Daily Mashriq

بہت کچھ ہوا ہے

بہت کچھ ہوا ہے

پی ٹی آئی کی حکومت کے دوسو دن پورے ہو چکے ہیں اس مدت میں پی ٹی آئی نے فلاح بہبود اور اصلاحی بہت سار ے کام کئے ہیں، لیکن ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے چنانچہ ناقدین تنقید درتنقید کئے جارہے ہیں، وہ اسی میں مگن ہیں کہ عوام کو تاثر دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے گزشتہ دوسو دنوں سے صرف کشکول ہی پکڑا ہوا ہے اس کے علاوہ ان کی کارکردگی صفر ہی ہے، ایسا نہیںہے کھلی آنکھ سے جائزہ لینا چاہئے۔ نقاد فرماتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے عرصۂ اقتدار کے دوسو دنوں میں چار سو سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کو بند کر دیا، کیا یہ تبدیلی نہیں ہے تو کیا ہے۔ گیس ٹیرف میں ایک سو ترتالیس فیصد گھریلو صارفین کیلئے، برقی ٹیرف دو اعشاریہ سات روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا، یہ ان کو یاد نہیں ہے کہ گزشتہ روز ہی وزیراعظم نے اعلان فرمایا ہے کہ گیس ٹیرف میں ترتالیس فیصد اضافہ قبول نہیں کیا جائے گا، ہاں البتہ یہ علم نہیں کہ یہ اضافہ کون کر رہا ہے جو وزیراعظم کو قبول نہیں ہے، رپورٹ کے مطابق غیرملکی ذخائر میں ایک اعشاریہ پچہتر بلین ڈالر کی کمی ہوئی ہے، یہ بھی کارکردگی کا حصہ ہی تو ہے۔ یہ اعتراض بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ ایک سو اٹہتر بلین ڈالر منی بجٹ میں ٹیکس لاگو کیا گیا، اب معترضین کو ایک طرف اعتراض ہے کہ ترقیاتی منصوبے بند کر دیئے، جب پیسہ نہ ہوگا تو پھر ان کو تو بند ہونا ہے اور جب پیسوں کیلئے ٹیکس لگایا جاتا ہے تو ہائے وائے شروع کردی جاتی ہے، اگر گزشتہ سال کے مقابلے میں قرضے کا حجم دوگنا ہوا ہے تو قومی خزانہ کو بھرنے کیلئے قرض تو چاہئے تھا اور اس کیلئے اگر روپے کی قدر کھو دی تو اس میں پی ٹی آئی کون سی قصوروار ہے جب کرنسی کی قدر گرے گی تو قرضے کا حجم تو بڑھے گا، سرکلر قرض ایک اعشاریہ ایک سے ایک اعشاریہ چھ تک چلا گیا یہ پاکستان کی تاریخ کا تیز ترین اضافہ ہے، گزشتہ آٹھ ماہ میں برآمدات میں دوفیصد اضافہ کو بھی یہ ترقی نہیں مانیں گے، یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ مالی سال میں تیرہ فیصد برآمدات بڑھی تھیں، نقاد یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مالی سال کے آخر تک چھ لاکھ پاکستانی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے، ساتھ ہی یہ خطرناک خبر بھی سناتے ہیں کہ خراب معیشت کی وجہ سے تقریباً چار لاکھ پاکستانی خط غربت سے بھی نیچے چلے جائیں گے۔محولہ تبدیلیوں کے علاوہ بھی پی ٹی آئی کی طرف سے قابل ستائش تبدیلی آئی ہے، وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے13مارچ2019ء سے نافذالعمل، نیب کے ملازمین کو درج ذیل مراعات کی منظوری دی ہے۔ 1)جاری بنیادی تنخواہ کے60فیصد کے مساوی ماہانہ انوسٹی گیشن الاؤنس۔ 2)فکسڈ ڈیلی الاؤنسز ماہانہ۔ 3)ہاؤس رینٹ سیلنگ بشمول تنخواہ۔19مارچ کو نیب کی جانب سے جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت کی جانب سے منظور کئے جانے والے الاؤنسز درج ذیل سے مشروط ہوں گے۔ 1)پہلے اور دوسرے نمبر پر متذکرہ الاؤنسز ہر طرح کی رخصت کے دوران بھی قابل وصول ہوں گے ماسوائے غیرمعمولی رخصت۔ 2)ماہانہ20 ڈیلی الاؤنس صرف اسی صورت ملیں گے جب پورے مہینے خدمات انجام دی گئی ہوں جو ملازم مہینے میں10روز سے زیادہ جتنے دن چھٹی کرے گا اس کے اتنے الاؤنسز کی رقم20ڈیلی الاؤنسز میں سے منہا کر دی جائے گی۔ یہ تو چند ایک ہیں دیگر ڈھیر سارے فوائد نیب کے ملازمین کو دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، کیا یہ فلاح وبہبود کا کام نہیں ہے کہ اس مہنگائی جس میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ اس ملازمین کو جو ملک کیلئے انتہائی اہم اور مشکل کام انجام دے رہے ہیں، اور قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کیلئے بلاتشخیص دن رات پکڑ دھکڑ میں مصروف ہیں اس پر بھی یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ جن مراعات کا اعلان کیا گیا ہے وہ دراصل سیاسی رشوت ہے کیونکہ دیگر سرکاری ملازمین بھی اسی مہنگائی کی چکی میں پسے جا رہے ہیں جس میں مراعات یافتہ اداروں کے ملازمین ہیں۔نیب کے ملازمین بھی جانفشانی سے قومی دولت نکلوانے کیلئے کام کر رہے ہیں یہ مشکل کام ہے، تاہم پاکستان میں سیکورٹی اداروں کا رویہ ایک جیسا ہے کہ وہ اگر کسی کو پکڑ لیں تو ہر حالت میں وہ یہ ثابت کرنے کے سینکڑوں جتن کرتے ہیں کہ ان کی پکڑ صحیح ثابت ہو جائے ایسی پکڑ کو اللہ کی پکڑ بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم اس کیلئے حکومت ہی ذمہ دار ہے کیونکہ بہرحال یہ حکومتی ادارے ہیں اور ان کی کارکردگی کو انصاف کے تقاضوں میں ڈھالنا حکومت وقت ہی کا کام ہے یہ کوئی عذر نہیں ہے کہ یہ گزشتہ حکومت کی نااہلی کا شاخسانہ ہے، عوام جب کسی کو منتخب کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہی ہوتا ہے کہ اب وہ اپنا اعتماد اور حکومتی ذمہ داریاں نئے منتخب حکومت کو سونپ رہے ہیں۔ سرکاری اداروں کی کیا کارکردگی ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سانحۂ ساہیوال کو ساٹھ روز سے زیادہ ہو گئے ہنوز متاثرین کو انصاف نہ مل سکا، سانحۂ ماڈل ٹاؤن پر عمران خان کی مہم یہ تھی کہ پولیس بغیر کسی کے حکم پر گولی یا لاٹھی چارج نہیںکرتی چنانچہ حکم دینے والے کو بھی سامنے لایا جائے ظاہر ہے کہ سانحۂ ساہیوال میں بھی پولیس نے گولی کسی کے حکم پر چلائی ہوگی، کس کا حکم تھا اب تک اس کے چہرے سے نقاب نہیں اُلٹا۔ پنجاب کے وزیرقانون نے یہ کہا ہے کہ ساہیوال کا سانحہ سی ٹی ڈی اور ایجنسیوں کا مشترکہ عمل تھا اس بیان کی روشنی میں وفاقی حکومت آنکھ نہیں چرا سکتی ہے۔ ساہیوال سانحہ کی طرح المناک سانحہ بریگیڈیر (ر) اسد منیر کا ہے فرق یہ ہے کہ ساہیوال کے بیگناہ خاندان کی جانیں سرکاری اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بنیں اور اسد منیر جیسے نیک سعید، دانشور، تجزیہ نگار اور اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دینے والے نے سرکار کے محکمے کے اہلکاروں کے ہاتھوں کسی انجام تک پہنچنے کی بجائے خود فیصلہ کرلیا، لیکن توجہ طلب بات یہ ہے کہ خود کا فیصلہ اپنی وجہ سے نہیں بلکہ سرکاری اہلکاروں کی وجہ سے رونما ہوا اس پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں