Daily Mashriq


ن لیگ اور چودھری نثارعلی

ن لیگ اور چودھری نثارعلی

مسلم لیگ ن کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے نجی ٹی وی چینل کے ساتھ ایک طویل انٹرویو میں ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا ہے کہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی ن لیگ کے لیے نقصان دہ ہو گی ، اس کے باوجود انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ نہ تو مسلم لیگ سے الگ ہوں گے اور نہ ہی کسی فارورڈ بلاک کا حصہ بنیں گے۔ یہ موقف وہ میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا نااہلی کافیصلہ آنے اور نواز شریف کی راولپنڈی سے لاہور تک ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا تکرار کرتے ہوئے ریلی کے وقت سے دہرا رہے ہیں۔ اس کے باوجود میاں صاحب کے رویہ میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ لیکن چوہدری نثار علی خان کی پارٹی میں حیثیت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ میاں نواز شریف نے ان پر طنز بھی کیا ہے کہ ’’کہاں ہیں وہ جو راولپنڈی سے لاہور تک ریلی نکالنے کی بجائے موٹروے سے جانے کا مشورہ دے رہے تھے ۔‘‘ ریلی کے دوران چوہدری نثار علی خان کے حلقے سے گزرتے ہوئے ریلی کی کاروں کی رفتار تیز کرنے کے فیصلے میں بھی جو حکمت پنہاں تھی اس سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ میاں صاحب اور ان کے اندرونی حلقے کے ساتھی چوہدری نثار علی خان کے بارے میں کیاسوچ رکھتے ہیں۔ آخر کار وہ وقت بھی آیا جب چوہدری نثار علی خان کو پارٹی کے اہم فیصلوں میں مدعو نہ کیا گیا۔ اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں انہیں اپنے حلقے سے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہیں دیاجائے گا۔ اس طرح چوہدری نثار علی خان کو مسلم لیگ ن کی مقتدر قیادت دیوار سے لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ تاہم چوہدری صاحب اس کے باوجود پارٹی سے وابستگی پر قائم ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ فارورڈ بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ ن میں اور بھی ایسے لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی محاذ آرائی کی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ محاذ آرائی کی پالیسی پر جو لوگ میاں نواز شریف کے ساتھ نمایاں دکھائی دیتے ہیں ان کی تعداد کچھ اتنی زیادہ نہیں ہے۔ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ کسی نے نواز شریف کو مشورہ دے دیا ہے کہ اگر ان کی گرفتاری ہو جاتی ہے تو یہ پارٹی کے لیے فائدہ مند ہو گی حالانکہ میاں نواز شریف کو اگر سزا ہوئی اور وہ گرفتار ہوئے تو پارٹی کو اس کا نقصان پہنچے گا یعنی آئندہ انتخابات میں میاں نواز شریف کی قربانی مسلم لیگ ن کو دو تہائی نشستوں پر کامیاب نہیں کروا سکے گی جس کے بل پر وہ ایسی آئینی ترمیم لا سکیں جو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ضروری سمجھنے لگے ہیں بلکہ اس سے پارٹی کو نقصان ہو گا۔ چوہدری نثار علی خان کا شمار بھی ایسے ہی لیگی لیڈروں میں کیا جا سکتا ہے جو میاں نواز شریف کو محاذ آرائی کا جوا کھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر میاں صاحب کامیاب ہوں گے تو پارٹی کو تقویت مل جائے گی اور اگر ناکام ہوں گے تو بھی مسلم لیگ ختم نہیںہو جائے گی ۔ میاں صاحب کی محاذ آرائی کی پالیسی کس قدر کامیاب ہو سکتی ہے اس کا اندازہ عام انتخابات تک پہنچتے پہنچتے ہو جائے گا۔ محاذ آرائی کی پالیسی کے باعث ن لیگ کے ٹکٹ کے لیے درخواستیں دینے والے سو بار سوچیں گے کہ وہ نواز شریف کی مظلومیت کے ایجنڈے پر عوام سے ووٹ مانگیں یا اپنی ساکھ اور ن لیگ کی کارکردگی کی بنیاد پر۔ اس طرح جب ٹکٹوں کے لیے درخواستوں اور تقسیم کا مرحلہ آئے گا تو میاں نواز شریف کو صحیح اندازہ ہو گا کہ محاذ آرائی کی پالیسی انکی پارٹی کو کتنا فائدہ پہنچا سکتی ہے جو گمان غالب ہے میاں صاحب کے لیے خوشگوار نہیں ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے مسلم لیگ ن کے جانے پہچانے لوگوں کی ایک تعداد آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں اترے۔ چوہدری نثار علی خان بھی انہی لوگوں میں شامل ہوں گے جو اپنی ساکھ اور مقبولیت کے بل پر انتخابات کے میدان میں اتریں خواہ انہیں پارٹی ٹکٹ ملے خواہ نہ ملے اور وہ سکہ بند مسلم لیگی ہونے کا دعویٰ کرتے رہیں۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں ایک ٹولے نے نواز شریف کے گرد حصار قائم کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے پارٹی میں گزشتہ تین ساڑھے چار سال میں اختلاف کی گنجائش ختم ہو چکی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مسلم لیگ ن اب جمہوری سیاسی پارٹی نہیں رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ محاذ آرائی کا فیصلہ میاں نواز شریف اور ان کو محصور کرنے والے ٹولے کا ہے ۔ پارٹی کا اجتماعی فیصلہ نہیں ہے ۔ چوہدری صاحب نے میاں شہباز شریف کے پارٹی کا صدر منتخب ہونے کو نیک شگون قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر میاں شہباز شریف آزادانہ فیصلے کرتے رہے اور کوئی انہیں پس منظر سے مشورے نہ دیتا رہا ۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف میاں نواز شریف کی مرضی کے خلاف ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتے۔نواز شریف کے خلاف نیب عدالت میں زیرِ سماعت ریفرنس کے بارے میں چوہدری نثار نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے خلاف الزامات کاجواب دے رہے ہیں۔ کہا کہ انہوں نے بھی نہیں دیکھا کہ میاں نواز شریف نے کرپشن کی ہے ۔ دیکھا توانہوں نے نہیں ہو گا لیکن وہ ملک کے وزیر داخلہ تھے ‘ ا س اعتبار سے خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ بھی تھے ۔ میاں نواز شریف کے خلاف زیر سماعت مقدمے کے بارے میں تبصرے سے چوہدری نثار کاگریزبھی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر محمول کیاجا سکتا ہے۔ تاہم چوہدری نثار پر خود کرپشن کاکوئی الزام نہیں ہے اور ن لیگ کا سینئر لیڈر ہونے کارتبہ بھی کوئی ان سے نہیں چھین سکتا۔ میاں نواز شریف کی محاذ آرائی کی پالیسی کی مخالفت کر کے وہ مسلم لیگ کا دفاع ہی کر رہے ہیں اگرچہ وہ کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں انہیں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کی ضرورت نہیں تاہم یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ انہیں میاں نواز شریف ہی بذریعہ شہباز شریف ن لیگ کا ٹکٹ دیں گے تاکہ محاذ آرائی کو پذیرائی نہ ملے ۔

متعلقہ خبریں