Daily Mashriq


کس کو کہہ رہے ہو؟

کس کو کہہ رہے ہو؟

صاحبان کردار اور صاحبان علم میں فرق ہوتا ہے صاحبان علم تو وہ ہوتے ہیں جو جانتے ہیں اور صاحبان کردار وہ ہوتے ہیں جو اپنے جانے ہوئے پر عمل بھی کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں صاحبان کردار آٹے میں نمک کے برابر ہیں یہ کالے گلاب کی طرح نایاب ہیں۔ ہمارا واسطہ ہر روز ایسے صاحبان عقل و دانش سے پڑتا ہے جن کی گفتگو کا آغاز ہی اپنی تعریف سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی پارسائی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے اپنی تعریف میں زمین و آسماں کے قلابے ملاتے رہتے ہیں لیکن اس وقت بڑا دکھ ہوتا ہے جب ان کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ بس صرف باتیں ہی باتیں ہیں حضرت بالائی آمدنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ! اگر صاحبان کردار کی تعداد تھوڑی سے بھی بڑھ جاتی تو ہم پشاور میں بڑے آرام و سکون سے زندگی گزار رہے ہوتے۔ پشاور کے بازاروں سے گزرتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے دکاندار اپنی دکانوں سے آہستہ آہستہ پھر آگے بڑھنے لگے ہیں۔ دکان کے آگے اب فٹ پاتھ پر بھی اشیاء سجی نظر آتی ہیں۔راہگیر وں کے لیے فٹ پاتھ پر چلنے کا راستہ بھی نہیں ہوتا۔میونسپل کارپوریشن کے اہل کاروں کی مٹھی گر م کر دی جاتی ہے اس لیے انہوں نے اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں۔ دو دن پہلے کوہاٹی چوک کے ایک دکاندار نے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ جناب کارپوریشن اہل کار میری دکان کے آگے پڑے ہوئے برتن اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ویسے ہی پریشان کرتے ہیں برتن ہم دکان کے اندر ہی رکھتے ہیں بس شاگرد نے تھوڑی دیر کے لیے ہی باہررکھے تھے وہ انہیں گھر لے کر جارہا تھا۔ مجھے تو اس بات پر افسوس ہوتا ہے کہ میری دکان کے پہلو میں تیس چالیس کالے بکرے فٹ پاتھ پر دھماچوکڑی مچائے رکھتے ہیں۔ میونسپل اہل کاروں کو یہ بکرے اس لیے نظر نہیں آتے کہ وہ ان بکرا مالکان کے ساتھ بیٹھ کر روزانہ دودھ پتی نوش کرتے ہیں۔ پشاور کی سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں دوڑتے بھاگتے غیر قانونی رکشے بھی ٹریفک اہل کاروں کو نظر نہیں آتے!پشاور کی آلودہ فضا کے حوالے سے ہر روز لکھا جاتا ہے لیکن کس کو کہہ رہے ہو؟پشاور کی مثال تو اب ایک بہت بڑے کوڑے کے ڈرم جیسی ہو گئی ہے جس کی آلودہ فضائوں میں اب تو سانس لینا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے سانس کی بیماریاں روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ ہمارے خیال میں پشاور کی آلودگی کا تعلق ہمارے من کی آلودگی کے ساتھ ہے پشاور کی صفائی کے ذمہ دار اداروں کے اہل کار مجموعی طور پر ہر مہینے کروڑوں روپے تنخواہوں کی صورت میں وصول کرتے ہیں لیکن پشاور کے درد کا مداواکسی کے پاس بھی نہیں ہے اس کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے کوئی بھی نہیں سوچتا ۔ آج پشاور کے باسی کتنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں ان گردآلود فضائوں نے ان کی زندگیوں کو جہنم کا نمونہ بنا رکھاہے۔ نزلہ زکام اور کھانسی ان آلودگیوں کی وجہ سے اب تو ہمارے قومی نشان بنتے جارہے ہیں۔ ہمارے ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آج میڈیسن کا کاروبار کرنے والے لاکھوں کروڑوں روپے کمارہے ہیں۔ پشاور کی حدود سے نکلتے ہی انسان تازہ آکسیجن کے ذائقے سے آشنا ہوجاتا ہے۔ اگر آج ٹریفک پولیس کے ناخدا یہ فیصلہ کرلیں کہ پشاور کی سڑکوں پر کوئی رکشہ بغیر پرمٹ کے چلنے نہیں دیا جائے گا بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے کسی ڈرائیور کو رکشہ چلانے کی اجازت نہیں ہو گی تو یقینا موجودہ صورتحال میں بہتری آسکتی ہے !لیکن یہ سب کچھ نہیں ہورہا ہمارے من کی آلودگی نے ہمارے چاروں طرف کانٹے بو رکھے ہیں۔پہلے صرف لوگوں کو کار بم دھماکوں اور خود کش حملہ آوروں کا خوف تھا اب یہ گندگی کے ڈھیر بھی ہماری جان لینے پر تلے ہوئے ہیں۔ گندے پانی میں مچھروں کی خوب افزائش نسل ہوتی رہتی ہے چھوٹے چھوٹے بچے ان مچھروں کے کاٹنے سے آئے دن ملیریے کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ ہمیں ڈینگی مچھر کو کسی بھی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے اب تو پھر اس کی آمد آمد ہے ۔ہمیں پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کر لینی چاہئیں پچھلے برس بھی اس نے ہمارے صوبے میں بہت سی قیمتی جانیں لی تھیں۔ ایسی صورتحال میں میونسپل کارپوریشن پشاور کو چاہیے کہ شہر کی صفائی کا بندوبست ہنگامی بنیادوں پر کرے۔ گندگی تو ایک طرف رہی کسی جگہ صاف پانی بھی جمع نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ڈینگی مچھر اتنا نفاست پسند ہے کہ یہ کمبخت صاف پانی میں ہی اپنی افزائش نسل کرتا ہے۔ پشاور کی گندگی میں لوگ بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ عوام کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہرجگہ کوڑا کرکٹ نہ پھینکیں کارپوریشن کی طرف سے جو بڑے بڑے ڈسٹ بن رکھے گئے ہیں صرف ان میں کوڑا ڈالیں۔ ہمارے بہت سے مسائل ہمارے غلط رویوں کے پیدا کردہ ہیں ہم میونسپل کارپوریشن کے اہل کاروں کو بھتہ دے کر اپنی دکان کا حدوداربعہ تو بڑھادیتے ہیںتاکہ ہماری آمدنی میں اضافہ ہو اور زیادہ سے زیادہ دولت کما سکیں لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آج ہمارے مال میں برکت نہیں ہے۔ بیوی بچے نافرمان ہیں دولت تو ہے لیکن ہم سکون کی دولت سے محروم ہیں۔ناگہانی اموات ہمارے تعاقب میں ہیں راشی اہل کار یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دولت کمارہے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔ صاحبان علم تو بہت ہیں لیکن صاحبان کردار کی کمی ہے معاشرے میں خوشگوار تبدیلی اس وقت آئے گی جب صاحبان کردار کی تعداد بڑھ جائے گی۔

متعلقہ خبریں