Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک بدوی سے گھوڑی خریدی‘ اسے قیمت ادا کی‘ اس پر سوار ہوئے اور چل دئیے۔ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ وہ لنگڑانے لگی۔ آپؓ اسے واپس موڑ کر اس شخص کے پاس لے آئے جس سے وہ خریدی تھی۔ فرمایا یہ گھوڑی واپس لے لو‘ یہ لنگڑاتی ہے۔

بدوی نے کہا: امیر المومنین! یہ واپس نہیں لوں گا‘ کیونکہ میں نے صحیح حالت میں آپ کے ہاتھ فروخت کی تھی۔

امیر المومنین حضرت عمرؓ نے فرمایا: چلئے فیصلے کے لئے کسی کو منصف مقرر کرلیں‘ جو میرے اور آپ کے درمیان عدل و انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کردے۔

بدوی نے کہا: کیا شریح بن حارث کندی کا فیصلہ آپ کو منظور ہوگا؟

حضرت عمرؓ نے فرمایا: مجھے منظور ہے۔

لہٰذا دونوں فیصلہ کرانے کی غرض سے قاضی شریح کے پاس پہنچے۔

انہوں نے پہلے بدوی کی بات پورے اطمینان سے سنی۔ حضرت عمرؓ سے کہا: امیر المومنین! کیا یہ گھوڑی جس وقت آپ نے خریدی تھی‘ صحیح سالم تھی؟

فرمایا: ہاں!

قاضی شریح نے کہا : امیر المومنین! جو چیز آپ نے درست حالت میں خریدی‘ اسے اپنے پاس رکھئے یا پھر اسی حالت میں واپس لوٹائیں جس میں آپ نے اسے خریدا تھا۔

امیر المومنین نے قاضی شریح کی طرف بڑی تعجب سے دیکھا اور فرمایا: کیا یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہے؟

قاضی شریح نے کہا: حق بات اور عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا: مجھے آپ کا یہ فیصلہ سن کر دلی خوشی ہوئی ۔ اب آپ کوفہ تشریف لے جائیں کیونکہ میں نے آپ کو وہاں کا رئیس القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کردیا ہے۔ آپ کے بے لاگ فیصلے نے مجھے متاثر کیا۔ بلا شبہ آپ جیسا نڈر اور با صلاحیت شخص ہی اس اہم منصب پر فائز ہوسکتا ہے۔

ایک قاضی کا سب سے مقدم فرض اور سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ فیصلہ کرنے میں کسی خارجی اور داخلی اثر سے متاثر نہ ہو اور کسی حالت میں بھی حق و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ شریح میں یہ وصف اس حد تک تھا کہ وہ قانون اور حق و انصاف کے مقابلے میں بڑی سے بڑی شخصیت اور بڑے سے بڑے تعلق کی پروا نہ کرتے تھے۔ ایک معمولی شخص کے مقابلے میں حضرت عمرؓ کے خلاف فیصلہ دینے کاواقعہ اوپر گزر چکا ہے۔ اگر ان کا لڑکا بھی قانون کی زد میں آجاتا تھا تو اس کی بھی پروانہ کرتے تھے۔

ایک مرتبہ ان کے ایک لڑکے نے ایک ملزم کی ضمانت کی‘ ملزم بھاگ گیا‘ شریح نے اس کے بدلے میں لڑکے کو قید کردیا۔ (ابن سعد ج6 ص92)۔

ایک مرتبہ ان کے اردلی نے ایک شخص کو کوڑوں سے مارا‘ انہوں نے مضروب سے اس کو کوڑے لگوائے۔

(ایضاً ص 95)

متعلقہ خبریں