Daily Mashriq


فاٹا کی بدلتی صورتحال کے تقاضے

فاٹا کی بدلتی صورتحال کے تقاضے

گورنر خیبرپختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا نے فاٹا سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام اور پولیٹیکل ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنائیں اور ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر معیاری انداز میں مکمل کریں۔ گورنر نے فاسٹ ٹریک سکیموں کی جلد تکمیل کیلئے مکمل فنڈنگ کی بھی ہدایت کی ہے۔ وہ گزشتہ روز گورنر ہاؤس پشاور میں فاٹا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے 2017-18 کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ گورنر نے کہا کہ فاٹا کی مجموعی ترقی کی کوششوں میں کھیل اورثقافت کے فروغ کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم وملک کی ترقی وخوشحالی یقینی بنانے کیلئے نئی نسل کی بامقصد تربیت کرکے ہی دیرپا نتائج کاحصول ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی نوجوان صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں اور ان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے انہیں بھرپور مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ بھی دنیا بھر میں مختلف شعبہ جات میں اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں۔ اسے قبائلی عوام کی بدقسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک وہ جس نظام کا حصہ چلے آرہے ہیں اس نظام میں اور خاص طور پر اس نظام کو چلانے والے اور خود قبائلی عوام کے نمائندے کسی طور اس امر کے حامل نہ تھے جو قبائلی عوام کے مسائل ومشکلات کا ادراک کرکے ان کے حل کی سعی کرتے۔ ہمارے تئیں قبائلی علاقہ جات میں دہشتگردی کیخلاف جنگ کے خاتمے اور دہشتگردوں کے صفایا کے بعد امن کا دور ضرور لوٹ آیا ہے لیکن اس ساری صورتحال میں قبائلی علاقوں میں موجود جس نام نہاد انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اس کی بحالی اور نئے انفراسٹرکچر کے قیام پر ا س طرح کی توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی جبکہ داخلی ہجرت کے نتیجے میں قبائلی عوام نئے امور اور سیاسی معاملات سے آشنا ہو چکے ہیں چونکہ زمینی صورتحال میں یہاں کے عوام میں قبائلی علاقوں کے حالات اور صورتحال کے بارے میں آراء تبدیل ہونے کے باعث وہ ایک نئی طرح کے احساس محرومی کا شکار ہوگئے ہیں جن سے بعض عناصر فائدہ اٹھانے کیلئے آگے آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے تئیں یہ صورتحال فوری طور پر اس امر کی متقاضی ہے کہ محسوس ہونیوالے اس خلاء کو پر کرنے کیلئے فاٹا اصلاحات کا عمل تیز کرنے اور فاٹا کے انضمام پر اگر مکمل اتفاق رائے نہیں تو پھر ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جس سے قبائلی عوام کو اس امر کا احساس ہو کہ ان کے مسائل ومشکلات پر توجہ دی جانے لگی ہے۔ ان کو اس قسم کا احساس دلانا اسلئے بھی ضروری ہے کہ فاٹا کے عوام ایک طویل عرصے سے اس کے منتظر ہیں۔ جہاں تک قبائلی علاقہ جات میں فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے گورنر خیبر پختونخوا کی ہدایت کا تعلق ہے ہر گورنر اس قسم کی ہدایت ضرور کرتا آیا ہے لیکن وفاق کے نمائندوں کی جانب سے عملی طور پر زمینی حقیقتوں کا جائزہ اور اپنے احکامات پر عملدرآمد کے جائزے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ گورنر خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلا س میں اس نوعیت کی ہدایت کو بھی اسی زمرے میں دیکھنا غلط نہ ہوگا۔ گورنر ہاؤس پشاور میں فاٹا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا جائزہ اجلاس اور کاغذوں کی حد تک ہی رکھنے کی روایت کو برقرار رکھ کر قبائلی علاقوں میں نہ تو ترقیاتی کاموں کی تکمیل ممکن ہوگی اور نہ ہی اس سے قبائلی علاقوں کے عوام کے احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا۔ جاری حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قبائلی عوام کو اس امر کا احساس دلایا جائے کہ ان کے مسائل کے حل کیلئے جامعیت کیساتھ پروگرام مرتب کئے جا رہے ہیں اور عملی طور پر ان کو اس سے روشناس کرا کر ان کی تسلی وتشفی کے باعث اقدامات ہونے جا رہے ہیں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ قبائلی عوام آزادانہ طور پر اپنے نمائندوں کا چناؤ کرنے کے حق سے اب تک روشناس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی عوام خود کو صحیح معنوں میں قومی دھارے میں محسوس نہیں کرتے۔ فاٹا کی مجموعی ترقی کی کوششوں میں قبائلی نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور ان کو زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے لانے اور نمائندگی دینے کے دعوے تو بہت ہوتے ہیں مگر عملی طور پر قبائلی نوجوان کن مشکلات کا شکار ہیں ان سے کسی کو سروکار نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی تبھی ممکن ہوگی جب ترقیاتی فنڈز کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا اور فنڈز کا استعمال ایسے منصوبوں پر ہوگا جو وسیع تر عوامی مفادات اور اہمیت کے حامل ہوں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے ارباب حل وعقد کو ان معاملات کا احساس ہوگا اور وہ ان امور پر توجہ دینے لگیں گے جن کے نتیجے میں قبائلی عوام کی حالت زار میں تبدیلی آئے گی۔ ہمارے تئیں کم ازکم اس طرح کے لاحاصل جائزے اور اجلاسوں سے تو کسی طور یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ قبائلی عوام کو اس طرح سے تعمیر وترقی کے عمل سے روشناس کرایا جاسکے گا۔

متعلقہ خبریں