Daily Mashriq


سندھ طاس معاہدہ پرمذاکرات کی بحالی

سندھ طاس معاہدہ پرمذاکرات کی بحالی

پاکستان اور بھارت کے مابین لاہور میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ واضح رہے اس سے قبل اڑی حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے بھارت نے مذاکرات معطل کر دیئے تھے اور ایک بیان میں نریندر مودی نے اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے جس کے بعد بھارتی حکام سندھ طاس معاہدے کے سالانہ اجلاس میں شرکت سے گریز کررہے تھے۔ اس تنازع کے حل کے لیے بھارت نے ورلڈ بینک سے غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ پاکستان نے چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کے تقرر کی درخواست کی تھی۔ورلڈ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ''دو ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی تعمیر پربھارت کی جانب سے غیر جانبدار ماہر اور پاکستان کی جانب سے چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری کو عارضی طور پر روکا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے دی گئیں دونوں درخواستیں ایک ساتھ چل رہی تھیں اور خدشہ تھا کہ ان دونوں درخواستوں کے مختلف نتائج آئیں گے جس سے سندھ طاس معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے''بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اس عمل کو عارضی طور پر روکنے کا مقصد سندھ طاس معاہدے کو بچانا اوربھارت اور پاکستان کی مدد کی جائے کہ سندھ طاس معاہدے میں رہتے ہوئے متبادل طریقہ کار سے اس آبی تنازع کو حل کیا جائے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ستاون سال پرانے سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنر کے درمیان سال میں ایک ملاقات ہونا لازمی ہے، لیکن ستمبر2016ء میں بھارت نے اڑی کے فوجی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کے عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ مرزا کا کہناہے کہ آخری مرتبہ ان کے اور بھارت کے واٹر کمشنر کے درمیان مئی2015میں ملاقات ہوئی تھی۔اڑی حملے کے بعد ستمبر2016میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس اہم اجلاس میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال نے بھی شرکت کی تھی۔اس وقت نریندر مودی کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ''خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے''بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ57سالہ پرانے اس معاہدہ کو ختم کرنے کی دھمکیاں بھی سامنے آئی تھیں۔برطانوی خبر رساں ادارے نے بھارتی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بھارت نے حالیہ مہینوں میں مقبوضہ کشمیر میں6ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کر دی ہے اور ان منصوبوں کی مجموعی مالیت 15ارب ڈالر سے زیادہ ہے، ان منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ1856میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا سوالکوٹ پلانٹ بھی شامل ہے۔رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ بجلی کے ایک اعلیٰ اہلکار پردیپ کمار پجاری کاکہناتھا کہ یہ خالصتاً بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ نہیں ہے،ان منصوبوں کی نوعیت دفاعی اور سرحدی انتظام جیسے اہم معاملات سے بھی ہے اور ان سب معاملات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی پیسہ مختص کیا جاتا ہے۔ رائٹر نیوز ایجنسی نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کے حوالے سے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کا احساس ہو گیا ہے اور اسی وجہ سے اس نے مذاکرات کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان منصوبوں سے بھارت کو دریائے چناب سے حاصل ہونے والی بجلی کی مجموعی پیداوار دگنی ہو جائے گی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں چناب پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے بھارت3ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔امریکی سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی نے 2011میں اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ بھارت ان منصوبوں کے ذریعے ان دریائوں سے پاکستان کو حاصل ہونے والے پانی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ان منصوبوں کا مجموعی نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان کو جانے والا پانی روک کر بھارت ذخیرہ کر سکے گا اور پاکستان کی زرعی پیداوار کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔اس دھماکہ خیز اور خطرناک صورتحال میں دونوں ملکوں کا ایک دفعہ پھر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کافیصلہ خو ش آئند ہے اگرچہ بھارتی رہنمائوں کی ماضی کی ہٹ دھرمی پر مبنی حرکتوں کی بنیاد پرلاہور میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات سے کسی بہتری یا اس مسئلے کے حل کی جانب کسی پیش رفت کی امید نہیں کی جاسکتی لیکن اس دھماکہ خیز ماحول میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کا ایک میز پر جمع ہوجانابھی ایک بڑی پیش رفت سے کم نہیں ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھارتی رہنمائوںکو پانی کے اس نازک مسئلے پر سنجیدہ اور مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گی ۔

متعلقہ خبریں