Daily Mashriq


پہلے لانچنگ‘ پھر سافٹ اور اب ٹیسٹ لانچنگ

پہلے لانچنگ‘ پھر سافٹ اور اب ٹیسٹ لانچنگ

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت کا اپوزیشن کے مطالبے سے انکار کرتے ہوئے بی آر ٹی منصوبہ کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے سے معذرت پر سوال جنم لے سکتے ہیں جن کا جواب دینا حکومت کیلئے مشکل ہوگا۔ ایک مرتبہ اتفاق کے بعد اگلی مرتبہ انکار قول وفعل کا تضاد ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ گزشتہ اجلاس میں صوبائی وزراء شہرام خان ترکئی اور سلطان محمد خان نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ بی آر ٹی منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن سے متعلق قومی احتساب بیورو تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اپوزیشن کو بھی مذکورہ منصوبے پر اعتراض ہے جبکہ شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس ساری صورتحال کا پارلیمانی کمیٹی میں جائزہ لینے پر حکومت کو معترض اسلئے نہیں ہونا چاہئے کہ اگر کوئی چیز مخفی نہیں اور حکومت کو کسی قسم کا خوف نہیں اور حکومت ایوان میں اس پر بحث کا عندیہ بھی دیتی ہے تو پھر پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات میں حرج کیا تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے بھی پانامہ لیکس کے معاملے میں اس سے ملتا جلتا رویہ اختیار کیا گیا تھا جس کے نتائج اچھے نہ نکلے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شکوک وشبہات کے ازالے اور عوام کو مطمئن کرنے کیلئے جن اقدامات کا حزب اختلاف مطالبہ کرے اس میں تامل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ بی آر ٹی کے افتتاح کے حوالے سے بھی حکومت کو تنقید اور مشکلات کا ہونا اسلئے فطری امر ہے کہ اولاً اس کے مکمل افتتاح کی تاریخ دی گئی پھر اس میں تبدیلی درتبدیلی ہوتی رہی پھر سافٹ لانچنگ کا عندیہ دیا گیا اور اب جبکہ افتتاح میں آج کا دن ہی باقی ہے تو ٹیسٹ لانچنگ کی بات ہو رہی ہے۔ اگر مکمل لانچنگ بھی ہو جائے تو چلانے کیلئے بسیں نہیں۔ اس قسم کی صورتحال میں بھی خیبر پختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور دیگر اداروں کو بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت 23مارچ کو بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کا ہر حال میں افتتاح کرے گی۔ جملہ صورتحال کے جائزے سے اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں کہ صوبائی حکومت خود اس حوالے سے غیریقینی اور مخمصے کا شکار ہے اور یہی وہ بنیادی کمزوری ہے جس کے باعث حکومت اس منصوبے کے باعث کٹہرے میں کھڑی ہے۔ اگر منصوبے کا افتتاح ممکن نہیں، بسوں کی آمد میں بھی وقت باقی ہے، روٹ کی تکمیل اور دیگر ضروریات کی تکمیل ابھی ممکن نہیں تو زیادہ بہتر یہی ہوگا کہ اس حوالے سے الٹ پھیر کے بیانات کی بجائے حکومت کوتاہی کا اعتراف کرے تاکہ مزید تنقید اور جگ ہنسائی سے بجا جاسکے۔

غیرمتعین جگہوں پر ڈمپنگ سائٹ کا سنگین مسئلہ

وزیربلدیات شہرام خان ترکئی کی جانب سے پی ڈی اے حکام کو پشاور کے مختلف علاقوں میں موجود کچرا فوری طور پر اُٹھانے اور غیرمتعین ڈمپنگ سائٹس کے خاتمے کی ہدایت سنجیدہ اور فوری طور پر عمل درآمد کا متقاضی ہے۔ پشاور میں ڈمپنگ سائٹ کا مسئلہ گزشتہ دور حکومت سے لاینحل چلا آرہا ہے حکومت کی کوششوں کے باوجود کوڑا کرکٹ پھینکنے کیلئے کوئی بھی جگہ دینے کو تیار نہیں لیکن اس کا حل غیرمتعین سائٹس پر کوڑا کرکٹ پھینک کر لوگوں کو مشکلات کا شکار بنانے میں نہیں۔ کچھ عرصہ حیات آباد کا کوڑا کرکٹ ضلع خیبر کے کسی علاقے میں پھینکنے کی شنید تھی جبکہ اس وقت حیات آباد کا کچرا فیزٹو اور الحرم ٹاؤن کے درمیان برساتی نالے میں پھینکا جارہا ہے جس سے اردگرد کا علاقہ نہ صرف تعفن کی زد میں ہے بلکہ ماحول بھی آلودہ ہو رہا ہے اور مکھیوں ومچھروں کی ایک فوج تیار ہونے کا اندیشہ ہے۔ کسی بھی شہری علاقے میں اس قسم کی بے احتیاطی اور بیدردی سے غیرقانونی طور پر کچرا پھینکنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جس کا مظاہرہ دن دیہاڑے دیکھنے میں آتا ہے۔ وزیر بلدیات اور وزیرماحولیات کو اس قسم کی غیرقانونی اور مفاد عامہ کیخلاف اقدام کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آبادی کے عین وسط میں کچرا نہ پھینکا جائے اور کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا مناسب بندوبست کیا جائے۔

کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ ، جلد روک تھام کی ضرورت

خیبر پختونخوا حکومت کا صوبہ بھر میںکم عمر بچوں کی ڈرائیونگ سے متعلق والدین میں آگاہی مہم شروع کرنے اور والدین کو ذمہ دار قرار دیکر ان کیخلاف کارروائی کا فیصلہ جلد سے جلد عملدرآمد کا متقاضی عمل اس لئے ہے کہ بچوں کی زندگیاں بچانے، ماں باپ کی فکرمندی دور کرنے اور عوام کا سکھ چین غارت کرنے والوں کو جتنا جلد سمجھایا اور روکا جاسکے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں