Daily Mashriq


سوال ہی سوال

سوال ہی سوال

اب گلی کے نکڑ پر کھڑے دکھائی دینے لگے ہیں اس لئے اب تبدیلیاں دکھائی دینے لگیں گی۔ پاکستان کے معاملات سدھارنے کا فارمولا تو ایک عرصے سے تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن صحیح ترکیب سمجھ میں نہ آتی تھی۔ دانشوروں کے پاس کئی حل تھے لیکن کسی بھی حل کے درست ثابت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو پرکھا جائے۔ زمینی شواہد کے ساتھ اس کا اطلاق ہو اور پھر معلوم ہو کہ واقعی یہ حل سود مند ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔ ایک طویل عرصے تک اس ملک کے بہی خواہ اور دانشور یہ سمجھتے رہے اور اس بات پر یقین رکھتے رہے کہ پاکستان میں لوگوں کا سیاسی نظام سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ اسی لئے لوگ ووٹ نہیں ڈالتے اور وہ جو ووٹ ڈلوا سکتے ہیں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ چونکہ بظاہر صورتحال بھی کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی تھی سو ہم سب نے اس مفروضے پر یقین رکھا اور پھر اسی حساب سے معاملات کے حل کی کوشش کی گئی۔ عمران خان کی صورت میں سوئے ہوئے ووٹروں کو جگانے کی کوشش کی گئی‘ دینی جماعتوں کے ووٹ بینک کو کم تر برائی کا سہارا بنانے کی کوشش بھی ہوئی لیکن پاکستان کے نظام نے سدھر کر نہ دیا۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس فکر میں غلطاں رہے کہ جانے کون سے عناصر ہیں جو پاکستان میں معاملات کو سدھرنے نہیں دیتے۔ ہم نے ساری ہی باتیں سوچیں لیکن معاملے کے حل کا کوئی سرا نہ ملا۔ لوگوں نے ووٹ دینے شروع کئے تو یہ عقدہ کھلا کہ ہم ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو چور ہیں‘ بدعنوان ہیں۔ اس ملک کو مسلسل لوٹتے چلے آئے ہیں اور مزید بھی لوٹتے رہیں گے۔ کسی ایک قوم کا بذات خود اتنی بڑی کجی کا شکار ہونا بھی حیران کن تھا۔ لوگوں کی پسند ہی غلط لوگ تھے۔ یہ کمال قوم تھی۔ جمشید دستی کی ڈگری جعلی ہونے کا پتا چلا تو پہلے سے زیادہ ووٹ دئیے۔ نواز شریف کی بد عنوانی ثابت ہوگئی تو پہلے سے زیادہ گرویدہ ہوگئے۔ ہم کمال لوگ ہیں جانے ہماری کیا ترجیحات ہیں اور ہمیں زندگی ایسی ہی اذیت بھری کیوں پسند ہے۔ کئی بار تجزیہ کرتے ہوئے میں نے یہ بھی سوچا کہ شاید نسلوں کی بادشاہ پرستی ہمیں چمک دمک کی جانب راغب کرتی ہے۔ ہم اپنے ہی مفاد کی بابت درست فیصلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن ہر بار یہ محسوس ہوتاہے کہ ہر ایک تجزیہ اور ہر ایک حل بس باتوں کے سوا کچھ نہیں۔ اور اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ تک لے کر جانا تھا تو آئی جے آئی کی سیڑھی استعمال کی گئی تھی۔ شاید اب کی بار بھی کچھ ایسا ہی سوچا گیا ہے اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس سیڑھی کو دوبارہ استعمال کرکے ایسے کسی بندے کو ملک کا اقتدار سونپا جائے گا جو اس ملک کو سنوار سکے۔ حقیقی معنوں میں اس ملک کا بہی خواہ ہو اور اس ملک کے لئے اس کے بہی خواہوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ یہ ہوسکتا ہے لیکن ایک معاملہ ہے جو ابھی تک میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ آئی جے آئی وجود میں آچکی ہے۔ مسلم لیگ(ن) سے احتساب کا آغاز ہو چکاہے اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ احتساب یہیں تک نہیں رکے گا۔ یہ ایک ایسی چھلنی ہے جس میں سے ہر پارٹی کو گزرنا ہوگا۔ آصف زرداری جو آج تک مسکراتے ہوئے ادھر ادھر گھوم رہے ہیں ان کے بھی دن گنے تو ہوئے ہیں لیکن بتائے ہوئے نہیں۔ معاملات کی نہج ہر قسم کے راز افشاء کر رہی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ آخر وہ کونسی بات ہے جس کا بظاہر ہمیں حل دکھائی نہیں دیتا لیکن وہ بھی طے کی جا چکی ہے۔ اس ملک کے عوام چاہتے تھے کہ ملک میں انہیں بھی سزائیں ہوں جو صاحب اقتدار ہیں‘ تبھی تو میاں نواز شریف کو بھی سزا ہوئی اور بیورو کریسی میں ان کے پسندیدہ لوگوں کے خلاف بھی دائرہ کسا جا رہا ہے۔ شہباز شریف اس وقت تک بچے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ پنجاب کی بیورو کریسی شہباز شریف کے اشاروں پر ناچا کرتی تھی۔ عدالت اور نیب انتہائی ایمانداری سے‘ اس ملک کے ساتھ اپنی وفاداری نبھا رہے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ تعداد میں طاقت ہوتی ہے۔ آئی جے آئی کی یہ تشکیل بس کچھ سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ اگر ایک بار پھر آئی جے آئی کا مقصد سیڑھی بننا ہے تو آخر اس سب کاانہیں کیا فائدہ ہے۔ جناب سراج الحق کے حوالے سے تو عدالت کی رائے پورے پاکستان کو معلوم ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں تو کئی کالی بھیڑیں شامل ہیں اور انہیں کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ جناب ترین کی نا اہلی میں اگر تحریک انصاف کے لئے پیغام تھا تو بھی عمران خان شاید پوری طرح نہیں سمجھے یا ان کی طبیعت کی ضد اسے جاننے کے لئے تیار نہیں ۔ کئی معاملات ہیں جو ابھی اپنا حل بھی چاہتے ہیں اور ان کی سمت کاتعین ہونے سے ہی معاملات کی اصل صورت دکھائی دے گی۔ اس قوم کی پسند نا پسند بھی مکمل طور پر ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ حالات کا اونٹ تو اسی کروٹ بیٹھے گا جس جانب بٹھایا جائے لیکن ایک حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ارادوں کی شکست ہی مالک جہاں اللہ تعالیٰ کے ہونے کی دلیل بھی ہے۔ سو کون جانے کیا ہونے والا ہے۔ آثار یہ ضرور کہتے ہیں کہ اب کی بار کچھ اچھا ہی ہونا ہے اور برا ہونا اب اس ملک و قوم کے بس سے باہر ہوگا لیکن پھر بھی سوال ہیں کہ امنڈتے چلے آتے ہیں اور ہر جانب سے بس یہی حساب کتاب لگایا جا رہا ہے کہ کیا ہوگا اور کس طور ہوگا؟

متعلقہ خبریں