Daily Mashriq


بھارت کی اسلحہ کی دوڑ شروع کرنے کی سعی

بھارت کی اسلحہ کی دوڑ شروع کرنے کی سعی

بھارتی عزائم کا جواب دینے کیلئے سیاسی وعسکری قیادت کا اہم اجلاس خاص طور پر توجہ کا حامل ہے جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے مسلح افواج سے متعلق پیشہ وارانہ امور سمیت ملکی سلامتی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں جنرل زبیرمحمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفرمحمود عباسی شامل تھے۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ بھارت کو پہلے بھی امن مذاکرات کی دعوت دی اب بھی دیتے ہیں، قوم کو مسلح افواج کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے، ہم اپنی دفاع کا حق آئندہ بھی استعمال کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی پاک فوج کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات اور صلاح ومشورہ معمول کی ملاقات اور مشاورت نہیں بلکہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب پاک بھارت کشیدگی بظاہر رک جانے کے باوجود جاری ہے۔ بھارتی فوج کو اور خاص طور پر انڈیا کی فضائیہ کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد بھارتی حکومت اور فوج کی ساری توجہ جدید اسلحہ کے حصول کی جانب مبذول ہے اور ایسا ہونا اس لئے بھی فطری امر ہے کہ ہر ملک کو اپنی سلامتی کی سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے۔ بھارت پر جنگی ہتھیاروں کے حصول کا جنون ہر وقت طاری رہا ہے جس میں حالیہ حالات کے بعد مزید شدت آگئی ہے۔ بھارتی فضائیہ نے اپنی حکومت سے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بھارتی فضائیہ کو فوری طور پر بھاری ہتھیاروں کی نقل وحمل کیلئے چینیوک ہیلی کاپٹرز اور میزائل لیکر دیئے جائیں۔ بھارتی فوجی قیادت نے فوری طور پر لائن آف کنٹرول پر تعینات فوجیوں کو جدید سنائپر رائفل بھی فراہم کر دیئے ہیں۔ بھارتی فوج ہنگامی بنیادوں پر فوج کو گولہ بارود بھی مہیا کر رہی ہے۔ چنیوک ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا بھارتی فوج کا مطالبہ نیا نہیں بلکہ اس کی تجویز اس سے پہلے2006ء میں دی گئی تھی۔ بھارت کی ساری تیاریوں کا محور بھاری اسلحہ اور بڑے پیمانے پر فوجیوں کو پاک چین سرحدوں پر سرعت سے پہنچانے کی تیاری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دشمن کو تیاریوں سے نہیں روکا جاسکتا خاص طور پر اگر دشمن زخم خوردہ ہو اور اس کی قیادت جنونیوں کے ہاتھ میں ہو۔ حالیہ دنوں میں بھارتی فوج کے اسلحہ اور تیاریوں پر جو سخت تنقید سامنے آئی اور جو صورتحال بتائی گئی اس کے بعد بھارتی حکومت اور فوجی قیادت کے پاس ان تیاریوں کا عندیہ دینے بلکہ ان ہتھیاروں کے حصول کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ بھارت اسلحہ کے انبار لگانے کی سعی میں ہے لیکن یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ بھارت کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ وہ جدید سے جدید اسلحہ کے ڈھیر لگائے اور پاکستان سمیت علاقے کے ممالک پر نفسیاتی طور پر حاوی ہونے کے جنون کی تسکین کرے۔ ان کا یہ خیال خام اس وقت ثابت ہوا جب دھمکاتے دھمکاتے بھارتی قیادت نے اپنی فضائیہ کو غلطی کا حکم دیا جس کی تاک میں بیٹھے پہلے سے تیار پاکستانی شاہینوں نے بھرپور جواب دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کی ان جنگی تیاریوں کے تناظر میں پاکستان کو اپنی دفاع پر مزید توجہ اور مصارف میں اضافہ پر سوچنا ہوگا۔ اگرچہ پاکستان نے بھارت کے گرفتار جنگی پائلٹ کو بحفاظت بھارت کے حوالے کر کے اپنی طرف سے کشیدگی میں کمی لانے کی سعی کی جس کا بین الاقوامی طور پر اعتراف اور خیرمقدم کیا گیا مگر بدقسمتی سے بھارت جیسے ملک کیساتھ اس قسم کا سلوک ایک ہاتھ سے تالی بجانے کے مترادف ثابت ہوا۔ بھارت بجائے اس کے کہ اپنی ہی جارحیت کی کوشش کی ناکامی کے باوجود پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کی حوالگی پر مثبت ردعمل کا مظاہرہ کرتا اور علاقے میں امن واستحکام کو خطرے میں نہ ڈالتا، اُلٹا وہ جنگی جنون کا مظاہرہ کر رہا ہے جس سے جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو بھارت کے حصول اسلحہ کی جنون کی وجہ صرف پاکستان سے ہی نہیں بلکہ بھارت چین سے بھی بلاوجہ خطرہ تصور کرنے کے خوف کا شکار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے حالات کے خطے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے جس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئے بلکہ بھارت اور چین کے درمیان بھی مکالمہ ہونا چاہئے جس میں مقبوضہ کشمیر سمیت بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات جیسے تمام امور کو اس سنجیدگی کیساتھ زیربحث لایا جائے کہ یہ مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہوسکیں اور خطے میں نہ تو اسلحہ کا انبار لگانے کی ضرورت پڑے اور نہ ہی خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کا کوئی امکان باقی رہے۔ اس ضمن میں عالمی برادری اور سب سے زیادہ اقوام متحدہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء میں کشیدگی کے خاتمے اور پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

متعلقہ خبریں