Daily Mashriq


اتحاد میں انتشارکا خطرہ

اتحاد میں انتشارکا خطرہ

اس وقت ہندوستانی سیاست میں اتحاد سبھی کیلئے اہم ضرورت بن گیا ہے چاہے وہ حکمران جماعت بی جے پی ہو یا اپوزیشن ہو۔ بی جے پی بھی اس وقت اپنے آپ کو بے انتہا کمزور محسوس کررہی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس کا کم وبیش ایک درجن چھوٹی بڑی پارٹیوں کیساتھ گزشتہ پانچ برسوں سے اتحاد ہے اور ان کی شرائط پر وہ کام کرتی آرہی ہیں۔ غالباً اپوزیشن کے دماغ میں بھی یہ بات آئی کہ سال بھر قبل وہ اس اتحاد پر سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون کس کس پارٹی کا اتحادی ہو جس سے کہ بی جے پی کو آسانی سے شکست دی جاسکے لیکن اس میں بھی یہ پیچ پھنس رہا تھا کہ اس اتحاد کے نتیجے میں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ بی جے پی کو شکست دیتے دیتے ہمارا وجود خود ہی ختم ہو جائے۔ پھر اس اتحاد اور دشمن کی شکست سے ہمارا کیا فائدہ؟ یہ سب سے بڑا سوال بن کر بی ایس پی کے سامنے کھڑا ہو گیا کیونکہ گزشتہ انتخابات میں اس کی حالت سب سے زیادہ خراب ہوئی تھی۔ ان وجوہ کی بنا پر اپوزیشن جماعتوں میں غور وخوض شروع ہوا تو ملک کی تقریباً سبھی سیکولر جماعتوں نے یہ طے کیا کہ ہمارا اتحاد انتہائی ضروری ہے ورنہ بی جے پی جس طرح کی مذہبی منافرت اور علاقائیت کو ہوا دیکر اقتدار پر قبضہ کررہی ہے اس سے کوئی بھی سیکولر جماعت بچ نہیں پائے گی۔ اس کے باوجود بھی سیکولر جماعتوں میں ایک دوسرے کیخلاف انجانا خوف کام کرتا رہا جس کی بنا پر ترنمول کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں کسی طرح سے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں تھیں تو اسی طرح بی ایس پی اور کانگریس ایک دوسرے سے دوری بنائے ہوئے تھیں کیونکہ بی ایس پی اور کانگریس کے روایتی ووٹ تقریباً ایک ہی تھے۔ دلت اور مسلمان۔ بابری مسجد قضیہ ابھرنے کے بعد کانگریس نے جو کھیل شروع کیا اس سے مسلمانوں کا بھروسہ کانگریس سے اُٹھ گیا اور وہ بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی کی طرف چلے گئے۔ رہی بات دلتوں کی تو وہ کانشی رام کی برسوں کی محنت کے بعد ایک اپنا پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب ہوگئے اور بہوجن سماج پارٹی نے انہیں وہ وقار بخشا جس کے وہ متمنی تھے لیکن درمیان میں بی ایس پی، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی سے اتحاد اور نااتفاقیوں نے ایک بار پھر دلت سماج کو تنہا کر دیا جس کا فائدہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے خاموشی کیساتھ اُٹھا لیا۔ اب جب پھر اتحاد کی بات چلی تو مایاوتی کسی طرح بھی کانگریس کیساتھ اتحاد پر تیار نہیں تھیں۔ اترپردیش میں کانگریس نے ایس پی، بی ایس پی، آر ایل ڈی اتحاد کیلئے7سیٹیں چھوڑنے کا اعلان کیا تو مایاوتی نے صاف کہہ دیا کہ کانگریس زبردستی یوپی میں اتحاد کیلئے7سیٹ چھوڑنے کا واہمہ نہ پھیلائے۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی ایک بار پھر صاف کہہ دینا چاہتی ہے کہ اترپردیش سمیت پورے ملک میں کانگریس پارٹی سے ہمارا کسی بھی طرح کا تال میل اور اتحاد بالکل نہیں ہے۔ اس کیساتھ ہی انہوں نے صاف کہا کہ ہمارے لوگ کانگریس پارٹی کے آئے دن پھیلائے جا رہے قسم قسم کے مغالطے میں قطعی نہ آئیں اب کانگریس اترپردیش میں بھی مکمل طور پر آزاد ہے کہ وہ یہاں کی تمام80 سیٹوں پر اپنی مرضی سے اپنے امیدوار کھڑا کرکے اکیلے انتخابات لڑے۔ ہمارا اتحادا اترپردیش میں بی جے پی کو اکیلے ہی شکست دینے کیلئے مکمل طور پر اہل ہے۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے بعد ایس پی صدر اکھلیش یادو نے بھی کانگریس کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ اترپردیش میں ایس پی۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی کا اتحاد بی جے پی کو شکست دینے کے قابل ہے۔ کانگریس پارٹی کسی قسم کی کنفیوژن پیدا نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اتحاد بی جے پی کو شکست دینے کے قابل ہے۔ ان بیانات اور سیاسی اتار چڑھاؤ سے اب یہ خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے کہ سیکولر ووٹوں میں کہیں انتشار نہ پیدا ہو جائے کیونکہ جس طرح کانگریس نے پرینکا گاندھی کو کل ہند جنرل سیکریٹری کا عہدہ دیکر مشرقی یوپی کی زمام ان کے ہاتھ میں تھما دی ہے تو اس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس علاقہ کے دلت پسماندہ اور اقلیتی ووٹوں کو آسانی سے پرینکا اپنی جانب کھینچ سکتی ہیں۔ مشرقی یوپی وہ علاقہ رہا ہے جو کبھی کانگریس کا مضبوط قلعہ مانا جاتا تھا لیکن یہ علاقہ دوسری پارٹیوں کے ہاتھ میں جانے کے بعد انتہائی پسماندہ ہوتا چلا گیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بنارس جیسی پارلیمانی سیٹ جو وزیراعظم نریندر مودی کا حلقہ ہے وہاں کے عوام میں زبردست بے اطمینانی پائی جاتی ہے اور سب سے زیادہ وہی مودی کے شاکی ہیںکہ انہوں نے کیا کچھ نہیں صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے اور5برس تک سیاسی جملے بازی سے اپنا کام چلا لیا ایسے میں بنارس کے آس پاس کی پارلیمانی سیٹیں بھی بری طرح اپوزیشن کی جھولی میں جانے کیلئے بے قرار ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو کون کتنی آسانی سے اپنی طرف کھینچ لیگا کیونکہ ابھی تک بی ایس پی، سماج وادی پارٹی اور آر ایل ڈی کے اتحاد نے یہاں انتخابی مہم شروع نہیں کی ہے جبکہ پرینکا گاندھی کئی دورے کر چکی ہیں۔ ایسے میں خطرہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ سیکولر ووٹ کہیں منتشر نہ ہو جائیں اور ایک بار پھر سیکولرزم کیخلاف فرقہ پرستوں کا محاذ بازی نہ مار لے جائے۔

متعلقہ خبریں