Daily Mashriq

دنیا بھر میں جان بوجھ کر اسلاموفوبیا کی ترغیب دی گئی، عمران خان

دنیا بھر میں جان بوجھ کر اسلاموفوبیا کی ترغیب دی گئی، عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے نتیجے میں مسلمانوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا گیا اور کرائسٹ چرچ کا واقعہ بھی اسلامو فوبیا کا نتیجہ ہے۔

اسلام آباد میں ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان ہمارے لیے اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کو مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور ان کے قائدانہ کردار کے معترف ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا مسلم دنیا کے لیے ماڈل کے طور پر ابھرا اور اس نے مسلم دنیا کے معاملات کو حل کرنے کےلیے کردار ادا کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بہت کم مسلم رہنما ایسے ہیں جنہوں نے ان معاملات پر موقف اپنایا جس نے مسلم دنیا کو متاثر کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اسلامو فوبیا نے مسلم امہ کو نقصان پہنچایا، مغرب میں اسلاموفوبیا پھیلا اور کسی بھی ایک مسلمان کی جانب سے کیے جانے والے جرم کو ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں سے جوڑا جانے لگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی نے اسلامی ممالک کو بہت متاثر کیا جبکہ دنیا بھر جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی، نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ بھی اسلامو فوبیا کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں دہشت گرد نے بے دردی سے مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ویڈیو بنائی جبکہ اس پر اسے کوئی افسوس بھی نہیں ہوا یہ سب اسلامو فوبیا کا نتیجہ ہے۔

کرپشن کے حوالے سے مہاتیر محمد کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری جماعت نے 22 سال قبل کرپشن کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک غریب نہیں ہوتا کرپشن اسے غریب کردیتی ہے، کرپشن سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں اور اس میں انسانی وسائل پر خرچ ہونے والی رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔

اس موقع پر ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے میں پاکستان اور ملائیشیا کی طویل دوستی میں نئے دور آنے پر بہت خوش ہوں اور ہمارا یہاں پرتپاک استقبال کیا گیا جبکہ یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کرنے باعث اعزاز ہے۔

مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی جبکہ پوری دنیا خاص طور پر مسلم دنیا کے امور بھی زیر غور آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے معاملات پر بات چیت کی جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اپنی تجارت بڑھائیں گے تو معیشت میں بہتری آئے گی۔

ملائیشیا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملاقات کے دوران براہ راست سرمایہ کاری پر بھی ہوئی ہے، ہم دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قوانین معلوم ہونے چاہئیں تاکہ تاجروں کو سرمایہ کاری میں آسانی ہونی ہو۔

بدعنوانی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں کرپشن پر بہت تحفظات ہیں، ہم غریب نہیں ہوتے کرپشن ہمیں غریب کردیتی ہے، جب ہم واپس اقدار میں آئے تو ہم نے کرپشن کے خاتمے کا عزم کیا اور ہم دونوں ممالک نے کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔

مسلم دنیا پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں کوئی ایک مسلم ملک کو ترقی یافتہ تصور نہیں کیا جاتا، تاہم ملائیشیا کا عزم ہے کہ 2020 سے 2025 تک ترقی یافتہ ملک بنیں، یہی نہیں دیگر مسلم ممالک کو بھی ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

سانحہ کرائسٹ چرچ پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں 9 پاکستانی اور 3 ملائیشن کو قتل کیا گیا اور یہ عمل اس نفرت کا ہے جسے پھیلایا گیا۔

ملائشین وزیر اعظم کے اعزاز میں گارڈ آف آنر

قبل ازیں ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کو دورہ پاکستان کے دوسرے روز وزیر اعظم ہاؤس میں باضابطہ طور پر استقبالیہ دیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر اعظم ہاؤس آمد کے موقع پر مہاتیر محمد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

اس موقع پر استقبالیہ تقریب کے دوران انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ ملائیشیا اور پاکستان دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔

جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد سے کابینہ اراکین کا تعارف کروایا۔

کابینہ اراکین سے تعارف کے بعد مہاتیر محمد کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا۔

خیال رہے کہ 21 مارچ کو ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اپنے 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے، جہاں نور خان ایئربیس پر عمران خان نے ان کا استقبال کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے والے مہاتیر محمد 23 مارچ کو یوم پاکستان پریڈ کے مہمان خصوصی ہوں گے۔

اس دورے کے دوران مہاتیر محمد کے ہمراہ 25 سے زائد ملائیشن کمپنیوں کے سربراہ، اعلی سطح وفد اور بڑے کاروباری افراد بھی ہمراہ ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان 80 سے 90 کروڑ ڈالر کے معاہدوں کا امکان ہے۔

مہاتیر محمد کے دورہ پاکستان کی مصروفیات میں صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ معاونین کے بغیر اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں شامل ہیں۔

دونوں وزرائے اعظم مختلف صنعتوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کے 'گول میز کانفرنس' سے بھی خطاب کریں گے، جنہوں نے پاکستان میں کار سازی اور مواصلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

متعلقہ خبریں