Daily Mashriq

پاکستان میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا امکان

پاکستان میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا امکان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کو تیل کے بڑے ذخیرے کی دریافت کی صورت میں ایک قسم کا جیک پاٹ ملنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دعا کریں کہ ایگزون موبل کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کی جانب سے کی جانے والی آف شور ڈرلنگ کے حوالے سے ہماری توقعات اور امیدیں سچ ثابت ہوجائیں۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ اس میں پہلے ہی 3 ہفتوں کی تاخیر ہوچکی ہے لیکن ہمیں کمپنیز کی جانب سے ملنے والے اشارے اگر قابلِ عمل ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہمارے سمندر میں ایک بڑا ذخیرہ دریافت ہوسکتا ہے اور اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان ایک یکسر مختلف درجے میں ہوگا۔

سینئر صحافیوں اور اخبارات کے مدیران سے ایک غیر رسمی ملاقات میں انہوں نے آفشور ڈرلنگ کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اور نہ ہی اس حوالے سے ایگزون موبل اور تیل دریافت کرنے والی بین الاقوامی کمپنی ای این آئی کی جانب سے اب تک کوئی باقاعدہ بیان سامنے آیا ہےجو جنوری سے تیل کی تلاش کے لیے کیکڑا-1 علاقے میں 230 کلومیٹر تک انتہائی گہری کھدائی کررہی ہے۔

خیال رہے کہ ایگزون موبل تقریباً ایک دہائی بعد گزشتہ برس ہونے والے اُس سروے کے بعد پاکستان مں واپس آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی سمندر میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ ہوسکتا ہے۔

اس لیے وزیراعظم عمران خان کو یقین ہے کہ اگر تیل کے ذخائر دریافت ہوگئے تو پاکستان کے زیادہ تر اقتصادی مسائل حل ہوجائیں گے اور پھر ملک کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

اپنی حکومت کو درپیش چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں اقتصادی استحکام لانا اب بھی سب سے پڑا چیلنج ہے۔

اس موقع پر انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاجروں کو خوفزدہ کر کے دور کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہم پالیسی میکنگ اختیارات دوسرے ادارے کو منتقل کرنے پر مجبور ہوگئے اور ایف بی آر کو صرف ٹیکس جمع کرنے تک محدود کردیا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اداروں کو مضبوط کرنا اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا بھی اہم مسائل ہیں جس کے لیے حکومت کی اعلان کردہ ہاؤسنگ اسکیم کچھ حد تک مددگار ثابت ہوگی۔

اس کے ساتھ انہوں نے دہشت گردی کی روک تھام اور ’جہادی کلچر‘ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کی اس دوران ان سے امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تنہا نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت دنیا میں کوئی ملک اپنی مرضی سے نجی ملیشیاز کو کام کرنے اجازت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف پلوامہ حملے کے بعد جیشِ محمد کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے بیان پر بھارت پاکستان پر غلط الزامات لگا رہا ہے تو دوسری طرف ایران بھی شکایت کررہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ہماری سرزمین کا استعمال کر کے حملے کررہی ہیں۔

وزیر اعظم نے جہادی تنظیموں کے ماضی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کی سربراہی میں سوویت یونین کے خلاف ہونے والی افغان جنگ سے موجود ہیں او یہاں دہائیوں سے سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں اس قسم کی تنظیموں کی کوئی گجنائش نہیں کیوں کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا اس بات پر یقین کرے کے پاکستان نہ صرف امن پسند ملک ہے بلکہ مختصر اور طویل مدتی پالیسیوں کی بدولت ’جہادی‘ کلچر اور دہشت گردی ختم کرنے کے لیے بھی مخلص ہے۔

ملاقات کے اختتامی لمحات میں وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی مدت میں توسیع کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میں نے ابھی اس بارے میں سوچا تک نہیں، نومبر ابھی بہت دور ہے‘۔

متعلقہ خبریں