Daily Mashriq

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اُتر جانا

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اُتر جانا

بھارت کو زعم ہے کہ وہ دریاؤں پر بند باندھ کر ہمارا پانی روک دے گا اور ہمیں فکر ہے کہ اگر بھارت کا یہی رویہ رہا تو خاکم بدہن ہم آنے والے چند برسوں میں پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگیں گے۔ اللہ نہ کرے ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو لیکن ایسی صورتحال پیدا ہو بھی سکتی ہے جس کے متعلق گزرتا وقت ہمیں باربار تنبیہہ کر رہا ہے کہ اب بھی سنبھل جاؤ اور پانی کو ذخیرہ کرنا شروع کردو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو 2025 تک تمہارے دریا خشک ہوجائیں گے۔ تمہاری زمینیں بنجر ہونے لگیں گی۔ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں، اگر ہم کھانا کھائے بغیر 21دن تک زندہ رہ سکتے ہیں تو پانی کے بغیر ہم زیادہ سے زیادہ تین دن تک زندہ رہ سکیں گے، ہمارے کرۂ ارض پر پانچ حصہ پانی ہے اور ایک حصہ خشکی، اتنا زیادہ پانی ہونے کے باوجود ہم پانی پانی کر رہے ہیں کہ عہدحاضر کی یزیدیت ہم سے ہمارے حصے کا پانی چھین رہی ہے، ہم ایک زندہ اور آزاد قوم ہیں، ہم نے ملک کے گوشے گوشے میں برسنے والی بارش کے پانی کو دریاؤں میں بہہ کر غرق بحر بے کراں ہونے سے روکنا ہے جس کیلئے ہم نے نعرۂ قلندرانہ لگا کر ڈیم بنانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے، اگر جذبہ ثابت ہو تو محب الوطن پاکستانی

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے

منزل کی طرف دوگام چلوں تو سامنے منزل آجائے

ہر مشکل کو آسان اور ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں، نہایت مختصر عرصہ میں پاکستانیوں کا 10ارب ڈالر جمع کر لینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہم ملکر ملک کی تعمیر اور اس کی بقاء کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ پانی ہماری بنیادی ضرورت ہے، ہمارے کھیتوں کی ہریالی، ہمارے جنگلات، یہ باغر اور جشن بہاراں، یہ بزم شعر وطرب ہو، اور یہ محفل یاراں، پانی کے دم پانی کے ہی دم قدم سے ہے، کہتے ہیں مریخ پر زندگی کے امکانات اسلئے موجود ہیں کہ وہاں پانی کی موجودگی کے آثار ملے ہیں، پانی کے حوالہ سے یہ سب باتیں اسلئے کر رہا ہوں کہ آج مارچ کے مہینے کی بائیس تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں پانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اب سے چند گھنٹوں کے فاصلہ پر ہیں وہ لمحات جن کو ہم یوم استقلال کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں، یوم پاکستان بھی کہتے ہیں اور یوم قرارداد پاکستان کے حوالہ سے بھی جانتے ہیں، 23مارچ کا دن ہم کو یاد دلاتا ہے کہ اس دن ہمارے پرکھوں نے دو قومی نظریات کی بنیاد پر مملکت خداداد پاکستان کے حصول کی منزل کا تعین کرکے جس سفر کا آغاز کیا تھا، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم نے وہ منزل حاصل کرلی، لیکن ہماری آزادی کا دشمن ہم سے ہماری آزادی چھیننے کیلئے جو جو حربے استعمال کرتا رہا، اس میں ہمارے دریاؤں کے پانی کا رخ موڑنا بھی اس کے ناپاک ہتھکنڈوں میں شامل ہے، اگر بھارت ہماری آزادی کا دشمن ہے تو چین کو ہماری ضرورت ہے۔ وہ ہم کو اپنا بازوئے شمشیر زن سمجھ کر ہمارے ساتھ دوستی کے رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ وہ ہر آڑے وقت میں پاکستان کا آزمودہ اور قابل اعتماد ساتھی ثابت ہوتا رہا ہے۔ مگر سچ تو یہ بھی ہے کہ دشمن کی نیت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے کمزور سمجھنے کی حماقت کرنی چاہئے وہ دشمنی کرنے میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ ماضی بعید، ماضی قریب اور عہد حاضر میں بھی ہم سے کئی حوالوں سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت کا یہی رویہ رہا ہے جو اس بات کی تنبیہہ کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کی سرزمین کو سرسبز وشاداب کرنے والے دریاؤں کے پانی کا رخ موڑ دے گا۔ وہ ایسا کر چکا ہے اور ایسا کرتا رہے گا کیونکہ پاکستان میں بہنے والے بیشتر دریا بھارت یا کابل سے ہوکر پاکستان پہنچتے اور دریائے سندھ میں گرتے ہیں،

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤں گا

کے مصداق پاکستانی دریاؤں کا سارا پانی سمندر میں اُترنے کے بعد پانی میں مل کے پانی، انجام یہ کہ فانی کی روایت پوری کرتے ہوئے سمندر میں ڈوب کر سمندر ہو جاتا ہے مگر ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ عہدحاضر کا یزید ہمارے پانی کو لاکھ روکنے کی کوشش کرے سمندر کی سطح سے آبی بخارات بن کر، فضا میں بلند ہوکر لاکھوں میلوں کی مسافت طے کرکے بادلوں کی صورت ہم تک پہنچنے والا ہمارے حصہ کا پانی ہم تک ضرور پہنچتا ہے، کل کی بات نہیں آج اور ابھی جب یہ سطور کالم کے سانچے میں ڈھلنے کیلئے لکھی جارہی ہیں، آسمان پر پھیلی گھنگور گھٹا رحمت خدا وندی بن کر سرزمین پاکستان پر اُتر رہی ہے۔ میدان اور نشیبی علاقے بارش کے پانی سے جل تھل ہوچکے ہیں، آسمان سے اُترنے والا یہ پانی برساتی ندی نالوں سے گزر کر ان دریاؤں میں جا گرتا ہے جو شور مچاتے دریائے سندھ کے جلو میں بہتے سمندر کی جانب بڑھتے رہتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ آسمان سے اُترنے والا یہ پانی من وسلوا سے کم نہیں، ہم نے آج پانی کا عالمی دن مناتے وقت اس بات کا عہد کرنا ہے کہ دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے آسمان سے اُتر کر دریاؤں میں بہنے والے پانی کو ڈیم بنا کر روکنا ہے، اگر خدا نخواستہ ہم ایسا نہ کرسکے تو کہتے رہ جائیں گے کہ

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اُتر جانا

متعلقہ خبریں