کلی وال حل صرف یہ ہی ہوسکتا ہے کہ جن امیدواروں نے زیادہ سفارشیں کیں اسی تناسب سے ان کے حاصل کردہ نمبروں میں کٹوتی کی جائے تاکہ منفی ہتھکنڈوں پر یقین نہ رکھنے والے امیدوار صرف اپنی اہلیت کی بنیاد پر آگے آسکیں۔ میرٹ اور انصاف کا دعویٰ رکھنے والی حکومت سے ہماری یہی توقع ہے ۔ انصاف کی بالادستی پی ٹی آئی کے چیئر مین کا وژن اور ان کے منشور کا بنیادی نکتہ ہے۔ چنانچہ جامعات کے سربراہوں کی تقرری کے سلسلے میں ان کا آخری فیصلہ انصاف پر مبنی ہونا چاہئے۔ اہم فیصلوں پر تاخیر سے شکوک وشبہات کا پیدا ہونا جیسے کہ ہم نے ابتداء میں عرض کیا ایک فطری امر ہے۔ ہمارا مشورہ ہوگا کہ وائس چانسلرز کے انتخاب کا فیصلہ مزید نہ روکا جائے۔

متعلقہ خبریں