Daily Mashriq


ایم ایم اے کی بحالی

ایم ایم اے کی بحالی

مذہبی سیاسی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل کا ایک مرتبہ پھر احیاء ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایم ایم اے کے قائد مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سینیٹ انتخابات میں اپنے صوبائی امیر کی شکست کے باعث اندرونی تنائو اور کشمکش کاشکار ہے جبکہ حکومت میں شمولیت اور غیر متحرک قیادت کے باعث جماعت اسلامی بھی دیر کے اضلاع تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ مستزاد جمعیت علمائے اسلام (س) اس تنظیم کا دوبارہ حصہ بننے سے پہلے ہی انکار کر چکی ہے ایسے میں صوبے میں اس اتحاد کی عوامی حمایت بارے میں زیادہ توقعات کی وابستگی حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا لیکن بہر حال دینی جماعتوں کے ووٹ تقسیم نہ ہونے کا ان کو فائدہ نہ دینا بھی خلاف حقیقت ہوگی اس ساری صورتحال میں جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی حکومت میں ہیں اس لئے ان دونوں جماعتوں کے حوالے سے عوام میں سرد مہری کے جذبات روایتی سیاسی طرز عمل اور خیبر پختونخوا کے عوام کے مزاج کاحصہ ہے جس کاہمیشہ حکمران جماعتوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن اس ضمن میں تحریک انصاف کی صورتحال بہر حال اس لئے بہتر رہے گی کہ یہ پرجوش کارکنوں کی حامل جماعت ہے جبکہ جے یو آئی(ف) اور جماعت اسلامی وہی روایتی کارکن رکھتے ہیں جو عوام میں موثر کردار کے حامل نہیں رہے۔ ایم ایم اے کو صوبے میں جے یو آئی(س) کی مخالفت کا سامنا ہونے کا کافی نقصان ہوگا اس لئے ایم ایم اے کی بحالی کے بعد قیادت کو ماضی میں اتحاد میں شامل اس جماعت کو دوبارہ سے ساتھ ملانے کی تگ و دو کرنا پڑے گی۔ ممکن ہے سینیٹ کے انتخابات کے بعد جے یو آئی (س) کے موقف میں نرمی آچکی ہو۔ ایم ایم اے کی بحالی کے باوجود خیبر پختونخوا میں ایک مرتبہ پھر اس کی حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی توقع نہیں البتہ حکومت سازی کے لئے اس کی حمایت کی اہمیت میں اضافہ ضرور ہوگا۔ بہر حال یہ تو انتخابی نتائج آنے کے بعد ہی درست طور پر معلوم ہوگا۔ فی الوقت ایم ایم اے کو صوبے میں منظم کرنا اور امیدواروں کو ٹکٹوں کی تفویض کے وقت معروضی حقائق کو مد نظر رکھنا اور اتحادیوں کے درمیان اتفاق اہم معاملات ہوں گے۔

نوبت بہ ایں جا رسید

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا وزراء سمیت بغیر پروٹوکول کے پشاور کے چڑیا گھر کے دورے کی مخالفت تو نہیں کی جاسکتی لیکن کیا کسی چڑیا گھر میں آئے روز پیش آنے والے واقعات کی روک تھام اور اصلاح احوال کا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اور ذریعہ نہ تھا۔ پشاور کے چڑیا گھر کا جس اہتمام سے قیام عمل میں لایا گیا تھا اور اس پر جو وسائل خرچ کئے گئے اس کا اس سے بہتر اور مفید استعمال یقینی تھا مگر بہر حال جب اس منصوبے کو اہمیت دینا ہی تھا تو پھر اس کے لئے انتظامات کی بھی ضرورت تھی جس کی افتتاح کے بعد سے تا ایندم کمی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے موقع پر جو احکامات جاری کئے ان کی ضرورت اپنی جگہ لیکن چڑیا گھر جس طرح جانوروں کا قبرستان بن چکا ہے اس طرف توجہ کی ہنوز ضرورت ہے۔ بہت ہی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ چڑیا گھر کی انتظامیہ پنجروں میں بند جانوروں کو آزاد پسند شائقین سے محفوظ نہیں رکھ سکی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر اعلیٰ نے اس ضمن میں علیحدگی میں چڑیا گھر انتظامیہ کو سخت سست ضرور کہا ہوگا اور اس حوالے سے سخت ہدایات بھی جاری کی ہوں گی جن پر جلد عملدرآمد ہوتا ہوا دیکھا جاسکے گا اور چڑیا گھر کے چرند و پرند اور درندوں کی حفاظت کا معقول انتظام نظر آئے گا۔

اک نظر ادھر بھی ارباب اختیار!

خیبر پختونخوا کے سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ یونیورسٹی آف پشاور کے تمام ہاسٹلوں میں191کمرے مختلف سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیموں کے قبضے میں ہیںجہاں اسلحہ و منشیات بھی موجود ہیں۔ہمارے نمائندے کی تفصیلی رپورٹ کسی انکشاف کے زمرے میں اس لئے نہیں آتی کہ یہ نوشتہ دیوار ہے اور جس صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے اس طرح کی صورتحال عرصہ دراز سے ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ‘ پولیس اورحکومت سبھی کو صورتحال کا بخوبی علم ہے مگر اس کے باوجود کوئی بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار نہیں۔ یہاں ہر شاخ پہ الو بیٹھا والا معاملہ ہے۔ صرف یہی نہیں جامعہ پشاور میں اور بھی مختلف قسم کے معاملات توجہ طلب اور حل طلب ہیں۔ ہمارے تئیں یونیورسٹی انتظامیہ کی کمزوری اور ان کو حکومت اور پولیس سے مدد نہ ملنے کا یقین ہی امر مانع ہوسکتا ہے جس کے باعث وہ اقدامات سے گریزاں ہیں۔ اس صورتحال کا تدارک کرنے اور اصلاح احوال کے لئے اعلیٰ سطح پر اقدامات کے لئے مشاورت کی ضرورت ہے ۔ جب تک ہر قیمت پر تطہیری عمل کا فیصلہ نہیں کیاجاتا تب تک اصلاح عمل اور کسی کارروائی کی توقع ہی عبث ہوگی۔

متعلقہ خبریں