Daily Mashriq

پی پی پی قیادت کے بعد نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی طلب کرلیا

پی پی پی قیادت کے بعد نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی طلب کرلیا

اسلام آباد: پاکستانی پیپلز پارٹی (پی پی پی) کیے چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف علی زردای کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو بھی جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں طلب کرلیا گیا۔

نیب ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو ٹھٹھہ اور دادو کی شوگر ملز کے حوالے سے پوچھ گچھ کے لیے 27 مارچ کو طلب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ نے پی پی پی قیادت کے خلاف اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جس کی مرتب کردہ رپورٹ کی روشنی میں نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کو طلب کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹ کیس گزشتہ ہفتے کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگیا ہے اور اتفاق سے راولپنڈی نیب کے سربراہ عرفان نعیم منگی ہیں جو جے آئی ٹی کے رکن بھی تھے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ نے 2013 میں ٹھٹھہ کی سرکاری شوگر ملز اومنی گروپ کے 12 لاکھ 75 کروڑ روپے میں فروخت کی تھی جبکہ اس کی قیمت اس وقت تقریباً 71 کروڑ 61 لاکھ روپے تھی۔

اس سے قبل 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نیب میں پیش ہوئے جہاں نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ان سے تین مقدمات کے حوالے سے 2 گھنٹے تک تفتیش کی۔

نیب نے مقدمات کے حوالے سے ایک تحریری سوالنامہ بھی دیا تھا اور ان سے 10 دن کے اندر سوالنامے کے جواب نیب راولپنڈی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔نیب اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ انکوائری براہ راست چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرنگرانی کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں