’’پاکستان کی قربانیوں کا صلہ ‘‘

’’پاکستان کی قربانیوں کا صلہ ‘‘

میں منعقدہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کے اجلاس میں امریکہ اور برطانیہ کی مشترکہ تجویز پر پاکستان کو ’’ گرے‘‘ فہرست میں ڈالنے کیلئے ایڑی چوڑی کا زور لگایا۔ پہلے اجلاس میں سعودی عرب اور چین نے پاکستان کی جزوی حمایت کی صرف ترکی نے مکمل طور پر پاکستان کی حمایت کی لیکن دوسرے اجلاس میں امریکہ کے دباؤ پر پاکستان کے حمایتی ممالک نے بھی چپ سادھ لی۔ چین اور سعودی عرب نے بھی پاکستان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لئے۔ پاکستان میدان میں اکیلا رہ گیا۔ دُنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک جرمنی، فرانس، برطانیہ نے پاکستان کے بیانئے کو قبول نہیں کیا اور پاکستان کو جون تک واچ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ اگر پاکستان کی طرف سے تنظیم کو مطمئن نہ کیا گیا تو پھر پاکستان کو اس فہرست سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔

پاکستان کانام 2012 ء سے لیکر 2015 ء تک بھی اس فہرست میں شامل رہا جو بعد میں اس فہرست سے نکال دیا گیا۔ اِس وقت معاشی طور پر مشکوک ممالک کی فہرست میں ایران، شمالی کوریا، شام، یمن، پاکستان، میانمر، انگولا اور ایکواڈور شامل ہیں۔ 35ممالک اور دو علاقائی تنظیمیں جس میں گلف کوآپریشن کونسل اور یورپین کمیشن شامل ہیں لیکن GCCکے تمام ممبر ممالک ذاتی حیثیت میں FATFکے ممبر نہیں ہیں بلکہ ایک گروپ کی حیثیت سے اس تنظیم میں شامل ہیں۔ پاکستان نے جون میںسیاہ فہرست میں شامل ہونے سے بچنے کیلئے اقدامات شروع کئے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، انٹی نارکاٹکس فورس اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے رقوم کی آمد یا منتقلی کے قوانین سخت کردئیے ہیں اور اس کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ آمد اور روانگی کے موقع پرنیا ڈیکلریشن فارم متعارف کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے قواعد کے مطابق بین الاقوامی مسافر کو روانگی کے وقت 10ہزار ڈالرز اور ایک سال میں 60ہزار ڈالرز لے جانے کی اجازت ہے۔ ایف آئی اے نے مرکزی انٹگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے نظام کو مربوط بنا دیا ہے جو محکمہ کسٹمز کیساتھ ملکر مسافروں، منشیات اور غیرقانونی اشیاء اور قرق شدہ اشیاء کی سخت مانیٹرنگ کرے گا۔ اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997ء شیڈول IV کو NACTAکیساتھ منسلک کر دیا ہے تاکہ سفری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ موبائل فون کے ذریعے منتقل شدہ رقوم کی سطح 600بلین روپے تک پہنچ گئی ہے۔ رقوم کی منتقلی کی ان سرگرمیوں کو روکنے کیلئے NACTA نے اسٹیٹ بینک اور نادرا کیساتھ ملکر ان قوانین کی روک تھام کیلئے مزید سفارشات مرتب کی ہیں۔ NGOsکے ذریعے سے منتقل ہونیوالی رقوم، خیراتی اداروں اور دوسرے ذرائع سے ملک میں آنیوالی رقوم میں شفافیت لانے کیلئے NACTA کی طرف سے صوبوں کو ایک قانون کا ڈرافٹ بھجوایا جا چکا ہے۔ صوبوں کی طرف سے سفارشات موصول ہونے کے بعد اس پر قانون سازی کی جائیگی۔ NACTA میںصوبوں میں عیدالاضحی کے موقع پر اکھٹی کی جانیوالی کھالوں، عطیہ کی شکل میںملنے والی رقوم کے صحیح استعمال کیلئے ایک پالیسی زیرعمل ہے، جس سے ان تمام رقوم کو صاف اور شفاف طریقے سے خرچ کی جانیوالی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائیگا۔
کسی ملک کے گرد گھیرا تنگ کر نے کیلئے کئی معاشی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر اس قسم کی پابندیاں سیاسی ہوتی ہیں اور دُنیا کے بڑے ممالک انتہائی غریب اور پسماندہ ممالک پر مزید دباؤ بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت امریکہ دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرنے میں پیش پیش ہے جو ممالک امریکہ کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے وہ امریکہ کے قہر وغضب کا شکار ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے نمبر پر شمالی کوریا ہے لیکن نظر آرہا ہے کہ امریکہ اور شمالی کے مابین برف پگھل رہی ہے۔ کچھ اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں لیکن پاکستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسیوں میں خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ اسلئے امریکہ پاکستان کیخلاف معاشی پابندیوں کی حمایت میں پیش پیش ہے۔ سیاسی دوستیاں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ یہی امریکہ، افغانستان میں پاکستان کو استعمال کر کے مجاہدین کی حمایت کرتا رہا لیکن 9/11 کا واقعہ ہونے کے بعد امریکہ کی توپوں کا رخ افغانستان براستہ پاکستان ہوگیا اور جس میں امریکہ کے دباؤ پر پاکستان نے امریکیوں کا ساتھ دیا۔ امریکیوں کو اڈے فراہم کئے گئے، ٹرانزٹ دیا گیا، جنگی سامان کی ترسیل کیلئے پاکستان کی شاہراہوں کو استعمال کیا گیا، پاکستا ن نے جانی ومالی قربانی دی لیکن امریکہ نے اس کے بدلے جو صلہ دیا وہ سب کے علم میں ہے۔
امریکہ ایک طویل عرصے سے افغانستان میں برسر پیکار ہے۔ امریکہ کو جب افغانستان میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی تو پاکستان کے قربانیوںکو فراموش کر کے اُلٹا پاکستان کو موردالزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کی یہ پالیسی زمینی حقائق کے منافی ہے۔ امریکہ کو ایک مستحکم پاکستان کی آج بھی ضرورت ہے اور پھر پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر کامیابی حاصل کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں بھی ہے کہ جنگ کی بجائے سیاسی میز پر اس کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔ بجائے نفرت کے محبت سے اور پابندیوں کی بجائے سہولتیں فراہم کرنے سے کافی مدد مل سکتی ہے۔

اداریہ