کشیدگی کا گلیشئر پگھل رہا ہے؟

کشیدگی کا گلیشئر پگھل رہا ہے؟

رفتہ رفتہ یوں لگ رہا ہے کہ نریندر مودی کے دل کا غبار اور مزاج کا خمار دونوں چڑھی ہوئی ندی کی مانند اُتررہے ہیں۔انسان تنوع اور تغیر کے فطری اصولوں کو نظر انداز کرکے جب دنیا کو اپنی ڈگر پر چلانے کی کوشش میں تھک کر ناکام ہوجاتا ہے تو پھر ترقی ِ معکوس شروع ہوجاتی ہے ۔تخیلاتی دنیا کی بلندیوں سے زمینی حقیقتوں کی پستی کا سفر شروع ہوجاتا ہے ۔امریکہ ، چین، بر طا نیہ ، روس اور اقوام متحدہ کی طرف سے بھارت کے بیا نیہ پر تصدیق اور اتفاق کی غیر مشروط مہرثبت نہ ہوسکی ۔ دہشت گردی کا منبع ہونے کا بیان سنسی خیزی سے بھر پو ر شام کے کسی اخبار کی طرح عالمی بازار میں ہاتھوں ہاتھ نہ بک سکا ۔اس تبدیلی کا ثبوت بھارت کا پانی کے مسئلے پر مذاکرات پر آمادہ ہونا اور بھارتی وفد کی پاکستان آمد ہے۔ بیجنگ میںچین کی وزارت خارجہ کی ترجمان چن پنگ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے فروغ سے کشمیر کے حوالے سے چین کے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کرنے کی بات اس وقت کی گئی جب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کا تین روزہ دورہ کیا ہے ۔انہوںنے اس دورے کے دوران چین کی سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں کا اہم موضوع پاک چین اقتصادی راہداری اور بھارت کا معاندانہ کردار ہی رہا ہے ۔چین اور پاکستان اس وقت دو ہمسائے ہی نہیں بلکہ دنیا کے معاملات میں یکساں موقف رکھنے والے ملک بھی ہیں۔چین ایک بڑی معیشت بن کر دنیا کے منظر پر اُبھر چکا ہے اور پاکستان اسے راہداری کی سہولتیں فراہم کرکے مزید آگے بڑھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ۔جواب میں چین بھی پاکستان کے لئے مشکل لمحوں میں مددگا اور معاون کا کردار ادا کرتا ہے ۔مسئلہ کشمیر دنیا کے طویل عرصے سے حل طلب چلے آنے والے مسائل میں سے ایک ہے جس پر دونوں متحارب ملکوں کے درمیان کئی کھلی جنگیں ہو چکی ہیں اور درپردہ اور نامکمل جنگوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ۔آج بھی دونوں ملک حالت جنگ میں ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان اس کشمکش کے اثرات عوام کی زندگیوں پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔غربت اور افلاس کے مارے عوام کشمکش اور کشیدگی کی قیمت چکا رہے ہیں۔دونوں ملک باہمی مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اس لئے چینی وزارت دفاع کا یہ کہنا ضروری ہے کہ دونوں کومناسب کنسلٹنسی کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔عالمی برادری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام تنازعات کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار اداکرنا چاہئے ۔اس کے لئے پاکستان اور بھارت کی مشترکہ دعوت کا انتظار نہیں کر نا چاہئے ۔مشترکہ دعوت کے انتظار میں جنوبی ایشیا کسی حادثے کا شکا ر بھی ہو سکتا ہے ۔خطے کے امن اور یہاں کے عوام کی بقا ء کے لئے لازم ہے کہ امریکہ ،چین اور روس جیسے با اثر ممالک آگے بڑھیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردارادا کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹریس کے نائب ترجمان فرحان الحق نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ سیکرٹری جنرل اس بات پر مشاورت کررہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی قیادتوں سے مسئلہ کشمیر کی صورت حال پر بات چیت کی جائے ۔ترجمان کا کہنا تھا ہم مختلف سرکاری حکام سے مشاورت کرکے بات چیت کے پراسیس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹر جنرل کی طرف سے کشمیر پر دونوں ملکوں سے بات چیت کا عندیہ ایسے وقت میں دیا گیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی کشیدگی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے ترجمان کے اس بیان پر بھارت کا ردعمل حسب روایت اور حسب معمول وہی رہا جو بھارت کا و تیرہ اور پہچان ہے۔بھارتی ذرائع نے بات چیت سے انکار نہیں کیا ۔حقیقت یہ ہے کہ کشمیر ایک آتش فشاں کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔وادی کشمیر ایک آزاد علاقے کا منظر پیش کر رہی ہے ۔وہاں لوگ موت کے خوف سے آزاد ہو چکے ہیں۔نوجوان اور خواتین موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال چکے ہیں ۔حالات اور وقت نے کشمیر کی موجودہ نسل کو اب یا کبھی نہیں کے مقام پر لاکھڑا کیا ہے ۔کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کی ہر تدبیر اُلٹی ہو رہی ہے۔کنٹرول لائن پر دونوں افواج کے درمیان کشیدگی کا گراف بہت بلند ہے ۔مودی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے اور مغرب نے اس کا دماغ خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان بھارت کی بالادستی کو جھٹک چکا ہے اور بھارت کے ساتھ برابری کے سوا کوئی اور تعلق رکھنے پر تیار نہیں۔اس طرح حالات بند گلی میں پہنچ چکے ہیں ۔اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کی ایک فریق اور ضامن ہے ۔منقسم کشمیر کا موجود ہ سٹیٹس کو اقوام متحدہ نے ہی قائم رکھا ہے اور آج بھی اس کے فوجی مبصرین دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کرنے کے لئے موجود ہیں۔اس لئے اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کو آگے بڑھ کر اس فضا کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے بصورت دیگر امریکی جنرل جونز کا خدشہ درست ثابت ہو سکتا ہے۔

اداریہ